’جموں و کشمیر کے ڈومیسائل قوانین میں باہر کے لوگوں کیلئے کھڑکی کھلی ہے‘ تحفظات کیلئے لڑائی اور انتخابات ایک ساتھ نہیں لڑے جاسکتے: رگزن سپلبار

یو این آئی : لیہہ/لیہہ کے سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر اور سینئر کانگریس لیڈر رگزن سپلبار نے ضلع لیہہ کی مذہبی، سیاسی، سماجی اور طلبہ تنظیموں پر مشتمل اپیکس باڈی کی جانب سے دی گئی لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کی بائیکاٹ کال کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کی / جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
فراہمی کے مطالبات کے بیچ ان انتخابات میں حصہ لینا ایک مذاق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتخابات ہمارے اتحاد کو پارہ پارہ ہونے کے باعث بن جائیں گے۔ بقول ان کے آئینی تحفظات کی فراہمی کی لڑائی اور انتخابات ایک ساتھ نہیں لڑے جاسکتے۔ قبل ازیں موصوف لیڈر نے ایپکس باڈی سے اپیل کی تھی کہ وہ لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے اںتخابات شرکت نہ کرنے کا اعلان کریں۔رگزن سپلبار نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: 'میں نے ان انتخابات کا نوٹیفکیشن آنے کے پہلے دن ہی ان کے بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔ ایک طرف ہم چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف الیکشن لڑیں گے تو یہ مذاق ہوگا کیونکہ ابھی ہمیں کوئی تحفظ ہی نہیں ملا ہے'۔موصوف نے کہا کہ یہ انتخابات ہمارے اتحاد کو توڑنے کا باعث بن جائیں گے۔ان کا کہنا تھا: 'بڑی مشکل سے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے لوگ اس مسئلے پر متحد ہوئے ہیں، ہم نے مشکل سے بی جے پی کے مقامی یونٹ کو بھی اپنے فولڈ میں لایا ہے لیکن یہ انتخابات ہم کو بری طرح سے بانٹ دیں گے'۔جموں و کشمیر یونین ٹریٹری میں لاگو ڈومیسائل قوانین کے کے حوالے سے سپلبار نے کہا: 'یہ ڈومیسائل قوانین دوسری ریاستوں کے لوگوں کو جموں و کشمیر میں بسانے کی ایک کھڑکی ہے اور اگر ہم متحد ہوکر نہیں لڑیں گے تو یہی ہمارے ساتھ بھی کیا جائے گا'۔انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ لداخ میں حالات بہتر ہوئے ہیں یہاں اب بجلی، پانی وغیرہ جیسی سہولیات دستیاب ہیں جس کو دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آرہا ہے۔موصوف نے کہا کہ ہماری آبادی کشمیر کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے لہٰذا یہ لوگ ہمیں ایک ہی جھٹکے میں کھائیں گے اور ہمارے وسائل کو لوٹ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب کو چاہئے کہ یک جٹ ہو کر مقابلہ کریں۔قابل ذکر ہے کہ لداخ میں ضلع لیہہ نے گزشتہ برس جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے لداخ یونین ٹریٹری  کے لئے خصوصی درجے کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا اس کے برعکس ضلع کرگل میں دفعہ 370 و دفعہ 35 اے کی تنسیخ اور ریاست کی تقسیم کے خلاف احتجاج درج ہوا تھا۔یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں