فٹ بال کے کھیل میں کشمیر کا نام روشن کرنے والے کھلاڑی نظر انداز- بیشتر کنبوں کی حالت قابل رحم ، دیگر ریاستوں کی طرح وادی میں بھی راحتی اقدامات کی ضرورت پر زور

سرینگر؍اپنے نمائندے سے؍کشمیر میں فٹ بال کے کھیل کو غیر معمولی مقبولیت حاصل رہی ہے ۔ فٹ بال کے کھیل نے وادی کو بین الاقوامی شہرت کے حامل متعدد کھلاڑی دیتے ہیں۔ 1950میں یہاں فٹ بال کا باضابطہ آغاز ہوا۔ جس نے رفتہ رفتہ کھیل شائقین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ 1960اور 1970میں سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان فٹ بال کھیل سے وابستہ ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب حبیب پنزو کا نام فٹ بال کے کھیل سے جڑگیا وہ گول کیپر کی حیثیت سے کھیلتے تھے۔ وہ نا قابل تسخیر گول کیپر تصور کئے جاتے تھے۔ اس دوران عبدالغنی میدان بھی فٹ بال کی وجہ سے پہچانے جانے لگے ۔ جبکہ اس دوران محمد صدیق عرف صد کالہ بھی کھیل کے میدان میں متعارف ہوئے۔ رفتہ رفتہ فاروق احمد نے کھیل شائقین کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ منظور قاضی نوجوان فٹ بال شائقین کے دلوں کے دھڑکن بنے رفتہ رفتہ محمد شفیع ناری محمد حسین کلو اور عبدالمجید ککرو فٹ بال کے افق پر نمودار ہوئے۔ عبدالمجید ککرو برسوں فٹ بال کے میدان پر چھائے رہے ۔اس دوران آر ٹی سی ، فوڈ اینڈ سپلائز ، کے ایم ڈی محمڈن ،جموں وکشمیر پولیس جیسی ٹیموں کا ظہور ہوا۔ سٹی کلب بھی فٹ بال کے کھیل کو نامور کھلاڑی رہے۔اس دوران کھلاڑیوں کیلئے یہ بدقسمتی رہی کہ سرکاری سطح پر وادی کے کھلاڑی حوصلہ افزائی سے محدوم رہے ۔ سرکاری نوکری حاصل کرنے کیلئے کھلاڑیوں کو دردر کی ٹھوکریں کھانی پڑی ۔ 1979کے اواخر میں ایک فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران آر ٹی سی کے منظور قاضی شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں فوری طور صدر ہسپتال منتقل کیا گیاوہ کئی دن ہسپتان میں زیر علاج رہے ۔ ابتدائی دو دن تک آرٹی سی کے کسی آفیسر نے منظور کی خبر نہیں لی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ فوڈ اینڈ سپلائز اورآر ٹی سی کے کھلاڑیوں کو مستقلی کے آڈر کیلئے برسوں انتظار کرنا پڑا جبکہ آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں کھاڑی خوشخبری کے انتظار میں عمر کی حد کو پار کرچکے ہیں۔ محھے اچھی طرح یاد ہے بخشی اسٹیڈیم ، انڈور سپورٹس کمپلیکس اور پولوگرائونڈ میں کھیلوں کی اختتامی تقریب پر مدعو اعلیٰ حکام جن میںوزیر اعلیٰ بھی شامل ہے۔جموں وکشمیر فٹ بال ایسو سی ایشن کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میں کئی دہائیوں سے فٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد کرتی آرہی ہےایسو سی ایشن نے جموں وکشمیرکے سینکڑوں کی تعداد میں ایسے کھلاڑی مہیا کئے جنہوں نے بین الاقوامی اور قومی مقابلوں میں اپنے ریاست کی نمائندگی انہیں حوصلہ افزائی اور سرپرستی کی ضرورت ہے اور حکومت جو کہ جموں وکشمیر میں کھیلوں کو فروغ دینے کیلئے ہر ممکن اقدامات کرہی ہے ۔ کھلاڑیوں کیلئے بہت کچھ وادی کے سینکڑوں کھلاڑی کمسپرسی کی حالت میں ہے ۔ ان میں سے کئی کھلاڑی گمنامی کی حالت میں انتقال کرگئے۔ جنہوں نے ماضی میں کشمیر کے کھیل شائقین کو فٹ بال کا دیوانہ بنادیا۔ ان کھلاریوں کے لواحقین آج بھی انتظار میں ہے کہ حکومت کب ان کیلئے راحتی اقدامات کرے گی۔ ملک کے دیگر ریاستوں میں سابق کھلاڑیوں کے لواحقین کو راحتی سہولیات دستیاب ہیں اب اسے جموں وکشمیرمیں بھی عملانے کی ضرورت ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں