بٹہ مالو کے گنجان آبادی والے علاقے میں خونین معرکہ آرائی - 3جنگجو ا ور خاتون جاں بحق

علاقے میں مظاہرین اور فورسزکے درمیان جھڑپیں، پتھرائو اور ٹیئر گیس شلنگ - تینوں جنگجو بارہمولہ کے قبرستان میں سپردخاک

کے این ایس � جے کے این ایس � یو پی آئی � سی این ایس� سی این آئی �اے پی آئی :
سرینگر/اڑھائی ماہ بعد دارالحکومت سرینگر کے فردوس آباد بٹہ مالو میں جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان جمعرات کی علی الصبح ہوئی خونین جھڑپ میں 3مقامی حزب المجاہدین جنگجو اور ایک خاتون جاں بحق ہوئی جبکہ گولیوں کے تبادلے میں سی آر پی ایف کا ایک افسر سمیت2اہلکار بھی زخمی ہوئے۔جھڑپ کے بعد علاقے میں تشدد بھڑک اٹھا ،جس دوران مشتعل مظاہرین نے فورسز پر پتھراؤ کیا جبکہ فورسز نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے ۔ دارلحکومت سرینگر کے فردوس آباد بٹہ مالو میں جمعرات کی صبح جنگجووں اور فورسز کے مابین مسلح معرکہ آرائی ہوئی ۔ذرائع نے بتایا کہ دوران شب علاقے/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 میں جنگجوؤں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع ملنے کے بعد جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی ) اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے علاقے میں جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لایا ۔ذرائع نے بتایا کہ دوران ِ شب ہی علاقے کے سبھی داخلی اور خار جی راستوں کو سیل کردیا گیا ،تاکہ جنگجو فرار نہ ہوسکیں ۔ذرائع نے بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات2بجکر30منٹ پر یہ آپریشن شروع کیا گیا اور صبح5کے قریب علاقے میں موجود جنگجوؤں اور فورسز کے ما بین آمنا سامنا ہوا ۔ذرائع نے بتایا کہ جنگجوایک رہائشی مکان میں موجود تھے اور فورسز نے اُنہیں ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی ،تاہم جنگجوؤں نے فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی ،جسکے ساتھ طرفین کے مابین شدید معرکہ آرائی کا سلسلہ شروع ہوا ،جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔گولیوں کی گھن گرج اور دھماکوں سے پورا بٹہ مالو علاقہ لرز اٹھا ۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ سی آر پی ایف کا ایک افسر بھی گولی لگنے سے زخمی ہوا ۔ابتدائی فائرنگ کے دوران45سالہ ایک خاتون بھی جاں بحق ہوئی ۔ذرائع کے مطابق کونثر ریاض نامی خاتون گولی لگنے سے زخمی ہوگئی اور اسے پولیس اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ا±سے مردہ قرار دیا۔زخمی سی آر پی ایف آفسر کی شناخت 177بتالین سے وابستہ ڈپٹی کمانڈنٹ راہل کمار کے بطور ہوئی،جو اس وقت92بیس فوجی اسپتال سرینگر میں زیر علاج ہے جبکہ دوسرے زخمی اہلکار کی فوری طور پر شناخت نہیں ہوسکی ۔بعد ازاں جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت زاکر احمد پال ولد نثار احمد ساکنہ آلورہ امام صاحب شوپیان ،عبیر مشتاق بٹ ولد مشتاق احمد ساکنہ بادرا گنڈ کولگام اور عادل حسین بٹ ولد عبدالرشید ساکنہ بٹہ پورہ طرسو او نتی پورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ۔سیکورٹی فورسز حکام کے مطابق جاں بحق جنگجوؤں میں سے2کا تعلق عسکری تنظیم حزب المجاہدین اور ایک کا تعلق البدر عسکری تنظیم سے تھا ۔تینوں جاں بحق جنگجو رواں برس ہی جنگجوؤں کے صف میں شامل ہوئے تھے ،ادھر علاقے میں جھڑپ کے بعد تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔انکاؤنٹر کے دوران خاتون کی موت کے بعد نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں ،جنہوں نے احتجاج کرتے ہوئے علاقے میں تعینات فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کیا ۔فورسز نے مشتعل مطاہرین کو تتربتر کرنے کے لئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔اس دوران اُس رہائشی مکان میں آگ شعلے بھی نمودار ہوئے ،جس میں مبینہ طور پر جنگجو موجود تھے ۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے گنجان آبادی علاقے کو ملحوظ نظر رکھ کر فوری طور پر کارروائی عمل میں لاکر آگ پر قابو پالیا ۔یہ سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا جبکہ علاقے میں بازار بند رہے ۔ یاد رہے کہ دارالحکومت سرینگر میں2جولائی کو سرینگر کے مضافاتی علاقہ ملہ باغ صدر بل علاقے میں ایک شوٹ آؤٹ کے دوران جنگجو اور سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوا تھا ۔ پولیس ترجمان کے مطابق مہلوک عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں کی منسوبہ بندی کرنے اور اُنہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے ضمن میں پیش پیش تھے اور اُن کے خلاف متعدد مقدمات پہلے ہی درج ہیں۔ ترجمان کے مطابق تینوں عسکریت پسندوں کی شناخت کے بعد اُن کے والدین کو طلب کیا گیا جن کی موجودگی میں بارہ مولہ میں تینوں کی آخری رسومات ادا کی گئی۔ دریں اثنا پولیس نے عوام سے پ±ر زور اپیل کی ہے کہ وہ جائے تصادم پر جانے سے تب تک گریز کیا کریں جب تک ا±سے پوری طرح سے صاف قرار نہ دیا جائے کیونکہ پولیس اور دیگر سلامتی ادارے لوگوں کے جان و مال کی محافظ ہے لہذا لوگوں کی قیمتی جانوں کو بچانے کیلئے پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ چنانچہ ممکن طور جھڑپ کی جگہ بارودی مواد اگر پھٹنے سے رہ گیا ہو تو ا±س کی زد میں آکر کسی کی جان بھی جاسکتی ہے۔ اسی لئے لوگوں سے بار بار اپیل کی جاتی ہے کہ وہ جھڑپ کی جگہ کا رخ کرنے سے اجتناب کریں۔ لوگوں سے التجا کی جاتی ہے کہ وہ حفاظتی عملے کو اپنا کام بہ احسن خوبی انجام دینے میں بھر پور تعاون فراہم کریں تاکہ کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہ آسکیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں