مزید 387افراد کورونا پازٹیو

سرینگر/ حکومت نے کہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے387نئے مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے290کا تعلق کشمیر صوبے سے اور 97کا تعلق جموں صوبے سے ہیں اور اس طرح مثبت معاملات کی کل تعداد9888تک پہنچ گئی ہے۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے95501 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے3943سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک 5786 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی تعداد160تک پہنچ گئی ،جن میں سے 145کا تعلق کشمیر   صوبہ سے اور15کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران آج مزید91مریض صحتیاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے35اور کشمیر صوبے کے 56اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 437928ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  10؍ جولائی 2020ء کی شام تک 428040نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اب تک 308573افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 38939اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ44 اَفراد کو ہسپتال قرنطین میں رکھا گیا ہے۔3943کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ45713 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق2,17,932اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق سری نگر میں اب تک کورونا وائرس کے 1545معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے1012سرگرم معاملات ہیں ۔494 مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ39 افرادکی موت واقع ہوئی ہے۔ بارہمولہ میں اب تک کورونامریضوں کی تعداد1251ہوئی ہیںجن میں سے 707سرگرم معاملات ہیں اور31مریضوں کی موت واقع ہوئی ہیںاور 513صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ کولگام میں963مثبت معاملات پائے گئے ہیںجن میں298سرگرم معاملات ہیںاور 676صحتیاب ہوئے ہیںاور18 کی موت واقع ہوئی ہے۔اُدھرضلع شوپیان میں 887 مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں209 سرگرم ہیں اور 663صحتیا ب ہوئے ہیںجبکہ 16کی موت واقع ہوئی ہے۔ ضلع اننت ناگ میں 775 مثبت معاملے سامنے آئے ہیںجن میں171 سرگرم ہیں۔ 591 شفایاب ہوئے ہیں اور13کی موت واقع ہوئی ہے۔ اِدھرکپواڑہ میں 709مثبت معاملات درج کئے گئے ہیں اور 243 سرگرم معاملات ہیں اور458صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 08 کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع  پلوامہ ضلع میں کووِڈ ۔19کے 640 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں331 سرگرم معاملات ہیں اور 304مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ05 کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بڈگام میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد اب تک 528ہوئی ہیںجن میں سے224سرگرم ہیں اور293اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ11 کی موت واقع ہوئی ہے ۔بانڈی پورہ میں اب تک 336مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے50سرگرم معاملات ہیں ، 283مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 03 کی موت واقع ہوئی ہے۔ گاندربل میں کل160 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں73سرگرم معاملات ہیں اور 86فراد شفایاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔اِسی طرح  جموں میں وائر س کے 452مثبت معاملات پائے گئے ہیں جن میں121سرگرم معاملات ہیں اور322صحت یاب ہوئے ہیںاور09 کی موت واقع ہوئی ہے جبکہاودھمپور ضلع میں اب تک کورونا مریضوں کی کُل تعداد 298 ہوئی ہیں جن میں سے 56معاملات سرگرم ہیں۔ 241اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے اوررام بن میں254معاملات سامنے آئے ہیںجن میں 48سرگرم معاملات ہیں اور206 شفایاب ہوئے ہیں دریں اثنأ کٹھوعہ میں272مثبت معاملہ سامنے آئے ہیںجن میں 65 سرگرم معاملات ہیںاور 206اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع سانبہ میں 218 مثبت معاملے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 81 سرگرم معاملات ہیں اور 132اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔اس طرح پونچھ میں137معاملے سامنے آئے ہیں جن میں 21سرگرم معاملات ہیں جبکہ115مریض شفایاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔راجوری ضلع میں کورونا کے اب تک 240مریض پائے گئے ہیںجن میں 151معاملے سرگرم ہیں اور 88مریض شفایاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ڈوڈہ میں 124 معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے54معاملات سرگرم ہیں جبکہ68مریض پوری طرح شفایاب ہوئے ہیں اور02 مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔ اورریاسی میں بھی53 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں14سرگرم ہیں اور39 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔ کشتواڑ میں44 مثبت معاملے سامنے آئے ہیں جن میں19 معاملے سرگرم ہیں اور25 مریض پوری طرح سے صحتیاب ہوئے ہیں بلیٹن میںکہا گیاہے کہ یہ ترتیب اُن ضلعوں کی ہے جہاں سے مریضوں کا پتہ لگا ہے۔
 یا جہاں وہ عارضی طور پر رہائش پذیر ہے۔ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19سے بچائو کے لئے باقی لوگوں سے کم از کم دو میٹر کا جسمانی فاصلہ قائم کرنے اور بار بار پانی سے ہاتھ دھونے یا الکوحل پر مبنی ہینڈ سینٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے سے انسان اس بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر سماجی دوری کے لئے ایک اقدام کے طور پر چہرے کا احاطہ کرنا لازمی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا کہ کووِڈ۔19 کی ابتدا میں ہی تشخیص سے یہ وبامزید پھیلنے روکی جاسکتی ہے۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے کر جاری ایڈوائزری پر سختی سے کاربندرہیں اور کووِڈ۔19بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر اسے نہ چھپائیں کیوں کہ اس سے ایسے افراد کے افراد خانہ کے ساتھ ساتھ اُن کی اپنی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔بخار ، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کی علامات ظاہر ہوتے ہی کووِڈ۔19 ہیلپ لائینوں پر رابطہ قائم کر کے طبی مشورہ حاصل کی جاسکتی ہے۔دریں اثنا میڈیا بلیٹن میں جاری ایڈ وائزری میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19 ایک اِنتہائی پھیلنے والی بیماری ہے جو کسی کو بھی اپنی چپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وائرس سے دور رہ جائے۔ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بیماری سے بچنے کے لئے گھروں میں رہیں اور سماجی دُوری پر عمل کریں۔ذاتی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں اور کھانسی چھینکتے وقت اپنا منھ ڈھانپ لیں۔ایڈ وائزر ی میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی کے ایسے افراد کے رابطے میں نہ آئیں جو بخار یا کھانسی میں مبتلا ہو اور اگر کوئی بھی شخص بخار ، کھانسی میں مبتلا ہو اور اُسے سانس لینے میں مشکل آتی ہوتو وہ طبی صلاح و مشور ہ لیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووِڈ ۔19ہیلپ لائین نمبرات پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں تاکہ انہیں ضرورت پڑنے پر صحیح طبی مشورہ دیا جاسکے۔دریں اثنا لوگ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرنے والی مفت ایمبولنس خدمات سے اپنی دہلیز پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس ایمبولنس خدمت کا ٹول فری نمبر ہے 108 ۔حاملہ خواتین اور بیمار بچے ٹول فری نمبر 102 پر کال کر کے مفت ایمبونس خدمات سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ 0191-2549676 ( جموں کشمیر کیلئے ) ،,0191-2674444,0191-2674115 0191-2520982 ( صوبہ جموں ) ، 0194-2440283 اور 0194-2430581 ( صوبہ کشمیر ) کیلئے قائم کئے گئے ہیں اور لوگ نوول کوروائرس(کووِڈ۔19)سے متعلق جانکاری ان نمبرات پر حاصل کرسکتے ہیں۔لوگوں سے کہا کیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ افواہیں پھیلائیں اور نہ اُن پر کان دھریں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں