کوروناوائرس متاثرین کی تعدادمیں کئی گنااضافہ

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعداحتیاطی تدابیر بالائے طاق - سرینگر،بارہمولہ ،کولگام اورشوپیان میں دوبارہ بندشوں کے امکانات

جے کے این ایس : سرینگر/ڈپٹی کمشنر سری نگرڈاکٹر شاہداقبال چودھری نے جمعرات کوایک انٹرویو کے دوران یہ انکشاف کیاکہ تین ماہ کے دوران جتنے کورونا کیس سامنے آئے تھے ،اُس سے کہیں زیادہ کیس لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعدگزشتہ تین ہفتوں کے دوران درج کئے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ لوگ احتیاط نہیں برت رہے ہیں ،ماسکس کے لازمی استعمال اورسماجی دوری کے اصول پرعمل نہیں کیاجاتاہے ۔ڈاکٹر شاہداقبال کاکہناتھاکہ اگرصورتحال میں بہتری نہیں آئی توانتظامیہ کوکچھ سخت اقدامات روبہ عمل لاناپڑسکتے ہیں ۔ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگرنے دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی براہ راست بات نہیں کی تاہم انہوں نے انتظامی نوعیت کے اقدامات کاذکر کیا۔یہاں یہ بات توجہ ہے کہ سری نگر،بارہمولہ ،شوپیان اورکولگام میں کل4468افراد جمعرات کی شام تک کوروناوائرس میں مبتلاءہوئے جبکہ سری نگر 1451 مریضوں کیساتھ پہلے نمبر،بارہمولہ ضلع1214متاثرین کیساتھ دوسرے اور930 و 873 مریضوں کیساتھ کولگام اورشوپیان بالترتیب تیسرے اورچوتھے سب سے متاثرہ اضلاع ہیں ۔جموں وکشمیر میں جمعرات کی شام تک کوروناوائرس میں مبتلاءہونے والے افراد کی کل تعداد9501 تک پہنچ چکی تھی اوراگر4سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کاموازنہ جموں وکشمیر کے کل کورونامتاثرین سے کیاجائے تو سری نگر،بارہمولہ ،کولگام اورشوپیان کی حصہ داری47فیصد سے زیادہ بنتی ہے اورپوری وادی میں ان چار اضلاع کاحصہ75فیصدسے زیادہ بنتا ہے ۔کووڈ 19مریضوں کیلئے مخصوص اسپتالوں میں متاثرین کی تعداد اسقدر تیزی کیساتھ بڑھ رہی ہے کہ اب ان اسپتالوں میں جگہ کی کمی کامسئلہ بھی درپیش ہے ۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے میڈکل سپرانٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فاروق جان سے منصوب ایک انکشاف ایک نیوز رپورٹ میں درج ہے ،جس میں موصوف کہتے ہیں کہ79افراد شدیدطور پربیمار ہیں ،جن میں سے60آکسیجن پر ہیں ۔ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر نے گرچہ دوبارہ لاک ڈاؤن کاکوئی براہ راست ذکر نہیں کیالیکن انتظامیہ کی سطح پر کشمیروادی میں کوروناوائرس کے تیزی کیساتھ پھیلنے کامعاملہ اب روزانہ کی بنیاد وں پرزیرغور لایاجاتاہے ،اورچار سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں دوبارہ لاک ڈاؤ ن نافذ کرنے یاان اضلاع کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سخت بندشوں کانفاذ عمل میں لائے جانے کاجائزہ لیاجارہاہے ۔سنجیدہ فکر اشخاص کابھی اسبات پرزورہے کہ قبل اسکے صورتحال مزید سنگین رُخ اختیار کرے اورکوروناوائرس پوری طرح سے بے قابو ہوجائے ،متاثرہ اضلاع یاعلاقوں میں لاک ڈاؤن طرزکی سخت بندشیں لاگو کی جائیں ۔تاکہ لاپرواہی کے مرتکب ایسے افرادجوماسکس نہیں پہنتے ہیں اورسماجی دوری کے اصول پربھی عمل نہیں کرتے ،اُن کویہ احساس ہوجائے کہ ایک آدمی یاکچھ افراد کی لاپرواہی کس طرح پوری بستی اورسماج پربھاری پڑجاتی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں