کورونا کا قہر بڑھنے لگا ،79مریضوں کی حالت نازک ، 60آکسیجن پر ہیں

پلازمہ کا عطیہ دیکر کورونا مریضوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں :ڈائریکٹر سیکمزہسپتالوں پر دباؤ بڑھتا جارہاہے اور جگہ کم پڑنے لگی ہے

جے کے این ایس : سرینگر/انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اے جی آہنگرنے کوروناوائرس سے شفایاب ہونے والے افراد سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ باقی ایسے نازک مریضوں کی جانچوں کوبچانے کیلئے آگے آئیں ۔انہوں نے اپنی اپیل میں کہاکہ صحت یاب ہوئے افراد ’پلازما‘کاعطیہ کرکے انسانیت کی بڑی خدمت کرسکتے ہیں ۔ڈاکٹر آہنگرکی یہ اپیل اسوقت سامنے آئی ہے جب کشمیر میں حالیہ کئی دنو ں سے تین تاچھ مریضوں کے فوت ہونے کاسلسلہ جاری ہے جبکہ SKIMSصورہ ،SKIMSبمنہ اورسی ڈی اسپتال میں درجنوں کورونا مریضوں کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے ،جن میں سے تقریباً60نازک مریضوں کوپچھلے کئی کئی دنوں سے آکسیجن پرزندہ رکھاگیا ہے ۔ڈاکٹر اے جی آہنگر نے کہاہے کہ کوروناسے لڑکر صحت یاب ہونے والے افراد بڑے بہادر ہیں ،جنہوں نے عالمگیر وباءکامردانہ وار مقابلہ کیاہے ،اوراب ایسے لوگ سامنے آکر مزیدلوگوں کی زندگیو ں کوبچانے میں کلیدی رول اداکرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کوروناوباءکیخلاف جاری جدوجہد میں انسٹی چیوٹ اوردوسرے اسپتالوں کوایسے بہادر اورانسان دوست افراد کے مددکی فوری ضرورت ہے جوآگے آکر اپنا ‘پلازما‘کاعطیہ دیں گے ۔ڈاکٹر آہنگر نے اپنی اپیل میں مزید کہاکہ انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ ’پلازما‘ کورکھنے کیلئے ایک پلازما بینک قائم کیاگیاہے ،جس کے ساتھ رابطہ کرکے صحت یاب ہونے والے افراد اپنے پلازما کوبطورعطیہ دے سکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ نازک وقت ہے اورصورتحال سنگین بنتی جارہی ہے اورایسے میں ہم سب کوایکدوسرے کے شانہ بشانہ اس جنگ میں شامل ہوکر اپنااپنا کردار نبھانا پڑے گا۔اس دوران انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ کی انتظامیہ کی جانب سے ایک اپیل جاری کی گئی ہے جس میں کوروناوائرس میں مبتلاءہونے کے بعدصحت یاب ہوئے افرادسے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انسٹی چیوٹ کیساتھ رابطہ کرکے اپنے پلازما کوبطورعطیہ دیکر نازک بیماروں کی زندگیوں کوبچانے میں رول اداکریں ۔اپیل میں یہ واضح کیاگیاہے کہ پلازما کاعطیہ دینے والوں کی پہلے مکمل طبی جانچ کی جائے گی ۔اس اپیل میں لوگوں سے کہاگیا ہے کہ وہ موبائل نمبرات9419415196  
9622457636, 9419415342
9797095342اور9419081223پررابطہ کرسکتے ہیں ۔ادھرصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ ، سکمز بمنہ،صدر اسپتال اورسی ڈی اسپتال سرینگر میں تعینات ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہرگزرتے دن کیساتھ کورونا سے پیداشدہ طبی صورتحال خطرناک رخ اختیارکرتی جارہی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اب مریض نازک حالت میں یہاںلائے جاتے ہیں ، اسی لئے اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے ، جبکہ ڈاکٹروں کے بقول پہلے سے کہیں زیادہ دباؤ اسپتالوں اورطبی ونیم عملے پر بڑھ گیاہے۔صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ ڈاکٹرفاروق جان کے حوالے سے ایک نیوز رپورٹ میں خبردار کیاگیاہے کہ صورتحال دن بدن بد سے بدترہوتی جارہی ہے۔ پروفیسر فاروق جان نے کہاکہ فی الوقت79مریض نازک حالت میں ہیں، جن میں سے 60کو آکسیجن دیاجارہاہے کیونکہ ان کو سانس لینے میں سخت تکلیف کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔انہوںنے کہاکہ پہلے صورتحال کافی بہتر تھی کیونکہ مریضوں کی تعداد کم تھی لیکن اب مریض بھی زیادہ لائے جارہے ہیں اور زیادہ ترمریضوں کی حالت نازک رہتی ہے۔ڈاکٹر فاروق جان نے کہاکہ اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہاہے اوراب مریضوں کو فوری طبی سہولیات بہم رکھنے میں بھی بعض اوقات مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ادھر سکمز بمنہ میں تعینات ایک ماہر ڈاکٹر جاوید ملک نے کہاکہ سکمزمیڈیکل کالج بمنہ میں بھی مریضوں کا دباؤ کافی حدتک بڑھ گیاہے۔ انہوںنے کہاکہ یہاں جو مریض لائے جاتے ہیں ، ان میں سے بیشتر نازک حالت میں ہوتے ہیں اورانہیں بچانے کے لئے ڈاکٹروں کو کافی محنت ومشقت کرنا پڑتی ہے۔ڈل گیٹ میں قائم سی ڈی اسپتال کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔یہاں تعینات ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اب کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اورانہیں علاج فراہم کرنے میں بعض اوقات مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایاکہ زیادہ ترمریضوں کو سانس لینے میں تکلیف کا مسئلہ درپیش ہے، اس لئے انہیں آکسیجن فراہم کرنا پڑتاہے۔اس دوران ڈاکٹروںنے لوگوں پر زوردیاکہ وہ کورونا سے پیداشدہ صورتحال کے چلتے کسی بھی طبی تباہی سے بچنے کےلئے لازمی طور ماسک کااستعمال کریں اور گھروں سے باہر آنے کے بعد سماجی دوری کے اصول پر عمل کریں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں