کورونا کے پیش نظر امرناتھ گپھا تک عقیدت مندوں اور عام لوگوں کی رسائی پر روک

سپریم کورٹ میں عرضی دائر، انٹرنیٹ اور ٹی وی پر براہ راست درشن ٹیلی کاسٹ کی تجویز پیش

سی این آئی : سرینگر/ملک بھر میں کورنا وائرس کے بڑھتے پھیلاؤ کے بیچ امسال عام لوگوں اور عقیدت مندوں کی امرناتھ گپھا تک رسائی دینے پر پابندی کیلئے عدالت عظمیٰ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جبکہ اس عرضی میں درخواست گزاروں نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ براہ راست درشن نشر اور ٹیلی کاسٹ کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے ۔ ایک ہندوتنظیم نے عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جہاں مرکز اور مختلف ریاستوں کی سرکاریں کورنا وائرس کی وباءسے مقابلہ کررہی ہیں ۔ اس کے پیش نظر امسال امرناتھ یاترا کیلئے عقیدت مندوں اور عام لوگوں پر پابندی عائد کی جائے جبکہ درخواست گزاروں نے شراین بورڈ کو براہ راست درشن کرانے کی تجویز دی ہے۔جس سے کروڑوں عقیدت مندمستفید ہو نگے ۔ عرضی میںیہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ براہ راست نشر کرانے سے گھروں میں بیٹھ کر ہی عقیدت مند پوجا ، خصوصی عبادت اور دیگر رسومات انجام دیں سکتے ہیں ۔ عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ ہر سال قریب 3 لاکھ عقیدت مند ہمالیائی گھپا میں جاکردرشن کرتے تھے تاہم امسال اس کی اجازت دی گئی تو کورنا وائرس مزید پھیل سکتا ہے ۔ عرضی میںیہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چونکہ امرناتھ بورڈ نے سالانہ یاترا شروع کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ، پھر بھی چند بھنڈارا تنظیموں کو 28 جون تک پنڈال تک پہنچنے کو کہا گیا تھا اور 3 جولائی سے 3 اگست تک کام کرنے کو کہا گیا تھا۔ اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سالانہ یاترا کے لئے اجازت دینے کے لئے کچھ منصوبے ہوسکتے ہیں ، لہذا درخواست گزار نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا تاکہ عام لوگوں / عقیدت مندوں تک رسائی پر پابندی لگائی جاسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں