حج2020: رواں سال خانہ کعبہ کو چھونے پر پابندی

 دوران نماز اور طواف عازمین کےلئے 3 فٹ کا فاصلہ رکھنا لازمی قرار- میدان عرفات اور مزدلفہ میں مخصوص مقامات پر قیام کی اجازت ہوگی - رمی جمرات کےلئے عازمین کو سینٹائزڈ کنکریاں فراہم کی جائینگی

نیوز ایجنسیز

ریاض /دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑھتی تعداد کے باعث سعودی عرب نے رواں برس حج کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام کی تعداد کو محدود کردیا اور اس حوالے سے متعدد قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں جن کے مطابق نماز اور طواف کے دوران خانہ کعبہ کو چھونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سعودی وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ رواں برس عازمین حج کی تعداد کو محدود رکھا جائے گا، اس حوالے سے کہا گیا تھا کہ عازمین کی تعداد کو10 ہزار تک محدود کیا جائے گا۔اس اقدام کا مقصد حج کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کے ساتھ ساتھ حجاج کرام کو بچانے کے لیے تمام احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرتے ہوئے اور صحت اور حفاظت کا تحفظ فراہم کرتے ہوئے اسلام کی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے۔ حج کے حوالے سے نئی ہدایات رہائشی عمارات، کھانے، بسوں اور حجام کی دکانوں، عرفہ اور مزدلفہ، جمرات اور مسجد الحرام میں عبادات سے متعلق ہیں۔سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکام 19 جولائی 2020 یعنی 28 ذیقعد1441 ہجری سے لے کر2 اگست، 2020 یعنی 12 ذی الحج تک منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں اجازت نامے کے بغیر داخلہ روک
 دیں گے۔سعودی سینٹر فار ڈیزیز پری وینشن اینڈ کنٹرول (وقایہ) نے انفیکشن کی شرح میں کمی اور عازمین حج کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کیے ہیں۔حج کے حوالے سے طبی پروٹوکولز کی طویل فہرست رواں برس تمام ورکرز اور زائرین پر لاگو ہوگی۔اس دوران تمام علاقوں میں ہدایات اور آگاہی کی علامات آویزاں کی جائیں گی اور مختلف زبانوں میں تحریر کی جائیں گی جن میں کووڈ۔19 انفیکشن وارننگز، ہاتھ دھونے کے قواعد و ضوابط، چھینکنے اور کھانسنے کے آداب اور الکحل والے ہینڈ سینیٹائزرز کا استعمال شامل ہے۔عازمین کے لیے ایک دوسرے کا ذاتی سامان اور حفاظتی سامان، مواصلاتی آلات، لباس، شیونگ پروڈکٹس یا تولیے استعمال کرنا منع ہوگا۔حج کے لیے آنے والے افراد اور حج کرانے والوں کو حفاظتی ماسک اور دستانے پہننا ہوں گے جب کہ سر کے بال تراشنے، مونڈھنے، داڑھی بنانے والے ایک دوسرے کے آلات استعمال نہیں کرسکیں گے۔قواعد کے مطابق باجماعت نماز کی اجازت ہوگی تاہم نماز کے دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا جب کہ نمازی ایک دوسرے سے 2 میٹر فاصلےکی پابندی کریں گے اور لفٹ استعمال کرتے وقت بھی سماجی فاصلہ رکھنا ہوگا۔دوسری جانب مسجد الحرام، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں کولرز ہٹا دیے جائیں گے اور پانی پینے یا زمزم کے لیے ڈسپوزیبل بوتلیں، ڈبے استعمال کیے جائیں گے جب کہ کھانے پینے کے برتن دوبارہ استعمال کرنےکی اجازت نہیں ہوگی۔خانہ کعبہ یا حجر اسود کو چھونا منع ہوگا جب کہ حج میں جمرات کی رمی کے لیے پیک شدہ کنکریاں فراہم کی جائیں گی۔حج ضوابط کے مطابق بسوں میں مسافروں کی تعداد متعین ہوگی، پورے سفر کے لیے ہر حاجی کی نشست متعین ہوگی اور کسی بھی حاجی کو بس میں کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ ڈرائیوروں اور مسافروں کو بس میں سفر کے دوران ماسک اتارنےکی اجازت نہیں ہوگی۔میدان عرفات اور مزدلفہ میں مخصوص مقامات پر قیام کی پابندی کرنا ہوگی اور عبادت کے دوران حاجیوں کو ماسک اتارنے کی اجازت نہیں ہوگی، مطابق طواف کے لیے مطاف جانے والوں کی قافلہ بندی ہوگی اور طواف کے دوران کم از کم ڈیڑھ میٹر کا فاصلہ رکھنا ہوگا جب کہ صفا و مروہ کی سعی ہر منزل سےہوگی اور سعی کے دوران سماجی پابندی کرائی جائےگی۔حاجیوں کو خارجی صحنوں میں کھانے کی اجازت نہیں ہوگی جب کہ طواف کی جگہ ،صفا و مروہ کے علاقےکو حاجیوں کے ہرکارواں کے بعد سینیٹائز کیا جائے گا۔مسجد الحرام سے قالین اٹھالیے جائیں گے اور اپنی جائے نماز استعمال کرنے کی تاکید کی جائےگی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں