6مین سٹریم پارٹیوں کے نظربند لیڈروں کی رہائی کے امکانات، ساگر، نعیم اختر، منصور حسین ، سرتاج مدنی اور شاہ فیصل کی رہائی کا فیصلہ، تاہم محبوبہ مفتی اور سجاد غنی لون کی خانہ نظربند ختم کرنے پر مرکزی حکومت خاموش

یو پی آئی /اے پی آئی : سرینگر/5اگست سے نظر مین اسٹریم پارٹیوں سے وابستہ لیڈران کی رہائی کا فیصلہ بہت جلد لینے کا امکان ہے اورا س سلسلے میں باریک بینی سے غور وغوض ہو رہا ہے۔ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد متعدد مین اسٹریم پارٹیوں کے لیڈران کو یا تو گھروں میں نظر بند کیا گیا یا پھر اُنہیں مختلف جیلوں میں رکھا گیا۔ اگر چہ متعدد لیڈران کی رہائی عمل میں لائی گئی تاہم ابھی بھی چھ سینئر لیڈر نظر بند ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر ، شاہ فیصل ، سابق وزیر نعیم اختر ، پیرزادہ منصور حسین ، سرتاج مدنی اور ہلال اکبر لون کی رہائی کے حوالے سے غور وغوض ہو رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایل جی انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ نظر بند لیڈران کی رہائی اور اُن کی نظر بندی میں توسیع کرنے کے حوالے سے عنقریب ہی فیصلہ لینے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں سینئر آفیسران کے درمیان صلاح و مشورہ ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حد بندی کمیشن کے قیام کے بعد لوک سبھا سپیکر اوم برلا نے جموںوکشمیر کے چھ ممبران پارلیمنٹ کو اس کمیشن میں بطور ممبر منتخب کیا جس کے بعد جموںوکشمیر میں سیاسی بازار گرم ہوا ۔ نیشنل کانفرنس کے صدرڈاکٹر فاروق عبدا ﷲنے پارٹی کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے بتایا کہ جب تک نہ سبھی لیڈران کی رہائی عمل میں نہیںلائی جاتی این سی اس کمیشن کا حصہ نہیں بنے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ چونکہ قانونی اور آئینی لحاظ سے حد بندی کمیشن میں ممبران پارلیمنٹ کی آرا ءضروری ہے لہذا حکومت کی جانب سے نظر بند مین اسٹریم پارٹیوں کے لیڈران کی رہائی کا امکان ہے اور اس سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ میں بھی صلاح و مشورہ ہو رہا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مرکزی حکومت چاہتی ہے کہ حد بندی کمیشن میں نیشنل کانفرنس کے تین ممبران پارلیمنٹ شامل ہوتاکہ اس کمیشن کے فیصلوں کا سبھی احترام کرسکے تاہم نیشنل کانفرنس کی جانب سے اس کمیشن میں شامل نہ ہونے کے بعد اب یہ باور کیا جارہا ہے کہ سبھی نظر بند لیڈران کو رہا کیا جاسکتا ہے اورا س سلسلے میں سبھی پہلوؤں کو ملحوظ نظر رکھا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مرکزی حکومت مین اسٹریم پارٹیوں سے وابستہ لیڈران کی رہائی عمل میں لاتی ہیں تو اس صورت میں نیشنل کانفرنس اپنے فیصلے پر غور وغوض کرسکتی ہیں کیونکہ صدر موصوف فاروق عبدا ﷲنے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ لیڈران کی رہائی تک وہ اس کمیشن کا حصہ نہیں بنیں گے لہذا اب یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ اگر مرکزی حکومت لیڈران کی رہائی عمل میں لاتی ہے تو اس صور ت میں نیشنل کانفرنس اس کمیشن کا حصہ بنے گی یا نہیں۔ ادھرخصوصی درجہ واپس لینے کے بعدگرفتار کئے گئے نصف درجن کے قریب لیڈران کو رہاکیا جارہاہے جبکہ سابق وزیراعلیٰ اورپیپلزکانفرنس کے سربراہ کی خانہ نظربندی ختم کرنے کے لئے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں لیاگیا ۔5اگست 2019کو خصوصی درجہ واپس لینے کے بعد گرفتارکئے گے سیاسی لیڈروںکارکنوں کی مرحلہ وار رہائی عمل میں لانے کاسلسلہ جاری ۔وزارت داخلہ نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ایم ایل اے ہوسٹل میں بندپڑے مزیدکئی لیڈروں جن میں نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمدساگر۔ ڈاکٹرشاہ فیصل سابق وزیرنعیم اختر پیر زادہ منصور حسین سرتاج مدنی اور ہلال اکبرلون کی رہائی کافیصلہ کرلیااور اس سلسلے میں جموں کشمیرانتظامیہ کوباضابطہ طور پرہری جھنڈی بھی دکھائی ۔ذرائع کے مطابق پی ایس اے کے تحت گرفتار کئے گے ان لیڈران کی رہائی جلد ازجلدعمل میںلائی جارہی ہے تا کہ وزارت داخلہ کی جا نب سے صادرکئے گے احکامات کوعملی جامہ پہنایاجاسکے ۔ادھر پی ڈی پی صدراورسابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جواپنے سرکاری رہائش گاہ واقع گپکارمیں نظربندہے اور پیپلزکانفرنس کے چیئر مین سجادغنی لون کی خانہ نظربندی ختم کرنے کے سلسلے میں فی الحال کوی فیصلہ نہیں لیاگیا۔  

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں