مرکزی حکومت نے وادی میں اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کے حوالے سے اپنا موقف واضح کردیا، عسکریت پسند بڑے حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں،  جس کو مد نظر رکھتے ہوئے اضافی دستوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے:حکومت ہند

سرینگر/ جے کے این ایس /مرکزی حکومت نے وادی میں مزید ایک سو کمپنیوں کی تعیناتی پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے بتایا کہ وادی میں سر گرم عسکریت پسند بڑے حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے اضافی دستوں کی تعیناتی کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے مطابق قومی سلامتی مشیر نے دو روز تک سرینگر میں قیام کیا جس دوران اُنہیں سینئر آفیسران نے بتایا کہ جنگجو بڑے حملے کی فراق میں ہیں جس کے بعد مرکزی حکومت نے فوری طورپر اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ لیا۔  مرکزی حکومت نے وادی میںدس ہزار اہلکاروں کی تعیناتی پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ سراغ رساں ایجنسیوں نے الرٹ جاری کیا ہے کہ عسکریت پسند وادی میں بڑے حملے کی فراق میں ہے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
مرکز نے اضافی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی حکومت ذرائع کے مطابق  وزیر اعظم ہند کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈول نے سرینگر میں دو دنوں تک قیام کیا جس دوران سینئر پولیس اور فوجی آفیسران نے اُن سے علیحدہ علیحدہ میٹنگیں کیں۔ مرکزی حکومت کا مزید کہنا تھا کہ سیکورٹی ایجنسیوں کو خفیہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ وادی میں سرگرم عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس کے بعد قومی سلامتی مشیر کی ہدایت پر مرکزی حکومت نے اضافی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مرکزی حکومت کا مزید کہنا تھا کہ اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کو خصوصی اختیارات کو کالعدم قرار دینے سے جوڑنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور معاملہ فی الوقت سپریم کورٹ میں چل رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے اگرچہ دفعہ 35اور 370کے متعلق پوزیشن واضح ہے تاہم فی الحال خصوصی اختیارات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں