راج پتھ پر فوجی طاقت اور ثقافتی ورثے کا مظاہرہ پریڈ میں 23جھانکیوں، آرمی فورسز، نیم فوجی دستوں اورمتحدہ عرب امارات کے ایک مارچنگ دستہ نے حصہ لیا

26 جنورى 2017 (08:35)

نئی دہلیبھارت کے 68ویں یوم جمہوریہ کے موقع پر کل راج پتھ پر ملک کی فوجی طاقت، ٹیکنالوجی اور ثقافتی ورثے کی جھلک دیکھنے کو ملی۔ پریڈ میں 23 جھانکیوں، آرمی فورسز، نیم فوجی دستوں، این سی سی، این ایس ایس اور این ایس جی کے 15 مارچنگ اسکواڈ، متحدہ عرب امارات کے ایک مارچنگ دستہ اور مختلف بینڈوں نے حصہ لیا۔ ملکی ہلکا لڑاکا طیارہ تیجس اور ملک میں ہی تعمیر کی گئی دھنش توپ، کور آف ملٹری پولیس کے ’وائٹ ہارس‘ کی جانب سے موٹر سائیکل پرحیرت انگیز کارنامے اور نیشنل سیکورٹی گارڈ کے کمانڈوزکی پریڈ کی جھلکیاں پرکشش رہیں۔ دارالحکومت میں کل موسم خوشگوار رہا۔ آسمان میں بادل چھائے رہے اور ہلکی ہلکی بارش بھی ہوئی لیکن اس سے پریڈ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور لوگوں نے موسم کا لطف اٹھاتے ہوئے پورے جوش و خروش کے ساتھ پریڈ کا مزہ لیا۔تقریب کا آغاز انڈیا گیٹ واقع امر جوان جیوتی پر وزیر اعظم نریندر مودی کی گلہائے عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہو۔ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے بھی تینوں افواج کے سربراہان کے ساتھ شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے سلامی منچ پر آکر تینوں افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر پرنب مکھرجی کا استقبال کیا۔ ان کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی کے ساتھ ہی صبح 10 بجے پریڈ شروع ہو گئی۔ صدر کے ساتھ ابوظہبی کے شہزادہ اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر محمد بن زائدالنھیان بھی تھے جو اس سال یوم جمہوریہ کی تقریب کے مہمان خصوصی ہیں۔ دہلی زون کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل ایم ایم نروانے پریڈ کمانڈر اور دہلی زون کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل راجیش سہائے پریڈ کے سیکنڈ ان کمانڈ رتھے ۔ وجے چوک اور انڈیا گیٹ کو جوڑنے والے راج پتھ پر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک تینوں افواج کی طاقت، ملک کی ثقافتی تنوع اور تاریخی ورثے کا دلکش منظر دیکھنے کو ملا۔ پریڈ کا اختتام آٹھ کلومیٹر کی دوری طے کرنے کے بعد لال قلعہ پر ہوا۔بری فوج کے چھ مارچنگ دستوں اور چھ بینڈوں، بحریہ کے ایک ایک بینڈ اور مارچنگ دستے اور ایک جھانکي اور فضائیہ کے مارچنگ اسکواڈ، بینڈ اور گاڑیوں کی ایک ٹکڑی نے پریڈ میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ بی ایس ایف، سی آر پی ایف، سی آئی ایس ایف اور دہلی پولیس کے ایک ایک بینڈ اور مارچنگ اسکواڈ، کوسٹ گارڈ کا ایک مارچنگ دستہ اور این سی سی کے طلبہ و طالبات کا ایک ایک مارچنگ دستہ بھی پریڈ میں شامل ہوا۔ مارچنگ دستوں سے پہلے ملک میں تعمیر کیا گیا ہلکا لڑاکا طیارہ تیجس اور دھنش توپ نے راج پتھ کے دونوں طرف موجود سامعین اور مہمانوں کی تالیاں حاصل کیں۔دھنش کو پہلی بار عوامی طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ اسے ہندوستانی فوج کیلئے کافی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ بوفورس توپ کے بعد فوج کو ملنے والی یہ پہلی بڑی توپ ہے ۔ اتنا ہی نہیں ٹی -90 ٹینک، آکاش اور برہموس میزائل، سی بی آر این یعنی کیمیکل، بایولوجیکل، ریڈیولاجیکل اور نیوکلیئر ریڈیشن ڈیٹیکشن مشین بھی راج پتھ پر نظر آئے ۔ایئر فورس کے ملکی طاقت کی علامت لڑاکا طیارے تیجس بھی پہلی بار یوم جمہوریہ پریڈ کا حصہ بنا۔ تقریبا دو دہائی کے وقفے کے بعدیہ دوسرا موقع ہے جب کوئی دیسی لڑاکا طیارہ راج پتھ پر فضائیہ کی طاقت کو پیش کرے ۔ اس سے پہلے 1980 کی دہائی میں ملکیلڑاکا طیارہ ماروت نے یوم جمہوریہ پریڈ کے موقع پر فلائی پاسٹ میں اپنے جوہر دکھائے تھے ۔ ہندوستان ایئروناٹکس لمیٹڈ کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا تیجس آٹو پائلٹ خصوصیت کے ساتھ مہلک میزائل، بم اور دیگرہتھیاروں سے لیس جدید طیارہ ہے ۔ فلائی پاسٹ کے لئے تین تیجس طیاروں نے بیکانیر کے قریب نال ہوائی پٹی سے پرواز بھری تھی۔

تبصرے