بچاؤوالے کینسر سے زیادہ خواتین مر رہی ہیں

26 جنورى 2017 (08:35)

نئی دہلییواین آئی طبی سائنس کیلئے مشکل اور سماجی ساخت کیلئے انتہائی مہلک اشارہ ہے کہ ملک میں ہر سات منٹ میں ایک عورت کی موت اس کینسر سے ہو رہی ہے جس سے آسانی سے بچا جا سکتا ہے ۔ ملک کی آدھی آبادی سب سے زیادہ سروائکل ﴿بچہ دانی﴾ کینسر کی وجہ سے موت کی گود میں سما رہی ہے جبکہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً دو لاکھ 66 ہزار خواتین اس کینسر میں مبتلا ہورہی ہیں۔ عالمی صحت تنظیم ﴿ڈبلیو ایچ او﴾ کی کمیونی کیشنز آفیسر لارا اسمینکي کے مطابق گزشتہ 30 برسوں کے دوران وقت سے تحقیقات اور علاج کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں سروائیکل کینسر سے ہونے والی اموات میں کمی آئی ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں یہ صورت حال برعکس ہے ۔ ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں اس کینسر سے سب سے زیادہ خواتین مر رہی ہیں۔ اس سے پہلے چھاتی کے کینسر سے ان ممالک میں سب سے زیادہ خواتین کی جان جا رہی تھی۔ لارا اسمینکي کے مطابق دنیا بھر کی خواتین کی موت کا چوتھا سب سے بڑا سبب سروائیکل کینسر ہے ۔ یہاں بھی دیکھنے والی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں 15 سے 44 سال کی عمر تک کی خواتین کی موت کی یہ دوسری سب سے بڑی وجہ ہے ۔ ہر سال سروائیکل کینسر کے پانچ لاکھ 27 ہزار 624 نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جن میں دو لاکھ 65 ہزار 672 خواتین کی موت ہو جاتی ہے ۔ گلوبل بھاٹیہ اسپتال کی خواتین کے امراض کے محکمہ کی سربراہ ڈاکٹر اندو بھاٹیہ نے یواین آئی سے آج کہا کہ، ‘‘یہ بہت ہی افسوس کی بات ہے کہ جس بیماری سے 100 فیصد تک بچا جا سکتا ہے وہی بیماری ہماری خواتین کی جان لے رہی ہے ۔ اس کے لئے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ایک طرف ہم غربت اور ناخواندگی کو اس کی وجہ مان سکتے ہیں تو دوسری طرف اپنی صحت کے تئیں عورتوں کی صدیوں پرانی لاپرواہ اور ٹال مٹول کی عادت کو بھی الزام دے سکتے ہیں۔ ہاں، اس بیماری کی بیداری کی کمی بھی اس کی اہم وجوہات میں سے ایک ہے ۔

تبصرے