کسی کو استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں :جیٹلی

19 اپريل 2017 (06:40)

نئی دہلییو این آئی حکومت نے کل کہا ہے کہ اجودھیا میں متنازع بابری مسجد منہدم کئے جانے سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم سے کوئی نئی صورت پیدا نہیں ہوئی ہے اور اس کے مدنظر کسی کو استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ مرکزی وزیر خزانہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے کل یہاں نامہ نگاروں سے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل پوچھنے پر کہا کہ یہ معاملہ 1993سے کسی نہ کسی صورت میں چل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس حکم سے کوئی نئی صورت پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ پہلے سے جو پوزیشن ہے وہی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کے نام اس معاملے میں آئے ہیں وہ پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر رہ چکے ہیں۔ ایک مرکزی وزیر ﴿اوما بھارتی﴾کا بھی نام اس معاملے میں آنے کے بارے میں پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ اگر معاملہ درج ہونے سے ہی عہدہ چھوڑ دینے کا پیمانہ نافذ کیا جائے تو کانگریس کا کوئی لیڈر اور وزیر اعلی اپنے عہدہ پر نہیں رہے گا۔ یہ پوچھنے پر کہ اس معاملے میں مسٹر لال کرشن اڈوانی کا بھی نام شامل ہے اور اگر حکومت انہیں صدر بنانا چاہتی ہے تو کیا عدالت کا آج کا حکم اس کی راہ میں حائل ہوسکتا ہے ۔ مسٹر جیٹلی نے اس کا جواب یہ کہتے ہوئے ٹال دیا کہ یہ سوال ہی خیالی ہے ۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اجودھیا میں متنازع بابری مسجد کو منہدم کرنے کے معاملے میں بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، مسٹر مرلی منوہر جوشی اور مرکزی وزیر اوما بھارتی سمیت بارہ لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش تیار کرنے کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے ۔

تبصرے