بی جے پی کا فیصلہ یکطرفہ، اپوزیشن صدارتی اُمیدوار پر 22جون کو فیصلہ کرے گا:کانگریس

19 جون 2017 (06:18)

نئی دہلی/یو این آئی/ کانگریس نے بہار کے گورنر رام ناتھ کووند کو قومی جمہوری اتحاد کا صدارتی امیدوار بنانے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کل کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں 22 جون کو اس سلسلے میں فیصلہ لیں گی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا کہ بی جے پی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو امیدوار کا نام طے کرنے کے بعد اس کی اطلاع دی ہے ۔ پارٹی کو ایسی توقع نہیں تھی۔ لگتا ہے کہ صرف خانہ پری کے لئے کانگریس لیڈروں کو اس کی اطلاع دی گئی ہے ۔

زرعی قرضوں پر پانچ فیصد سود کی رعایت

14 جون 2017 (03:40)

نئی دہلی/یو این آئی/ حکومت نے زرعی قرضوں کی بروقت ادائیگی کرنے والے کسانوں کو سود میں تین فیصد چھوٹ دینے اور دو فیصد کی سبسڈی دینے کا فیصلہ لیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کی کل یہاں ہوئی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا۔ کسانوں کو راحت دینے کے مقصد سے یہ فیصلہ لیا گیا ہے ۔ زرعی قرض پر نو فیصد کی شرح سے سود لیا جاتا ہے ۔ اب پانچ فیصد کی چھوٹ ملنے سے کسانوں کو چار فیصد سود کی ادائیگی کرنی ہوگی۔

مودی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں :راہل

12 جون 2017 (10:51)

نئی دہلی/یواین آئی/ کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اقلیتوں، دلتوں اور کمزور طبقے کے لوگوں کے خلاف منافرت پھیلا رہے ہیں جسے وزیر اعظم نریندر مودی بھی ہوا دے رہے ہیں۔ مسٹر گاندھی نے ’نیشنل ہیرالڈ‘کو دیئے انٹرویو میں کہا کہ بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پایا جارہا ہے جسے بی جے پی اور سنگھ ناراضگی اور نفرت میں تبدیل کر رہے ہیں ۔ اس کو وہ مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں استعمال کر رہے ہیں اور بھائی بھائی کو لڑا رہے ہیں۔

مودی حکومت میں کسانوں کی خود کشی میں اضافہ :کانگریس

11 جون 2017 (07:47)

نئی دہلی/یو این آئی/ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی طرف سے مسلسل نظر انداز کرنے ، کسان بہبود کے ضروری منصوبوں میں کٹوتی اور بدنیتی سے کئی ریاستوں کو ’ڈیزاسٹر ریلیف‘فراہم نہ کیے جانے سے کسانوں میں زبردست مایوسی ہے جس کی وجہ سے زرعی برآمدات میں زبردست کمی آئی ہے ۔کانگریس نے مودی حکومت کے تین سال کی مدت میں کسانوں کی حالت کے بارے میں انن داتا۔ مرتیو کی ابھیشاپنام سے آٹھ صفحے کی ایک کتابچہ شائع کیا ہے ۔ کتابچے میں کسان کو سرکار کی بے رغبتی سے متاثرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس دوران روزانہ 35کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔