خستہ حال سڑکوں کی تعمیر و تجدید

25 مارچ 2017 (06:18)

 صوبائی کمشنر نے گذشتہ دنوں اعلیٰ افسروں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی جس میں شہر کی خستہ حال سڑکوں اور گلی کوچوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی کمشنر نے افسروں کو ہدایت دی کہ سڑکوں کی تعمیر و تجدید کا کام فوری طور پر شروع کیاجائے تاکہ لوگوں کو راحت مل سکے۔ جہاں تک شہر سرینگر کا تعلق ہے تو شاید پورے ملک میں یہ ایک ایسا شہر ہوگا جہاں کی سڑکیں اور گلی کوچے انتہائی خستہ حالت میں ہیں جس سے پورا شہر بد صورت اور بے ڈھنگا لگتا ہے لیکن عرصہ دراز سے اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جارہی ہے اور اسطرح شہر سرینگر کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

کشمیرپروزیرداخلہ کا بیان

23 مارچ 2017 (06:10)

 مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا حالیہ بیان جو انہوں نے کشمیر کے حوالے سے پارلیمنٹ میں دیا ہے اور جس میں انہوں نے کہا کہ حکومت ہندپاکستان کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہے مختلف سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بناہوا ہے اور اسے ہند پاک تعلقات کے حوالے سے مثبت طرز عمل کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے کیونکہ اوڑی میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ اور اس کے بعد بھارت کی طرف سے سرجیکل سٹرایک کے دعوے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں زبردست کشید گی پیدا ہوگئی ہے پاکستان بارباریہ کہتا آیا ہے کہ وہ اوڑی حملے میں وہ کسی بھی طور ملوث نہیں ہے جبکہ وہ بھارت کے اس دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دے رہا ہے کہ اس نے سرجیکل سٹرایک کی ہے

آبی تنازعے پر بات چیت کا دورناکام

22 مارچ 2017 (06:20)

پاکستانی حکام کا یہ دعویٰ کہ بھارت نے دریائے چناب پر مجوزہ پن بجلی منصوبے کے ڈیزائین کی تبدیلی پر رضامندی ظاہر کی ہے اسے بظاہر دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے اگرچہ بھارت کے طرز عمل میں مثبت تبدیلی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجود اس بارے میں دو رائیں نہیں ہوسکتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان آبی تنازعے پر ہوئی بات چیت کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی ہے کیونکہ فریقین نے بعض اہم متنازعہ امور پر جو موقف اختیار کیا ہے اس سے مسئلہ جوں کا توں رہا ۔ تقریباً دو سال بعد منعقد ہونے والے اس مذاکراتی دور میں دریائے چناب پر تین متنازعہ آبی منصوبوں میار ، پکال دل اور لوئیرکلنائی کے ڈایزئینوں پر بات چیت ہوئی۔

سڑکوں کی خستہ حالی اور محکمہ تعمیرات

28 فرورى 2017 (10:05)

 غالباًاس ریاست کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے جب کسی وزیر نے واٹس اپ پر بھیجی گئی تصویر کو دیکھ کر لوگوں کی جائیز شکایت کا ازالہ کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ آیندہ بھی لوگ واٹس اپ یا سوشل میڈیا کے دوسرے ذرایع سے اپنی با تصویر شکایات سے وزیر یا کمشنر سیکریٹری کو باخبر کرسکتے ہیں جس پر فوری کاروائی کی جاسکتی ہے ۔وزیر تعمیرات نعیم اختر نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں دو افراد نے واٹس اپ پر سڑکوںکی خستہ حالی کی تصاویر بھیج دی تھیں جس پر فوری عمل کرکے کاروائی کے احکامات صادر کئے گئے

سرینگرجموںشاہراہ قابل بھروسہ نہیں رہی

07 فرورى 2017 (06:53)

 سوموار 6فروری شام کو محکمہ ٹریفک حکام کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ سرینگر جموں شاہراہ پر جہاں جہاں پسیاں اور چٹانیں گری تھیں وہاں ان کو مشینری اور افرادی قوت کے ذریعے صاف کیاگیا اور اس کے بعد ادھمپور اور جموں میں درماندہ چھوٹی گاڑیوں کو سرینگر کی طرف روانگی کی اجازت دی گئی ۔لیکن جو لوگ میلوں پیدل چل کر اور زبردست مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے نے سڑک کی جو حالت بتائی وہ سن کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

برفانی تودوں کا قہر

26 جنورى 2017 (08:34)

 اس بار وادی میں شدید برفباری اور برفانی تودوں نے قہر بپا کیا اور آخری اطلاعات ملنے تک برفانی تودوں کی زد میں آکر ایک درجن سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ تقریبا ًپچاس سے زیادہ رہایشی مکانات اور دوسرے ڈھانچے زمین بوس ہوگئے ہیں ۔کئی برسوں کے بعد اس بار چلہ کلاں میں حد سے زیادہ برفباری ہوئی جس سے زندگی کا پورا ڈھانچہ متاثر ہوگیا ۔اور لوگوں کوبرفباری سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بجلی اور پانی کی فراہمی میں خلل پڑگیا ہے جبکہ اشیاے ضروریہ کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے وادی کیلئے ہوائی سروس بند پڑی ہے جبکہ سرینگر جموں شاہراہ پر بھی پسیاں گرنے سے اس پر گاڑیوں کی آمد ورفت روک دی گئی ہے

ویجی لنس تجاویز پر عمل درآمد کی ضرورت

25 جنورى 2017 (08:07)

سماج میں پنپنے والی ہر برائی کی جڑ رشوت سے شروع ہوتی ہے ۔اور جس سماج میں رشوت نے اپنی جڑیں مضبوط کی ہونگی اس میں کوئی کیسے اصلاح و احوال کی امید کرسکتا ہے ۔یہی حال ہمارے سماج کا بھی ہے یہاں رشوت ستانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس پر اب قابو پانا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن لگتا ہے ۔لیکن اس دوران ویجی لنس کمیشن نے اس وبا پر قابو پانے کیلئے ریاستی حکومت کو کئی تجاویز پیش کی ہیں ۔ان تجاویز کی فہرست لمبی چوڑی ہے لیکن سب سے بہترین تجویز یہ ہے کہ ہر محکمے ،ہسپتال اور چیک پوسٹ پر سی سی ٹی وی نصب کرنے کی بات کہی گئی ہے

آبی تنازعہ خطرناک رُخ اختیار کرسکتا ہے

23 جنورى 2017 (07:16)

 بھارت اور پاکستان کے درمیان اب پانی کا تنازعہ بڑھنے لگا ہے اور وزیر اعظم ہند کے اس بیان ،جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت بقول ان کے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہے سے پاکستان میں تشویش پائی جانے لگی ہے ۔اس دوران پاکستان نے عالمی بنک سے بار بار رجوع کیا تاکہ بھارت کو اس طرح کے کسی بھی امکانی اقدام سے روکا جاسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے اور جیسا کہ پہلے بھی ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے سے منحرف ہوگیا اور پاکستان کیلئے پانی بند کردیا گیا تو پاکستان دوسرا صومالیہ بن سکتا ہے ۔اگرچہ پاکستانی حکام بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو ایسا نہیں کرنے دینگے لیکن بھارتی وزیر اعظم کے اس بارے میں حالیہ بیانا ت سے محسوس ہوتا ہے کہ نئی دہلی سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کے بارے میں سنجیدہ ہے ۔

آبی تنازعہ خطرناک رُخ اختیار کرسکتا ہے

22 جنورى 2017 (07:44)

 بھارت اور پاکستان کے درمیان اب پانی کا تنازعہ بڑھنے لگا ہے اور وزیر اعظم ہند کے اس بیان ،جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت بقول ان کے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہے سے پاکستان میں تشویش پائی جانے لگی ہے ۔اس دوران پاکستان نے عالمی بنک سے بار بار رجوع کیا تاکہ بھارت کو اس طرح کے کسی بھی امکانی اقدام سے روکا جاسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے اور جیسا کہ پہلے بھی ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے سے منحرف ہوگیا اور پاکستان کیلئے پانی بند کردیا گیا تو پاکستان دوسرا صومالیہ بن سکتا ہے

سرینگر جموںشاہراہ پرسرائیوں کی تعمیر

16 جنورى 2017 (07:46)

 محکمہ موسمیات کی برفباری سے متعلق پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور سوموار 16جنوری صبح صادق سے ہی برفباری کا جو سلسلہ شروع ہوا اگرچہ شہر اور اس کے مضافات میں وہ دوپہر تک ہی جاری رہا لیکن وادی کے کئی بالائی علاقوں اور خطہ چناب میں برفباری دن بھی جاری رہی جس سے ظاہر ہے کہ روزمرہ کی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی اور خاص طور پر سرینگر جموں شاہراہ گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند کردی گئی ۔وادی میں بھی کئی علاقوں کا ضلع صدر مقامات سے رابطہ کٹ کر رہ گیا کیونکہ شدید برفباری کے نتیجے میں بہت سی سڑکوں پر آمد ورفت مسدود ہوکر رہ گئی ۔اس طرح لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔