جی ایس ٹی ۔فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا جائے

19 جون 2017 (06:17)

 حال ہی میں ریاستی اسمبلی کے ایک روزہ اجلاس میں اپویزیشن ممبروں نے بیک زبان جی ایس ٹی کے نفاذ کی بھر پور انداز میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ مرکزی قانون یہاں لاگو کیاگیا تو اس سے نہ صرف اس ریاست کی خصوصی پوزیشن متاثر ہوگی بلکہ اس کے علاوہ ریاست جموں کشمیر کی اقتصادی خود مختاری بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ہے۔ اسمبلی کایہ اجلاس صرف جی ایس ٹی پر بحث کیلئے طلب کیاگیاتھا اور پہلے جو کلینڈر جاری کیاگیاتھا اس کے مطابق 17جون سے شروع ہوکر یہ اجلاس 21جون تک جاری رہنا تھا لیکن اپوزیشن کے تیور دیکھ کر اس بات کا فیصلہ کیاگیا کہ اب اجلاس صرف ایک دن تک ہی محدود ہوگا اور عید کے بعد باقی دنوں کی کاروائی منعقد کی جائے گی۔

 کیا اسمبلی کا خصوصی اجلاس ملتوی ہوگا ؟

14 جون 2017 (03:39)

 جی ایس ٹی کے امکانی نفاذ پر اس ماہ کی 17تاریخ کو اسمبلی کا جو خصوصی اجلاس طلب کیاگیا ہے اپوزیشن نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سیشن کو ملتوی کیا جائے کیونکہ اپوزیشن کاکہنا ہے کہ اگر اس ریاست میںجی ایس ٹی لاگو کیاجاتا ہے تو اس سے بقول ان کے نہ صرف ریاست کی خصوصی پوزیشن متاثر ہوگی بلکہ ریاست کو مالی خود مختاری سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں ۔ 13جون کو ایس کے آئی سی سی میں وزیر اعلیٰ نے جی ایس ٹی کے امکانی نفاذ پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے آل پارٹیز میٹنگ طلب کی تھی

شہرکے ہرٹیج مارکیٹ اور سڑکیں

12 جون 2017 (10:49)

 وزیر تعمیرات نعیم اختر نے گذشتہ دنوںحضوری باغ اور پولو ویو مارکیٹ کا دورہ کیا اور دونوں مارکیٹوں کی موجودہ صورتحال کا جائیزہ لیا اور اس دوران فٹ پاتھ والوں اور ریڈی فروشوں کے مسایل سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد ان کو اس بات کا یقین دلایا کہ ریاستی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ہر طبقے کی فلاح و بہبود کیلئے کوشاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے فٹ پاتھ والوں اور ریڈی فروشوں کیلئے مخصوص مقامات پر جگہیں فراہم کیں تاکہ وہ اپنا روز گار اچھی طرح سے کما سکیں اور ٹریفک میں بھی خلل نہ پڑے۔

آلودگی پر کیسے قابو پایاجاسکتا ہے؟

11 جون 2017 (07:45)

 ریاستی محکمہ جنگلات نے اپنی شجر کاری مہم کا آغاز کیا ہے اور اس کا افتتاح ریاست کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کیا اس موقعے پر انہوں نے شجر کاری کی اہمیت بیان کرتے ہوئے صلاح دی کہ ہرکنبے کو ایک بچہ پیدا ہونے پرکم از کم ایک ایک پودا لگانا چاہئے ۔اس دوران ریاست کے وزیر جنگلات نے بتایا کہ زبرون کی پہاڑی پر 25لاکھ سے زیادہ پودے لگائے جاینگے کیونکہ اس سے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔وزیر اعلیٰ کا کہنا درست اور بجا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بارے میں سرکار کے ساتھ ساتھ لوگ کس حد تک شجر کاری کی اہمیت اور افادیت سے واقف ہیں۔

جی ایس ٹی کا نفاذ اور تاجروں کے خدشات

08 جون 2017 (03:59)

بھارت کی تمام ریاستوںمیں سواے جموںکشمیر یکم جولائی سے جی ایس ٹی لاگو ہوگا ۔اس ریاست میں اسلئے یہ مرکزی قانون لاگو نہیں کیاجاسکتا ہے جب تک اسکی ریاستی اسمبلی کی طرف سے توثیق نہیںکی جاے گی کیونکہ آئین کی دفعہ 370کے تحت اس ریاست کو خصوصی پوزیشن حاصل ہے اور جب تک ریاستی اسمبلی میں کسی بھی مرکزی قانون کی توثیق و تصدیق نہیں کی جاے گی تب تک وہ اس ریاست پر لاگو نہیں کیاجاسکتا ہے ۔اب چونکہ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے ان حالات میں ریاستی حکومت کو بھی اس بارے میں کوئی ایسا فیصلہ لینا ہوگا جس سے تاجر اس قانون کے دایرے میں لائے جاسکتے ہیں

سڑک کناروں پر بھاری بھرکم درخت

07 جون 2017 (11:07)

موسم نے ایک بار پھر اپنی قہر سامانیوں سے وادی میں تباہی مچادی۔ اس بار نہ صرف کھڑی فصلیں اور میوہ تباہ ہوگیا بلکہ زور دار آندھی اور شدید ژالہ باری کے نتیجے میں درختوں کے پتے بھی جھڑ گئے اور ہزاروں درخت جڑوں سے اکھڑ گئے جبکہ مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ موسم کی قہر سامانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنوبی کشمیر میں سرینگر جموں شاہراہ پر جہاں جہاں بھی سڑکوں کے کناروں پر سفیدے کے اونچے اونچے درخت تھے ان میں سے بیشتر اکھڑ گئے اور سڑکوں پر گرگئے اس دوران ایک گاڑی پر بھی بھاری بھر کم درخت گرپڑا جس سے گاڑی کو کافی نقصان پہنچا البتہ گاڑی چلانے والا بال بال بچ گیا۔

میڈیکل کالجوں میں خالی عہدوں پر تقرریوں کی ضرورت

05 جون 2017 (03:48)

 سال 2014جب ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزادمرکز میں وزیر صحت تھے نے اس وقت اس ریاست میں پانچ نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کا اعلان کیاتھا اور کہا تھا کہ اس ریاست میں ہیلتھ سیکٹر کو مزید وسعت دینے کیلئے نئے میڈیکل کالجوں کاقیام ناگزیر بن گیا ہے چنانچہ اس وقت اننت ناگ اور بارہمولہ میں دو نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کا اعلان کیاگیا تھا اس کے ساتھ ہی جموں خطے میں تین نئے کالجوں کو بھی قایم کرنے کا مرکزی حکومت نے اعلان کیا۔ جموں میں یہ کالج نگروٹہ راجوری ، کٹھوعہ اور ڈوڈہ میں قایم کئے جارہے ہیں۔

بوتل بند لفافہ بند اور ڈبہ بند اشیائ کی لیبارٹری جانچ نہیں ہوتی ہے

04 جون 2017 (07:46)

 اس سے قبل ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے اس وقت بازاروں میں جو بوتل بند پانی دستیاب ہے اس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی لحاظ سے معیار کے مطابق نہیں ہے کیونکہ لوگوں کا کہنا ہے کہ بعض برانڈجو بازاروں میں بکتے ہیں کے استعمال سے ان کو دست اور قے کی بیماریاں لگ گئی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بوتلوں میں نلوں یا ڈل کا پانی بھر کر بازاروں میں فروخت کیاجاتا ہے ۔تعجب تو اس بات کا ہے کہ متعلقہ حکام کی طرف سے اس بارے میں کوئی بھی کاروائی نہیں کی جاتی ہے جبکہ قاعدے قانون کے مطابق جو بھی نیا برانڈ بازار میں آتا ہے اس کی پہلے لیبارٹری جانچ ضروری ہونی چاہئے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ آیا یہ معیاری ہے یا نہیں۔

ایجنڈاآف الائنس پر عمل درآمد میں تاخیر کیوں؟

02 جون 2017 (10:55)

 حکمران جماعت پی ڈی پی نے گذشتہ دنوں ایک پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایمان کا مقالہ قرار دیا اور واضع کیا کہ یہ پارٹی کے بانی مفتی محمد سعید کے کشمیر سے متعلق نظرئیے کی بنیاد ہے۔ اس پارٹی کے اہم رکن اور نائب صدر سرتاج مدنی نے گذشتہ دنوں اپنی پارٹی کے کشمیر سے متعلق موقف کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا جو آج کل سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اس بیان میں کہاگیا کہ کشمیر مسئلے کا حل مزید تاخیر کا متحمل نہیں مسئلے ہے اس کے ساتھ ہی سرتاج مدنی نے مسئلہ کشمیر کے حل کو پارٹی کی اساس قرار دیا اور کہا کہ مفتی سعید کے خیالات اور ور نظرئیے کی سرحد کے آر پار پذیرائی ہوئی تھی۔

 ماہ رمضان میں مسائل و مشکلات

31 مئ 2017 (10:11)

ماہ رمضان کی آمد سے پہلے انتظامیہ کی طرف سے اس متبرک مہینے میں روزہ داروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کے جو دعوے کئے گئے تھے وہ سراب ثابت ہونے لگے ہیں ۔اس کی ایک دو نہیں بلکہ کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔سب سے پہلے بجلی اور پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا اعلان کیاگیاتھا لیکن اس وقت مختلف علاقوں سے جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق متعدد علاقوں میں لوگوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے کیونکہ نل خشک پڑے ہیں ۔ کئی علاقوں میںرہنے والے لوگوں نے بتایا کہ مساجد میں بھی وضو کرنے کے لئے پانی مشکل سے ہی دستیاب رہتا ہے