وادی کے ترقیاتی پروجیکٹوں کی تکمیل میں دیری کیوں؟

21 مئ 2017 (06:02)

وادی میں جتنے بھی ترقیاتی پروجیکٹ شروع کئے جاتے ہیں یا شروع کئے گئے ہیں وہ کبھی بھی مقررہ مدت کے اندر اندر پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے ہیں یا پہنچانے کی کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ کوشش نہیں کی گئی اس کی ایک دو نہیں بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں ۔ہر دور حکومت میں لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا جاتا رہا ہے کہ ترقیاتی پروجیکٹ ایک مخصوص تاریخ تک پورے کئے جاتے ہیں لیکن جب ہم ماضی کے اوراق الٹ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی پروجیکٹ مقررہ مدت تک پورا نہیں کیاگیا ہے ۔

سرشام ٹریفک کی عدم دستیابی ؟

19 مئ 2017 (05:49)

اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں وادی میں ٹریفک نظام میں بہتری لانے کے بارے میں حکام کی توجہ بعض اہم امور کی طرف مبذول کروائی گئی تھی اور اب ایک بار پھر سے اس بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے

سرکاری احکامات پر عملدرآمدکرنے کی ضرورت

16 مئ 2017 (05:43)

وزیر اعلیٰ نے سیکریٹریٹ کھلنے کے پہلے ہی دن انتظامی سیکریٹریوں کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوے ان پر زور دیا کہ وہ لوگوں کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتیں

لال چوک کی شان رفتہ بحال کی جائے

15 مئ 2017 (05:48)

 لال چوک کی تاریخی حیثیت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے ۔ کیونکہ لالچوک جسے کبھی شہر کا دل تصور کیاجاتا تھا اب اپنی شان رفتہ کھو بیٹھا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وقت وقت کی حکومتوں کی طرف سے اس کی جانب عدم توجہی قرار دی جاسکتی ہے ۔

نئی دہلی میں کشمیر پرسیاسی سرگرمیاں تیز

12 مئ 2017 (06:32)

     کشمیر میں کب کیا ہوگا اس بارے میں پہلے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔آج کل سٹوڈنٹ ایجی ٹیشن چل رہی ہے ۔کبھی یہ رفتار پکڑتی ہے تو کبھی دھیمی پڑجاتی ہے ۔اس دوران شوپیاں میں ایک فوجی افسر کے اغوااورقتل نے حالات کی پیچیدگیوں کو اور بھی بڑھادیا ہے ۔اس وقت ہر طرف افراتفری کا ماحول ہے اورسیاسی سطح پر غیر یقینی کی سی صورتحال پائی جاتی ہے ۔حال ہی میں کانگریس نے ریاست کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے کشمیر پالیسی ساز کمیٹی کا قیام عمل میں لایا ہے اور اس کمیٹی کے سربراہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ بناے گئے ۔

سرینگربین الاقوامی معیارکا شہر کیوں نہیں بن سکا؟

07 مئ 2017 (05:34)

 سرینگر کو بین الاقوامی معیار کا شہر بنانے کیلئے وزیر تعلیم سید الطاف بخاری نے ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کام میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں تاکہ اس شہر کو اتنا خوبصورت بنایا جاسکے تاکہ ہر کوئی اس کی مثال دے سکے ۔ گذشتہ دنوں بنکٹ ہال میں ایک اعلیٰ پایہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں جہاں تعمیر و ترقی کے کاموں کو ترجیح دی جائے گی وہیں پر گندگی اور غلاضت سے بھی شہر کو پاک کرنا ضروری ہے کیونکہ اس شہر کو حال ہی میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق سب سے زیادہ گندہ شہر قرار دیاگیا ۔

ہارون

06 مئ 2017 (05:47)

    کشمیر جو قدرتی مناظر کیلئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اور یہ علم و ادب کا گہوارہ بھی رہا ہے یہاں بڑے عالم و فاضل پیدا ہوئے جو کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھتے تھے اسی لئے کشمیر کو ’’ریشہ واری‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جا تا ہے۔ یہاں پر ہر جگہ آثار قدیمہ کے نشانات نظر آتے ہیںجن کی وابستگی بُدھ مذہب ، ہندو دھرم اور اسلام سے رہی ہیں۔  ان ہی آثار قدیمہ میں بُدھ دھرم کے آثار ہارون میں پائے جاتے ہیں ہارون ایک چھوٹا سا گائوں ہے جو سرینگر سے تقریباً ۸۱ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ہندپاک مذاکرات سے ہی امن قائم ہوگا

05 مئ 2017 (08:59)

 اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور کشیدگی اس وقت سے زیادہ بڑھ گئی جب پونچھ سیکٹر میں کرشنا گھاٹی کے قریب دونوں ملکوں کی فوج کے درمیان گولہ باری ہوئی جس میں دو بھارتی سپاہی مارے گئے۔ بھارت سے پاکستانی فوج پر الزام عاید کیا کہ اس نے ان دونوں فوجیوں کی لاشیں اپنی تحویل میں لینے کے بعد ان کے سر دھڑوں سے الگ کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی ہے۔ اس سلسلے میں نئی دہلی میں مقیم پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ پر طلب کرکے انہیںاحتجاجی نوٹ تھمادیا گیا لیکن پاکستانی ہائی کمشنر نے وزارت خارجہ کے حکام کو بتایا کہ پاکستانی فوج نے بھارتی فوجیوں کی لاشوں کی کوئی بے حرمتی نہیں کی ہے اور یہ محض الزام ہے

  سرینگر ۔۔تاریخ کے جھروکے سے حضرت بل,

04 مئ 2017 (09:59)

    کشمیر دنیا میں ایک خوبصورت مقام ہے قدرت نے اس وادی کو اپنے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور ان ہی نعمتوںمیں سب سے زیادہ موئے شریف حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہاں پر ہونا ہے۔ موئے شریف جہاں پر مقیم ہے اس جگہ کا نام حضرت بل ہے۔ ڈل کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ اور اس جگہ کی موئے شریف کی اپنی ایک خصوصی پہنچان ہے۔ پرانی مسجد جہاں پر موئے شریف مقیم تھا سترھویں صدی عیسوی میں تعمیر کی گئی ہے جس وقت پورے ہندوستان میں شاہجہاں کی حکمرانی تھی۔ شاہ جہاں کے گورنر صادق خان نے اس کو تعمیر کیا۔

,

ریاست میں سیاسی سطح پرغیر یقینی صورتحال

01 مئ 2017 (07:24)

 جب سے حکومت ہند نے سپریم کورٹ میں دائیر ایک رٹ کے دوران اس بات کا واشگاف طور پر اعلان کیا کہ کشمیر میں علیحدگی پسندوں کے سوا ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ بات ہوسکتی ہے کے بعد یہاں مخلوط حکومت میں شامل دونوں پارٹیوں میں اندرونی سطح پر تنائو کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اوردلی سے کشمیر تک بی جے پی کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر اس بات کی رٹ لگائے رہتا ہے کہ کشمیر میں صرف مین سٹریم جماعتوں کے ساتھ ہی بات ہوگی اوراسکے بغیر کسی کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔