جموں اور لداخی باشندے سب سے زیادہ متاثر ہونگے

16 اگست 2017 (03:34)

 بھارت کے ایک معروف قانون داں رام جیٹھ ملانی کے بارے میںپروفیسر سیف الدین سوز کے حالیہ انکشاف کے بعد کم از کم ایک موہوم سی امید پیدا ہوگئی ہے کہ کوئی بھی ریاست کے آئین اور خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا ہے کیونکہ اس وقت ایک ایسا ماحول قائم کیا گیا کہ کشمیر کے بارے میں دلی والے کوئی بات سننے کو تیار نظر نہیں آرہے ہیں اس سلسلے میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے انکشاف کیا کہ اگر دلی والوںکو کشمیر کے بارے میں سچ سچ بتایا جاتا ہے تو وہ آگ بگولہ ہوجاتے ہیں اور کوئی بھی بات سننے کیلئے تیار نظر نہیں آتے ہیں۔

باہمی تعاون سے ہی کشمیر کو بچایا جاسکتا ہے

15 اگست 2017 (06:57)

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ دفعہ 370کی ذیلی دفعہ 35-Aکے بعد اب اسی کی ایک اور ذیلی دفعہ 6کو بھی سپریم کورٹ میں چلینج کیاگیا ہے اور جس کی سماعت پانچ رکنی ڈویثرن بینچ کرسکتی ہے اور اس کے لئے 29اگست کی وہ تاریخ مقرر کی گئی جس دن آرٹیکل 35-Aکی بھی سماعت متوقع ہے ۔یعنی دونوں کیسوں کی ایک ساتھ سماعت ہوگی ۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ کشمیر کی آئین ہند میں خصوصی پوزیشن پر سوالات اٹھانے کا سلسلہ برابر جاری ہے اور اب ایک اور شہری نے دفعہ 6کو بھی سپریم کورٹ میں چلینج کیا ہے۔

دفعہ 370اور الحاق ہند

13 اگست 2017 (06:02)

 جہاں تک آئین کی دفعہ 370کا تعلق ہے تو یہ الحاق ہند کے ساتھ وابستہ ہے اسلئے اگر اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی گئی تو الحاق ہند کے بارے میں ایک نیا تنازعہ جنم لے سکتا ہے اور کشمیری عوام کو ایک ایسی صورتحال سے گذرنا پڑے گا جو ان کیلئے انتہائی کٹھن ہوگی۔ اس بات کا اظہار یہاں کے سیاسی حلقے کررہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر مرکز کی طرف سے اس دفعہ کو ہٹانے کی کوئی بھی کوشش کی جاتی ہے تو ایسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جن پر قابو پانا مرکز کیلئے کارے دارد والا معاملہ بن سکتا ہے۔

آرٹیکل 35-Aکا دفاع

08 اگست 2017 (06:43)

آرٹیکل 35-Aاور جی ایس ٹی کے نفاذ کا معاملہ اس وقت پوری وادی میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور لوگ اس بات پر نالاں ہیں کہ مذکورہ آرٹیکل کو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جی ایس ٹی کے نفاذ سے اس ریاست کی مالی پوزیشن متاثر ہوسکتی ہے۔ اس وقت خاص طور پر آرٹیکل 35-Aہر حلقے اور ہر طبقے میں موضوع بحث بنا ہوا ہے اور لوگ چاہتے ہیں اس آرٹیکل کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہئے اور اسے ہر صورت میں تحفظ فراہم کیاجانا چاہئے۔

 جنگ و جدل نہیں ،امن و آشتی

07 اگست 2017 (07:00)

 وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مظفر آباد سے آئے ہوئے ایک ڈیلی گیشن کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ لوگوں کو آپس میں ملانا ان کا مشن ہے اور اس مشن کی آبیاری کرنا ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ اس کیساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آر پار بند پڑے راستوں کوکھولنا نہایت ہی اہم ہے اور اس سے اس خطے میں مالی استحکام پیدا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بات زور دے کر بتائی کہ خطے میں مفاہمت اور اقتصادی ترقی سے تشدد اور دشمنی کا خاتمہ ہوسکتا ہے اور لوگوں کو درپیش تمام مصائیب بھی ختم ہوسکتے ہیں۔ اس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان دوستی اور امن کا پیغام بھی عام ہوگا انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بات چیت کے بدلے دونوں ملکوں نے ٹکرائو کا راستہ اپنایا ہوا ہے جس کے سبب مثبت سوچ پر دھیان نہیں دیا جارہا ہے

کشمیرپر کل جماعتی اجلاس کی اہمیت اور افادیت

01 اگست 2017 (06:20)

 وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے گذشتہ دنوں اپنی پارٹی کے یوم تاسیس پر منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پر امن حل کیلئے لاہور اعلامیہ کو من و عن لاگو کرنے کی وکالت کی اور کہا کہ اس سے دیرینہ مسئلہ حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کسی کی سوچ یا خیالات کو نہ تو ختم اور نہ ہی قید کیاجاسکتا ہے بلکہ اگر نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آئے گا۔ اس دوران ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کے این ایس نے پی ڈی پی کے ذرایع کے حوالے سے بتایا کہ پارٹی کشمیر کے حال اور مستقبل پر غو و حوض کیلئے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کسی معاملے پر جامع اتفاق رائے قایم ہوسکے۔

مہلک بیماریوں کے پھیلائو پر روک کی ضرورت

31 جولاٸ 2017 (06:10)

 وادی کے بعض اضلاع میں ہیپٹائٹس بی اور سی کے پھیلنے کی اطلاعات برابر موصول ہورہی ہیں۔ اور اس پر قابو پانے کی سنجیدگی سے کوششیں نہیں ہورہی ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بیماری اس تیزی سے نہیں پھیلتی جس طرح یہ وقت پھیل رہی ہے۔ یہ انکشاف وادی کے بعض ڈاکٹروں نے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر جنوبی کشمیر کے چار اور شمالی کشمیر کے دواضلاع میں ہپٹائیٹس بی اور سی تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ شوپیان ، پلوامہ ، کولگام اور اننت ناگ میں تو اس بیماری میں بہت سے لوگ مبتلا ہوگئے ہیں۔ جن کو اس وقت طبی امداد فراہم کی جارہی ہے لیکن بعض ڈاکٹروں کاکہنا ہے کہ ریاستی حکومت اس بیماری پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ نوعیت کی کوششیں نہیں کررہی ہیں۔

آئین کی دفعہ35Aاور مرکز

30 جولاٸ 2017 (10:26)

 وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی دہلی کے ایک کنکلیومیں کی گئی وہ تقریر اس وقت سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے جس میں انہوں نے آئین ہند کی دفعہ 35Aکے خاتمے کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ اگر ایسا کیاگیا تو کشمیر میں ترنگا تھامنے والا کوئی نہیں ہوگا اور اس کی میت اٹھانے کیلئے کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا ہے۔ کشمیر کے کسی وزیر اعلیٰ نے شاید پہلی مرتبہ مرکز کو اس طرح دوٹوک انداز میں مخاطب کرتے ہوئے بغیر کسی لاگ لپٹی کے کہا کہ اگر آئین ہند کی دفعہ 370کے تحت کشمیر کو دی گئی خصوصی پوزیشن اور دفعہ 35A کو کسی بھی صورت میں چھیڑا گیا یا 35Aکو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو کشمیر میں ترنگا یعنی بھارت کاکوئی نام لیوا نہیں ہوگا اور لوگ اس سے دور ہوجاینگے۔

ریاستی وزرائ اور عوامی مسائل

28 جولاٸ 2017 (05:55)

وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کسی بھی صورت میں عوام کو مشکلات میںمبتلا نہیں ہونے دیگی اور خاص طور پی ڈی پی کاجو کیڈر ہے ان کو عوامی مسایل و مشکلات کا حل تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی اور ان پر یہ بات واضح کردی گئی کہ وہ لوگوں کو درپیش مشکلات اور مسایل کو دور کرنے کیلئے خود کو وقف رکھیں۔ محبوبہ مفتی نے گذشتہ دنوں اپنی پارٹی کے ممبران قانون سازیہ اور ضلع اور زونل صدور کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ پی ڈی پی کا یوم تاسیس سے یہی موقف رہا ہے کہ ہر صورت میں عام لوگوں کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کیا جائے۔

آرپارتجارت کی معطلی

26 جولاٸ 2017 (05:31)

 آرپار تجارت ایک بار پھر سے معطل ہوکر رہ گئی ہے اور اس تجارت سے وابستہ کاروباریوں کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تکلیف دہ صورتحال سے دوچار ہیں۔ کیونکہ جب بھی تجارت تعطل کا شکار ہوجاتی ہے تو وہ مالی مشکلات میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ حالیہ دنوں پولیس نے سرحد پار سے آنے والے ایک مال بردار ٹرک سے مبینہ طور کروڑوں مالیت کی براون شوگر بر آمد کرلی ہے اور اس سلسلے میں چکوٹھی کے رہنے والے ٹرک ڈرائیور جس کا نام محمد یوسف شاہ بتایا گیا کو گرفتار کرکے اس سے پوچھ گچھ شروع کردی۔