سڑکوں کی خستہ حالی اور محکمہ تعمیرات

28 فرورى 2017 (10:05)

 غالباًاس ریاست کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے جب کسی وزیر نے واٹس اپ پر بھیجی گئی تصویر کو دیکھ کر لوگوں کی جائیز شکایت کا ازالہ کرنے کا یقین دلایا اور کہا کہ آیندہ بھی لوگ واٹس اپ یا سوشل میڈیا کے دوسرے ذرایع سے اپنی با تصویر شکایات سے وزیر یا کمشنر سیکریٹری کو باخبر کرسکتے ہیں جس پر فوری کاروائی کی جاسکتی ہے ۔وزیر تعمیرات نعیم اختر نے اس بات کا انکشاف کیا کہ انہیں دو افراد نے واٹس اپ پر سڑکوںکی خستہ حالی کی تصاویر بھیج دی تھیں جس پر فوری عمل کرکے کاروائی کے احکامات صادر کئے گئے ۔وزیر موصوف نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ نے ایک مونٹیرنگ میکانزم متعارف کیا ہے جس کے ذریعے لوگ اپنی شکایات براہ راست متعلقہ وزیر یا محکمے کے کمشنر سیکریٹری کو بھیج سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ لوگوں کی شکایات کا محکمہ معیاد بند مدت کے اندر ازالہ کرے گا۔ اس سے قبل ان ہی کالموں میں متعلقہ محکمے کی توجہ شہر و گام خستہ حال سڑکوں کی طرف مبذول کروائی گئی اور ارباب و اقتدارسے اپیل کی گئی کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی تعمیر و تجدید کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔ سڑکوں کی خستہ حالت کی سب سے بڑی وجہ اس موسم سرما کی شدید برفباری قرار دی جاسکتی ہے کیونکہ اس سال کی برفباری ریکارڈ توڑ ثابت ہوئی جس نے سڑکوں کا ستیانا س کرکے رکھ دیا اور جیسا کہ اس سے پہلے بھی ان ہی کالموں میں لکھا جاچکا ہے کہ کسی بھی ملک یا ریاست کی ترقی کا اندازہ اس کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے اور جہاں تک وادی کے طول عرض میں سڑکوں کا تعلق ہے تو کوئی بھی سڑک اس وقت اصل ہیت میں نہیں ہے ۔ جگہ جگہ گہرے کھڈ بن گئے ہیں اور میگڈم اکھڑ گیا ہے ۔ ان سڑکوں پر چلنا انتہائی ناگوار گذرتا ہے ۔ سال 2016کے پانچ مہینے ایجی ٹیشن میں گذرے جس سے زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے ۔ اور خاص طور پر سیاحتی سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑا ۔ سیاحت سے جڑے لوگ جن میں ہوٹل مالکان ، ہاوس بوٹ مالکان ، ٹرانسپورٹر اور تاجر وغیرہ شامل ہیں نے بنکوں سے قرضہ جات حاصل کئے تھے لیکن جب سیاحتی سیزن ہی ناکام ہوا تو وہ قرضہ جات کی قسطیں ادا نہ کرسکے جس کے نتیجے میں وہ بھی سخت پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ لیکن اس سال لوگوں کو امید ہے کہ سیاحتی سیزن کامیابی سے ہمکنار ہوگا اور ان کی مالی حالت میں مثبت بدلائو لایا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کیلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ سڑکوں اور پلوں کی خستہ حالی دور کی جائے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ستمبر تک ہی میگڈم بچھایا جانا چاہئے کیونکہ اگر اس وقت جب درجہ حرارت ڈاون ہوگا میگڈم بچھایا جائے گا تو وہ جلد اکھڑ سکتا ہے گا اسلئے صرف ستمبر تک ہی میگڈم بچھایا جانا چاہئے ۔اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ وادی میں فوری طور سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام شروع کیاجائے۔

تبصرے