برفانی تودوں کا قہر

26 جنورى 2017 (08:34)

 اس بار وادی میں شدید برفباری اور برفانی تودوں نے قہر بپا کیا اور آخری اطلاعات ملنے تک برفانی تودوں کی زد میں آکر ایک درجن سے زیادہ افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ تقریبا ًپچاس سے زیادہ رہایشی مکانات اور دوسرے ڈھانچے زمین بوس ہوگئے ہیں ۔کئی برسوں کے بعد اس بار چلہ کلاں میں حد سے زیادہ برفباری ہوئی جس سے زندگی کا پورا ڈھانچہ متاثر ہوگیا ۔اور لوگوں کوبرفباری سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بجلی اور پانی کی فراہمی میں خلل پڑگیا ہے جبکہ اشیاے ضروریہ کی بھی قلت پیدا ہوگئی ہے وادی کیلئے ہوائی سروس بند پڑی ہے جبکہ سرینگر جموں شاہراہ پر بھی پسیاں گرنے سے اس پر گاڑیوں کی آمد ورفت روک دی گئی ہے ۔کئی کئی دنوں سے مال بردار ٹرک شاہراہ پر درماندہ ہیں اور ان کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیونکہ ٹریفک عملے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ شاہراہ پر صرف چھوٹی پسنجر گاڑیوں اور کانواے کو ہی چھوڑا جاتا ہے بہر حال وادی میں مختلف اشیا کی قلت پائی جاتی ہے ۔لیکن اس بار برفباری کے نتیجے میں بہت سے لوگ قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اس کے علاوہ جائیداد کا بھی نقصان ہوا ہے ۔جہاں انسانی جانوں کے زیاں کا تعلق ہے تو گریز میں برفانی تودوں نے قہر بپا کردیا ہے ۔اور ایک پورا گائوں اس کی زد میں آگیا بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ اس بستی میں رہنے والے بیشتر لوگ پہلے ہی خوف و ڈر کی وجہ سے اپنے گھر و بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے تھے لیکن چند گھرانوں نے اپنے ہی گھروں میں رہنے کو ترجیح دی تھی اور ان میں سے ایک ہی کنبے کے چار افراد برفانی تودے کی زد میں آکر موت کے منہ میں چلے گئے ۔اسی علاقے یعنی گریز میں ہی کل یعنی 26جنوری کو ایک فوجی پکٹ برفانی تودے کی زد میں آگئی اور اس کے نتیجے میں کئی فوجی لقمہ اجل بن گئے اسی طرح پٹن اور کپوارہ میں بھی کئی افراد برفباری سے جڑے واقعات میں موت سے ہمکنار ہوگئے ۔سرکاری طور پر پہلے ہی اس بات کا اعلان کیاگیا تھا کہ بالائی علاقوں میں پسیاں گرسکتی ہیں اسلئے لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ باہر نکلنے میں احتیاط برتیں لیکن اس پر عمل ندارد ۔90کی دہائی میں بھی قاضی گنڈ کے والٹینگو ناڈ میں برفانی تودے گرنے سے کئی درجن افراد لقمہ اجل بن گئے تھے اسکے بعد محکمہ مال نے اس بات کا اعلان کیاتھا کہ بالائی علاقوں میں کسی کو بھی ان مقامات پر مکان بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے جہاں برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہو لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح لوگوں کو ان مقامات پر مکان بنانے کی اجازت دی گئی جو اس حوالے سے کافی حساس ہیں ۔آفات سماوی کا کوئی کیا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ بچائو تدابیر اختیار کرنے سے جانی اور مالی نقصانات کو کم کیاجاسکتا ہے ۔لیکن گریز کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔صوبائی انتظامیہ کو رواں برفباری سے سبق حاصل کرناچاہئے اور لوگوں کو ان مقامات پر مکانات یا دوسرے ڈھانچے تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے جہاں پسیاں یا برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہو اور جس سے جانی یا مالی نقصان ہوسکتا ہے ۔

تبصرے