ویجی لنس تجاویز پر عمل درآمد کی ضرورت

25 جنورى 2017 (08:07)

سماج میں پنپنے والی ہر برائی کی جڑ رشوت سے شروع ہوتی ہے ۔اور جس سماج میں رشوت نے اپنی جڑیں مضبوط کی ہونگی اس میں کوئی کیسے اصلاح و احوال کی امید کرسکتا ہے ۔یہی حال ہمارے سماج کا بھی ہے یہاں رشوت ستانی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس پر اب قابو پانا نہ صرف مشکل بلکہ نا ممکن لگتا ہے ۔لیکن اس دوران ویجی لنس کمیشن نے اس وبا پر قابو پانے کیلئے ریاستی حکومت کو کئی تجاویز پیش کی ہیں ۔ان تجاویز کی فہرست لمبی چوڑی ہے لیکن سب سے بہترین تجویز یہ ہے کہ ہر محکمے ،ہسپتال اور چیک پوسٹ پر سی سی ٹی وی نصب کرنے کی بات کہی گئی ہے اور اگر اس تجویز کو عملایا جائے گا تو اس کے نہ صرف مثبت نتایج بر آمد ہونگے بلکہ اس سے رشوت کے لین دین پر قابو پانے میں بھی مدد بھی مل سکتی ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے کام چور ملازمین کیخلاف شکنجہ کسنے میں بھی سرکار کو مدد مل سکتی ہے کیونکہ بائیو میڑک سسٹم سے ملازمین کی حاضری یقینی بنانے میں کوئی بھی مدد نہیں مل سکی ہے بلکہ یہ ایک بے کار مشین ثابت ہورہی ہے ۔لیکن اگر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جاینگے تو اس کے خاطر خواہ نتایج بر آمد ہوسکتے ہیں اور اس سے یہ بھی پتہ چل سکتا ہے کہ دفتروں میں ورک کلچر کا ماحول کیسا ہے اور ملازمین کس طرح دن دفاتر میں گذارتے ہیں ۔ویجی لنس نے نہ صرف دفاتر بلکہ ہسپتالوں میں بھی ہر سمت سی سی ٹی وی نصب کرنے کی سفارش کی ہے اور اب ریاستی حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ جس طرح بائیو میٹرک سسٹم دفاتر میں نصب کیاگیا ہے اسی طرح اب سی سی ٹی وی بھی دفاتر میں نصب کئے جائینگے اور معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں ٹینڈرنگ کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے جس کے دو مہینے کے اندر اندر ہر دفتر میں خفیہ کیمرے نصب ہونگے ۔اسی طرح ہسپتالوں میں بھی خفیہ کیمرے نصب کرنے سے ان میں کافی حد تک سدھار لایا جاسکتا ہے کیونکہ اس وقت لوگوں کی یہ شکایت ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بڑے بڑے ڈاکٹر دن کے ایک بجے کے بعد کہیں نظر ہی نہیں آتے ہیں اور ایک بجے کے بعد اپنے پرائیویٹ کلنکوں پر بھاری فیس لے کر مریضوں کا علاج کرتے رہتے ہیں جبکہ قاعدے قانون کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر خواہ چھوٹا ہو یا بڑا یا کوئی بھی ملازم مقررہ وقت سے قبل دفتر سے نہیں نکل سکتا ہے ۔لیکن ہمارے سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکز کا باوا آدم ہی نرالا ہے کیونکہ دن کے ایک بجے نکلنے والے ڈاکٹروں سے کوئی پوچھتا تک نہیں ہے ۔لوگ اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہسپتالوں میں شام کے بعد بڑے ڈاکٹر گھر وں کو چلے جاتے ہیں اور ہسپتال میں داخل مریضوں کو جونئیر ڈاکٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑا جاتا ہے ۔سی سی ٹی وی نصب کرنے سے ایسی بے ضابطگیوں کا خاتمہ یقینی ہے اسی طرح چیک پوسٹوں پر بھی ایسے کیمرے نصب کرنے سے بد عنوائیوںکے واقعات پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا ہے بشرطیکہ حکومت اس بارے میں فوری اقدامات کرے اور تمام چھوٹے بڑے ملازمین اور افسروں کو جوابدہ بنایا جاسکے تب کہیں جاکر سماج میں پھیلی ہوئی رشوت ستانی کی وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔

تبصرے