آبی تنازعہ خطرناک رُخ اختیار کرسکتا ہے

24 جنورى 2017

 بھارت اور پاکستان کے درمیان اب پانی کا تنازعہ بڑھنے لگا ہے اور وزیر اعظم ہند کے اس بیان ،جس میں انہوں نے کہا کہ بھارت بقول ان کے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہے سے پاکستان میں تشویش پائی جانے لگی ہے ۔اس دوران پاکستان نے عالمی بنک سے بار بار رجوع کیا تاکہ بھارت کو اس طرح کے کسی بھی امکانی اقدام سے روکا جاسکے۔ ماہرین کا کہنا ہے اور جیسا کہ پہلے بھی ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ اگر بھارت سندھ طاس معاہدے سے منحرف ہوگیا اور پاکستان کیلئے پانی بند کردیا گیا تو پاکستان دوسرا صومالیہ بن سکتا ہے ۔اگرچہ پاکستانی حکام بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو ایسا نہیں کرنے دینگے لیکن بھارتی وزیر اعظم کے اس بارے میں حالیہ بیانا ت سے محسوس ہوتا ہے کہ نئی دہلی سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کے بارے میں سنجیدہ ہے ۔نئی دہلی میں جانکار سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی وقت اس بارے میں اعلان متوقع ہے کیونکہ بھارت کا موقف یہ ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کو فایدہ ملنے کے بجائے نقصان ہی اٹھانا پڑرہا ہے ۔جب پاکستان نے کچھ ماہ قبل عالمی بنک سے رابط قایم کیا تھا تو اس نے براہ راست مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو از خود یہ مسئلہ حل کرنا چاہئے اور وہ بھی اس سال فروری تک ،جس پر بھارت نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں ڈکٹیشن قبول نہیں کرسکتا ہے ۔جب پاکستان کو لگا کہ بھارت کسی بھی حال میں اس معاہدئے کو توڑ سکتا ہے تو اس نے عالمی بنک سے پھر رجوع کیا اور اس سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے تاکہ وہ معاہدے کو توڑنے کی کوشش نہ کرے اس کے ساتھ ہی پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرار داد پاس کی جس میں بھارت سے کہا گیا کہ وہ بانڈی پور میں دریائے جہلم کے کنارے زیر تعمیر کشن گنگا پروجیکٹ اور ریٹلے پروجیکٹوں پر کام بند کردے ۔اس سلسلے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازعے کو حل کرنے کیلئے ثالثی عدالت کا قیام عمل میں لانے کا مطالبہ کیاگیا اور کہا گیا کہ سندھ طاس معاہدے کی رو سے یہ ورلڈ بنک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے میں ثالثی کیلئے اقدامات کرے ۔قرار داد میں یہ بھی کہا گیا کہ جب تک ثالثی عدالت کا قیام عمل میں لایا نہیں جاتا تب تک بھارت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ کشن گنگا اور ریٹلے پروجیکٹوں پر کام بند کروائے ۔جہاں تک سندھ طاس معاہدے کا تعلق ہے تو اس بارے میں حالات وواقعات سے ایسا لگتا ہے کہ بھارت کسی بھی صورت میں اس کو توڑنے کے موڈ میں ہے اور وزیر اعظم ہند اس کیلئے مناسب موقعے کی تلاش میں ہیں جوں ہی ان کو یہ موقعہ ہاتھ آئے گا تو وہ اس معاہدے کو توڑنے کا اعلان کرسکتے ہیں ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ شاید پاکستان بار بار ورلڈ بنک سے رجوع کرتا ہے تاکہ کسی بھی امکانی صورتحال کے پیش آنے کے وقت وہ یہ کہہ سکے کہ اس نے ورلڈ بنک کو قبل از وقت اس سے آگاہ کیاتھا ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان پانی کا تنا زعہ کون سارخ اختیار کرتا ہے ۔

تبصرے