سڑکوں کی خستہ حالت اور مہلک بیماریاں

19 اپريل 2017 (06:37)

ماہر ڈاکٹروں نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وادی اور خاص طور پر شہر میں بچے بوڑھوں مرد عورتوں کو اس وقت جو بیماریاں لاحق ہورہی ہیں ان کی بنیادی وجہ وہ گرد و غبار ہے جو سڑکوں سے اٹھ رہا ہے اور جس سے بقول ڈاکٹر ٹی بی بھی لاحق ہوسکتا ہے ۔ان ڈاکٹروں نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت بیشتر لوگ چھاتی اور گلے کی بیماری میں مبتلا ہیں اور بھر پور علاج و معالجے کے باوجود لوگوں کو افاقہ نہیں ہورہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ سڑکوں سے اٹھنے والی گرد ہے جس سے نہ صرف پورا ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ اس سے اب انسانی جانوں کو بھی خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ لوگ مختلف نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا ہونے لگے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب تک سڑکیں ٹھیک نہیں ہوجاتی ہیں تب تک بیماریاں لوگوں کا پیچھا نہیں چھوڑ سکتی ہیں اور اگر اس بارے میں فوری طور کاروائی نہیں کی جاسکے گی تو لوگ ٹی بی میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں کیونکہ اس گرد سے جہاں اندروں جسم مختلف اعضا متاثر ہوتے ہیں وہاں یہ گرد و غبار سب سے پہلے پھیپھڑوں پر ہی اثر انداز ہوتی ہے ۔افسوس اس بات کا ہے کہ اس سے قبل ان ہی کالموں میں بار بار اور متعدد مرتبہ حکام کی توجہ شہر کی ٹوٹی پھوٹی اور خستہ حال سڑکوں کی طرف مبذول کروائی گئی لیکن جیسا کہ اخبارات میں آیا ہے کہ ابھی تک سو کلو میٹر سڑکوں کو بھی میکڈمائیزیشن کے دائیرے میں نہیں لایا گیااس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کو کس حد تک لوگوں کی صحت کی فکر دامن گیر رہتی ہے ؟ شہر کی ایسی ایک بھی سڑک نہیں ہے جوخستہ حالت میں نہ ہو ہر سڑک اور ہر گلی کوچہ ٹوٹا پھوٹا ہے ۔ سڑکوں پر گہر ے کھڈ اور گھڑھے اکثر و بیشتر حادثات کا بھی موجب تو بنتے ہی ہیں لیکن ایسی سڑکوں سے اس قدر گر د اٹھتی ہے کہ چلنا دشوار ہوجاتا ہے ۔یہ بھی افسوس کا مقام ہے کہ جموں میں سڑکوں پر ترجیحی بنیادوں پر میکڈم بچھا یا جاتا ہے جبکہ وادی اور خاص طور پر شہر سرینگر کو ہر معاملے میں نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ اب ان سڑکوں سے اٹھنے والی گرد سے انسانوں کو نئی نئی اور سنگین بیماریاں لاحق ہونے لگتی ہیں ۔ اس بارے میں متعلقہ وزیر کو فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔شہر سرینگر سیکریٹریٹ سے راج بھون براستہ گپکار نہیں بلکہ شہر کئی سو کلو میٹر سڑکوں پر محیط ہے لیکن اکثر و بیشتر اس بات کا مشاہدہ کیاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی ترجیح سیکریٹریٹ سے راج بھون براستہ گپکار کی سڑکوں کو ہوتی ہے کیونکہ سب وزیر امیر گورنر صرف اسی ایریا میں رہایش پذیر ہیں باقی لوگ جائیں بھاڑ میں ان کی کسی کو کوئی فکر نہیں ۔ صحت کے معاملے پر اگرچہ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ہے لیکن ریاستی حکومت سڑکوں کے معاملے میں جیسے لاپروا سی ہوگئی ہے ۔ لوگ سڑکوں کی تعمیر و تجدید کیلئے باضابطہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اسلئے اچھی اور صاف ستھری سڑکیں ان کا قانونی حق ہے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے اور حکومت اس اہم مسلے کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ سیاح بھی اب یہاں آنے سے کترانے لگے ہیں کیونکہ سڑکوں کی وجہ سے ہی تعمیر و ترقی کے راستے کھل جاتے ہیں لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے اس سے پہلے کہ لوگ جان لیوا بیماریوں میں مبتلا ہوجائینگے سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام فوری طور شرو ع کیاجانا چاہئے ۔

تبصرے