تعلیمی اداروںپرپولیس کا دھاوا کیوں اور کس لئے؟ ,,

18 اپريل 2017 (10:41)

 17اپریل سوموار کو وادی بھر میں طلبہ اور طالبات نے جو ہمہ گیر احتجاج کیا اس کی وجوہات کا پتہ چلانے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دراصل پلوامہ ڈگری کالج میں پولیس نے داخل ہوکر مبینہ طور طلبہ اور طالبات پر اس قدر جبر و تشدد ڈھایا کہ مہذب دنیامیں اس کی مثال مشکل سے ہی مل سکتی ہے۔ سب سے پہلے پولیس نے کالج کیمپس میں گھس کر قانون کیخلاف ورزی کی ہے کیونکہ قانون اور آئین کے مطابق پولیس یا نیم فوجی دستے کسی بھی صورت میں تعلیمی ادارے میں اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتے ہیں۔ لیکن پلوامہ کالج کے پرنسپل نے پولیس ترجمان کے اس جھوٹ کا سر عام بھانڈا پھوڑ دیا جس میں ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس نے کالج سے ایک کلو میٹر دور ناکہ لگایا تھا جس پر کالج طلبہ نے بقول ترجمان پولیس پارٹی پر دھاوا بول دیا لیکن پرنسپل نے بتایا کہ پولیس کی دو رکھشک گاڑیاں کالج میں داخل ہوگئیں۔ طلبہ کے ایک وفد نے بعد کے حالات کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ کیمپس کے اندر گھستے ہی پولیس نے آئو دیکھا نہ تائو جو کوئی سامنے آیا چاہے وہ طالبہ ہو یا طالب علم ہر ایک کی شدید مارپیٹ کی گئی ۔ ٹئیر گیس کے گولے پھینکے گئے اور پلیٹ فائیرنگ کا بھی استعمال کیا گیا۔ پولیس کی اسی کاروائی کا نتیجہ ہے کہ سوموار کو وادی کے طول و عرض میں بڑے پیمانے پر طلبہ اور طالبات نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ سوموار کو جسطرح طلبہ اور طالبات نے سڑکوں پر نکل کر اپنی ناراضگی جتائی اس کو مد نظر رکھ کر ریاستی حکومت کو سنجیدگی سے اس بات کی تحقیقات کرنی چاہئے کہ پلوامہ کالج پر دھاوا بولنے کا فیصلہ کس نے کیاتھا اور اس کے پیچھے کون سے مقاصد کارفرما تھے ؟کیونکہ ہر کوئی جانتا تھا کہ اس طرح کی کاروائی کے ہر گز ہرگز مثبت نتایج بر آمد نہیں ہوسکتے ہیں۔ اور ہوا بھی یہی۔ کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتا ہے کہ پلوامہ کالج پر دھاوا بولنے کے پیچھے ایک ایسی سوچ کارفرما تھی جس کا مقصد پوری وادی میں آگ لگانا ہوسکتا ہے اسلئے اس کی پوری پوری تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ حکمران پی ڈی پی نے بھی پلوامہ کالج میں پولیس کی طرف سے کیمپس کے اندر گھس کر طلبہ اور طالبات پر تشدد ڈھانے کی بھر پور انداز میں مذمت کی اور کہا گیا کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ ملوث پولیس افسروں کیخلاف کاروائی کی جاسکے کیونکہ سوموار کو وادی بھر میں طلبہ کی طرف سے جو احتجاج ہو ایہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پولیس نے بلاوجہ اور بغیر سوچے سمجھے ایک تعلیمی ادارے میں گھس کر طلبہ پر جبر و تشدد ڈھایا۔ اسی طرح سوموار کو بھی شہر وگام ہوئے احتجاج کے دوران طلبہ اور طالبات پر حد سے زیادہ ظلم ڈھایا گیا۔ جس کے نتیجے میں سو سے زیادہ طلبہ اور طالبات زخمی ہوگئیں ایک طالبہ کا سر پھٹ گیا ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی دیکھا گیا ہے کہ جب پولیس اور سی آر پی کی طرف سے نہتے مظاہرین پر دھاوا بولا جاتا ہے تو تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھا جاتا ہے ۔ ایس او پیز تو نام کیلئے ہے اس پر برائے نام بھی عمل نہیں کیا جاتا ہے ۔ جب تک پولیس کا طرزعمل تبدیل نہیں ہوجاتا ہے تب تک کسی بھی صورت میں حالات پر قابو نہیں پایا جاسکتا ہے ۔ ,,

تبصرے