حالیہ واقعات پر طلبہ اور طالبات سراپااحتجاج

17 اپريل 2017 (05:54)

 سابق مرکزی وزیر داخلہ اور خزانہ جن کا شمار کانگریس کے اعلیٰ پایہ کے رہنمائوں میں ہوتا ہے نے اپنے ایک اخباری آرٹیکل میں کشمیر کی موجودہ صورتحال کا بھر پور انداز میں احاطہ کیا اور حالات کو انتہائی گھمبیر قرار دیتے ہوے اس سب خرابی کیلئے مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ ریاستی مخلوط سرکار کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ۔مسڑ پی چدم بھرم کاجو آرٹیکل نئی دہلی سے شایع ہونے والے انگریزی روزنامے انڈین ایکسپریس میں چھپا ہے جو صرف کشمیر کے بارے میں ہے میں انہوں نے کہا بھارت کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہے اور یہ بھی کہا کہ ریاست میں موجودہ مخلوط سرکار حالات کے سامنے بے بس نظر آتی ہے ۔ انہوں نے کشمیر میں موجودہ شورش کو مرکز کیلئے ایک چلینج قرار دیا اور کہا کہ اس کیلئے ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتیں ذمہ دارہیں ۔ چدم بھرم نے کشمیر کے بارے میں جو تجزئیہ پیش کیا ہے اس میں انہوں نے بتایا کہ جہاں مخلوط حکومت حالات پر قابو پانے میں بے بس نظر آتی ہے وہیں مسلح افواج نے اختلاف رائے رکھنے والوں اور گڑبڑی پر قابو پانے کیلئے طاقت کے استعمال کی پالیسی اپنا رکھی ہے اس سے لگتا ہے کہ بھارت کشمیر کو کھونے کے دہانے پر ہے ۔کشمیر میں موجودہ شورش کیلئے سابق وزیر نے جن امور کو ذمہ دار قرار دیا ہے ان میں طاقت کا بے جا استعمال ،وزرا کے سخت بیانات، فوجی سربراہ کی سنگین تنبیہات، مزید فوجیوں کی تعیناتی ، اوراحتجاجیوں کو ہلاک کرنے کی پالیسی شامل ہے ۔ جہاں تک سابق مرکزی وزیر کے تجزئے کا تعلق ہے عوامی حلقوں نے اس کو بر محل قرار دیا کیونکہ سنیچر کو پلوامہ کالج میں پولیس اور دیگر فورسز کی طرف سے بلاوجہ داخل ہوکر طلبہ اور طالبات پر یلغار اور شام کے وقت بٹہ مالو میں فورسز کی طرف سے راہ گیروں پر اندھا دھند فائیرنگ جس میں ایک نوجوان ہلاک ہوگیا ہے کے ردعمل میں سوموار کو وادی بھر کے کالجوں اور ہائی سیکنڈری سطح کے سکولوں میں طلبہ کا احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری طلبہ نے متذکرہ بالا واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس کے خلاف بھر پور احتجاج کرنے کیلئے وہ کلاسوں سے باہر آگئے اور سڑکوں پر مظاہرے کرنے لگے جس کی بنائ پر پولیس نے ان کو منتشر کرنے کیلئے بار بار لاٹھی چارج کیا، ٹئیر گیس کے گولے پھینکے، پاوا شیلوں کا استعمال کیا اور نوبت پیلیٹ فائیرنگ تک آن پہنچی۔ ایسا شہر سرینگر کے تعلیمی اداروں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ وادی کے شمال و جنوب اور وسطی ضلع بڈگام میں بھی کالج طلبہ اور طالبات نے پولیس اور فورسز کی جبر وتشدد کی پالیسی کے خلاف اپنا بھر پور احتجاج درج کیا۔ آخری اطلاعات ملنے تک پولیس نے گولی نہیں چلائی تھی لیکن حالات کسی بھی طور معمول کے مطابق یا پرامن قرار نہیں دئے جاسکتے ہیں اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے پہلے کہ حالات اور زیادہ سنگیں ہوجائیں ریاستی اور مرکزی حکومتوں کو کشمیر کی جانب اپنی پالیسیوں اور پروگراموں پر نظر ثانی کرنی چاہئے تاکہ یہاں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔معمولی واقعات کی آڑ میں گولیاں چلانا، پکڑ دھکڑ اور دوسری جبر و تشدد کی پالیسیوں اجتناب کرنے سے ہی نوجوانوں کے بھڑکتے ہوئے جذبات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اس وقت ایسا کوئی تعلیمی ادارہ نہیں جہاں کے طلبہ احتجاج کرنے سڑکوں پر نہ نکلے ہوں اسلئے اس وقت فورسز اور پولیس کو صبر وتحمل کا مظاہر ہ کرنا چاہئے تاکہ کسی بھی طالب علم کو زک نہ پہنچ سکے ۔

تبصرے