سنیچرکے دو دلخراش واقعات

17 اپريل 2017

 سنیچر 15اپریل کو دو دلخراش واقعات رونما ہوئے ۔ اگرچہ اس وادی میں اب قتل و غارت اور مار دھاڑ کے واقعات کوئی نئی بات نہیں لیکن کبھی کبھار ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں جن کی کسک عمر بھر دل و دماغ میں بس جاتی ہیں اور جن کو یاد کرنے سے درد محسوس ہوتا ہے جو کبھی بھی کم نہیں ہوسکتا ہے۔ سنیچر کی شام کو بٹہ مالو میں ایک فورسز گاڑی میں سوار اہلکاروں نے اچانک راہ گیروں پر گولیوں کی برسات شروع کی جس سے ایک 22سال کا نوجوان جاں بحق ہوا۔ اس واقعے کے بارے میں مقامی لوگوں اور عین مشاہدین نے بتایا کہ ایک فورسز گاڑی اچانک بٹہ مالو میں نمودار ہوگئی اور اس سے پہلے کہ لوگ سمجھتے کہ گاڑی کی اس علاقے میں موجودگی کیا معنی رکھتی ہے اس میں سوار اہلکاروں نے چاروں طرف گولیوں کی بوچھاڑ شروع کی اور ایک راہ گیر کی جان لینے کے ساتھ ہی گاڑی نو دو گیارہ ہوگئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ گاڑی لوگوں کو مارنے کیلئے اس علاقے میں داخل ہوئی تھی کیونکہ اُس وقت لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے کہیں کوئی پتھرائو نہیں ہورہا تھا کوئی احتجاج نہیں تھا لیکن اس کے باجود ایک راہ گیر کا قتل ناحق کیا گیا ۔ اب اس کی تحقیقات کا مطالبہ کرنا بھی فضول ہے کیونکہ گذشتہ برس اپریل کے مہینے میں ہندوارہ میں فورسز اہلکار نے ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جس پرلوگوں نے احتجاج کیا جن پر فورسز نے بندوقوں کے دہانے کھولے نتیجے کے طور پر پانچ معصوم شہریوں کی جانیںگئیں۔ حکومت نے اس واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا ۔متعلقین اور شاہدوں کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے اور رپورٹ الماری میں رکھی گئی اور یہ فایل اب دھول چاٹ رہی ہے۔ اسلئے اب لوگ بھی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں لیکن لوگ کوئی بھی واقعہ نہیں بھولتے ہیں ریاستی حکومت کو یہ سب کچھ بند کروانا چاہئے کیونکہ عام لوگوں کو بلاوجہ موت کی نیند سلادیناانسانی حقوق کی صریحاًخلاف ورزی قرار دی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح سنیچر کو پلوامہ میں طلبہ اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس میں ایک سو سے زیادہ طلبہ اور طالبات زخمی ہوگئیں۔ اس بارے میں پولیس نے اپنے دفاع میں جو بیان جاری کیا اس میں بتایا گیا کہ پولیس نے کالج سے دور ایک سڑک پر اپنا ناکہ بٹھایا لیکن طلبہ کالج سے نکلے اور ناکہ پربیٹھے پولیس والوں پر شدید پتھرائو کیا گیا ۔ جس کے جواب میں پولیس نے بقول ترجمان معمولی سا لاٹھی چارج کیا لیکن کالج پرنسپل نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو جو بیان دیا وہ اس کے برعکس تھا پرنسپل کا کہنا ہے کہ وہ دوپہر کے وقت کالج گراونڈ میں موجود تھے کہ اچانک انہوں نے طلبہ کو کالج گیٹ کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا چنانچہ وہ بھی گیٹ کی طرف دوڑپڑے جہاں انہوں نے پولیس کی دو رکھشک گاڑیوں کو کالج کے اندر آتے ہوئے دیکھا۔ پرنسپل نے بتایا کہ ا س پر وہ گیٹ کے بیچوں بیچ کھڑے ہوگئے اور گاڑیوں میں سوار پولیس افسروں کی منت سماجت کی کہ وہ کسی بھی صورت میں کالج کے اندر داخل نہ ہوں لیکن وہ ایک نہ مانے اور کالج کے اندر چلے گئے جہاں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑ پیں ہوئیں اور بقول پرنسپل پولیس کاروائی سے پچاس سے زیادہ طالبات زخمی اور بے ہوش ہوگئیں جبکہ درجنوں طلبہ بھی زخمی ہوگئے ۔ کالج پرنسپل کے اس بیان کے بعد پولیس کی طرف سے پیش کی گئی صفائی کی کوئی اہمیت نہیں رہی اور لوگ جان گئے کہ پولیس کے بیانا ت کس حد تک جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی ہوتے ہیں ۔

تبصرے