’’زہر آلودہ ماحول‘‘

15 اپريل 2017 (06:19)

 کشمیر جیسی پہاڑی ریاست میں ماحولیات کے حوالے سے کیا کچھ تباہی مچادی گئی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب نہ یہاں میٹھے پانی کے چشمے کہیں موجود ہیں اور نہ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جسم کو چھو کر گذرتے ہیں جن سے ایک خوشگوار احساس پیدا ہوتا تھا۔ قدرت نے اس خطہ اراضی کو اسی بے شمار نعمتوں سے نوازا تھا ۔ اونچے اونچے پہاڑ ، سر سبز اورمیلوں پر پھیلے مرغزار ، لہلہاتے کھیت ، گیت گاتے جھرنے ، میٹھے پانی کے چشمے ، شفاف پانی سے مزین جھیل ڈل اور اس پر بل کھاتی ہوئی لہریں جو آنکھوں کو اپنی طرف کھینچ لیتی تھیں ۔ دریا ، کوہسار ، دیودار سے بھرے پرے جنگل، برف سے لدی ہوئی چوٹیاں غرض وادی خوبصورتی کا ایک ایسا منظر پیش کرتی تھی جس کی بنا پر یہاں نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر کے ممالک سے سیاح آکر اپنا دل بہلاتے تھے اور وادی کے حسن میں کھو کر کچھ مدت تک غم دوراں کو بھول جاتے تھے لیکن قدرت کی طرف سے وادی کو عطا کی گئی خوبصورتی کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ماحول انتہائی کثافت سے پر ہے اور ہوا آلودہ ہے ۔ پانی آلودہ ہے اس کے ساتھ ہی صوتی آلودگی سے بھی مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس پر قابو پانے کی کوششیں نہیں کی جاتی ہیں بلکہ ہر گذرتے دن کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ جہاں لوگ بھی ماحولیاتی تباہی کیلئے ذمہ دار ہیں وہاں اس پر قابو پانے کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جارہی ہیں۔ اس بارے میں ایک ماہر ماحولیات نے بتایا کہ ہماری غفلت نے پوری وادی کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں ماحولیات کے حوالے سے حکومت کی کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔ جس کی انہوں نے بھر پور انداز میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو رکھ ارتھ کو ختم نہیں کیا جاتا انہوں نے کہا کہ ڈل سے جن لوگوں کو نکالا گیا ان کو رکھ ارتھ میں پلاٹ فراہم کئے گئے اور وہاں بستی قایم کی گئی جس پر انہوں نے کہا کہ رکھ ارتھ ایک پیٹ کی حیثیت رکھتی تھی اور سیلاب کا پورا پانی یہ رکھ جذب کرتی تھی لیکن اب اس کا کہیں وجود ہی نہیں ہے جس کے منفی نتایج اب منظر عام پر آینگے ۔ اسی طرح شالہ بگ کی رکھ بھی آہستہ آہستہ اپنا وجود کھوتی جارہی ہے اور اس میں جو مہاجر پرندے آکر سرمائی ایام میں ڈیرہ جماتے تھے وہ اب یہاں آنے سے کترائینگے۔ اسی طرح ہوکر سر بھی اب آہستہ آہستہ اپنی آن بان شان کھوتا جارہا ہے کیونکہ اس کے گردونواح میں بڑی بڑی عمارتیںوجود میں لائی گئیں جس کی بنا پر وہاں کا پرامن ماحول درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے۔ ہوکر سر سکڑنے لگا ہے اور اسطرح مہاجر پرندوں کی آمد بھی متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔اگرچہ ہوکر سر کے گردونواح میں تعمیرات کا جائزہ لینے اور اس پر اپنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے ممبران اسمبلی پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی گئی اور جس نے اپنی رپورٹ بھی پیش کی جس میں ہوکر سر کے گردنواح میں بے ہنگم کالونیاں اس سر کیلئے مضر قرار دی گئیں اس کے باوجود سرکار نے ہوکر سر کو بچانے کیلئے کوئی کاروائی نہیں کی ہے ۔

تبصرے