سرینگرجموںشاہراہ قابل بھروسہ نہیں رہی

08 فرورى 2017

 سوموار 6فروری شام کو محکمہ ٹریفک حکام کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ سرینگر جموں شاہراہ پر جہاں جہاں پسیاں اور چٹانیں گری تھیں وہاں ان کو مشینری اور افرادی قوت کے ذریعے صاف کیاگیا اور اس کے بعد ادھمپور اور جموں میں درماندہ چھوٹی گاڑیوں کو سرینگر کی طرف روانگی کی اجازت دی گئی ۔لیکن جو لوگ میلوں پیدل چل کر اور زبردست مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے نے سڑک کی جو حالت بتائی وہ سن کر رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ سڑک کے جن مقامات کو حساس قرار دیا گیا ہے ان کو موجودہ حالات میں پار کرنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے کیونکہ بقول ان کے اوپر سے دن بھی پسیاں اور بڑے بڑے پتھر گرتے رہتے ہیں اور ان حالات میں جو کوئی بھی پیدل چلنے والا ہوتا ہے یا گاڑیوں میں سوار ہوتا ہے تو ان کو صرف موت ہی سامنے نظر آتی ہے ۔اسوقت اب صورتحال یہ ہے اس سڑک کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری ہندوستان کنسٹرکشن کمپنی اور رام بن گیمن انڈیا پر ہے اور دونوں کمپنیوں نے اپنی بھر پور مشینری اور مزدوروں کو کام پر لگادیا ہے لیکن ایک طرف سڑک سے پسیاں ہٹائی جاتی ہیں تو دوسری طرف مٹی کے انبار لگ جاتے ہیں۔ ابھی ایک جانب چٹانیں ہٹائی جاتی ہیں تو دوسری طرف دھڑام سے مزید چٹانیں گرتی رہتی ہیں اور یہ سلسلہ گذشتہ ایک مہینے سے برابر جاری ہے ان کمپنیوں کے ذرایع کا کہنا ہے کہ مقامی پہاڑیوں میں مٹی زیادہ اور چٹانیں یعنی پتھر کم ہیں اور جب بارشیں یا برفباری ہوتی ہے تو مٹی کے تودے اور پسیاں گرنے کا عمل کئی کئی دنوں تک جاری رہتا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب زیادہ برفباری اور بارشیں ہوتی ہیں تو پسیاں گرنے کا عمل ہفتوں جاری رہتا ہے ۔ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سڑک پر قابل بھروسہ نہیں رہی ہے کب کیا ہوجائے اس بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اچھی طرح سے تعمیر و تجدید کیلئے لازمی ہے کہ اس پر تقریبا ًایک سال تک گاڑیوں کی آمد و رفت 80فی صد کم کردی جائے۔تب کہیں جاکر اس کی اطمینان بخش طریقے پر مرمت کی جاسکتی ہے۔ رام سو اور آس پاس کے علاقوں میں جو گاوئں نشیبی علاقوں میں ہیں ان میں رہنے والے لوگوں نے پسیوں کو ان گائوں کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے مٹی کو ٹپروں میں بھر بھر کر دور دور تک لے جانے سے بھی سڑک پر آمدورفت میں مشکلات پیش آتی رہیں ۔ادھر وزیر اعلیٰ نے خراب موسم کے دوران قاضی گنڈ بانہال ریلوے ٹنل کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرکے ایک کارنامہ انجام دیا ہے ۔اس سے قاضی گنڈ سے بانہال تک گاڑیوں کی آواجاہی خراب موسم میں بھی جاری رہ سکتی ہے اسکے ساتھ ہی جموں سرینگر ریلوے پروجیکٹ کو فوری طور مکمل کرنے سے اس سڑک پر موجودہ دبائو میں اسی فی صد کمی لائی جاسکتی ہے اور وزیر اعلیٰ کو یہ مسئلہ بھی فوری طور مرکز کے نوٹس میں لاکر اس پروجیکٹ پر کام کی رفتار تیز کروانی چاہئے ۔

تبصرے