اخبارات کی ترسیل اور باقاعدگی کا جائزہ لینے کیلئے ڈی اے وی پی کا ڈی آئی پی آرکے ساتھ اشتراک

21 مارچ 2017

جموں/حکومت ہند کی جانب سے پرنٹ، الیکٹرانک اور آن لائین میڈیا کو اشتہارات اجرائ کرنے کے لئے نوڈل ایجنسی ڈائریکٹوریٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسٹی﴿ ڈی اے وی پی﴾ نے ریاست جموں وکشمیر میں ان اخباروں اور جریدوں کی موجودگی، باقاعدگی اور ترسیل کا جائیزہ لینے کے لئے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ﴿ ڈی آئی پی آر﴾ کے ساتھ اشتراک کیا ہے، جن کو مرکزی سرکار سے ڈی اے وی پی کے تحت اشتہارات جاری کئے جاتے ہیں۔ڈی اے وی پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر این وی ریڈی کی جانب سے محکمہ اطلاعات کے پرنسپل سیکرٹری کے نام ایک مکتوب میں محکمہ اطلاعات کو مرکزی سرکار کی اطلاعات و نشریات کی وزارت کی جانب سے گذشتہ برس وضع کئے گئے رہنما خطوط کے مطابق ایسے اخباروں اور جریدوں کی موجودگی، باقاعدگی اور ترسیل کا جائیزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈی اے وی پی کی جانب سے فراہم کی گئی فہرست کے مطابق فی الوقت ریاست جموں وکشمیر کے139اخبار/ جریدے مرکزی سرکار کی جانب سے اشتہارات ملنے کے لئے ڈی اے وی پی کے ساتھ درج ہیں۔مکتوب کے مطابق ڈی اے وی پی کی نئی اشتہاری پالیسی کا مقصد اشتہارات کی اجرائی کے عمل میں معقولیت لانا اور اس میں شفافیت و یکسانیت پیدا کرنا ہے۔ڈی اے وی پی اشتہارات پالیسی میں اخبارات کو مراعات دینے کے عمل کو پیشہ وارانہ مقام اور سرکیولیشن کے ساتھ جوڑنے کے لئے مارکنگ نظام متعارف کیا گیا ہے جو6 مدّوں پر مشتمل ہوگا اور ہر ایک مدّ کے لئے نمبرات مختص کئے گئے ہیں جن میںRNI/ABC کی طرف سے مستند شدہ سرکیولیشن کے لئے25 نمبرات، ملازمین کے لئے ای پی ایف ادائیگی کے لئے20 نمبرات، اوراق کے لئے20 نمبرات،یو این آئی/ پی ٹی آئی/ ہندوستان سماچار کی خدمات حاصل کرنے کے لئے15 نمبرات، اپنا پرنٹنگ پریس رکھنے کے لئے10 نمبرات اور پی سی آئی کو دی جانے وای سالانہ سبسکرپشن ادائیگی کے لئے10 نمبرات شامل ہیں۔پالیسی فریم ورک میں ڈی اے وی پی کے ساتھ درج شدہ اخبارات/ جریدوں کی سرکیولیشن کی جانچ کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔ پالیسی میں بتایا گیا ہے کہ ڈی اے وی پی کے پاس یہ حق حاصل ہے کہ وہ آر این آئی یا اس کے نمائندے کے ذریعے سرکیولیشن کی اصل تعداد جان سکتا ہے۔ پالیسی نے درج شدہ اخبارات اور جریدوں کو3 زمروں میں شامل کیا ہے جن میں چھوٹے اخبار﴿25 ہزار کاپیاں ہر دن کی اشاعت﴾ درمیانہ درجہ﴿25 ہزار1 سے75 ہزار کاپیاں یومیہ اشاعت﴾ اور بڑے اخبارات﴿75 ہزار سے زائد کاپیوں کی روزانہ اشاعت﴾ شامل ہے۔ پالیسی میں جموں وکشمیر اور انڈو مان نِکو بار جزیروں کے علاوہ شمال مشرقی ریاستوں میں علاقائی زبانوں کے چھوٹے، درمیانہ درجے اور بڑے اخباروں کی خصوصی حوصلہ افزائی کے لئے امپینل منٹ بریقہ کار میں ترمی بھی رکھی گئی ہے۔پالیسی میں کیا گیا ہے کہ مُلکی سطح پر اشتہارات جاری کرنے کے لئے بجٹ کو ریاستوں میں اخبارات کی کُل سرکیولیشن کی بُنیادوں پر جاری کیا جائے گا۔اس میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ پی ایس یوز اور خود مختار ادارے ڈی اے وی پی شرحوں پر براہِ راست اُن اخبارات کے حق میں اشتہار جاری کرسکتے ہیں جو ڈی اے وی پی کے ساتھ درج ہوں۔واضع رہے کہ ڈی اے وی پی نے2015-16کے دوران پورے مُلک کے رجسٹر شدہ اخبارات اور جریدوں کو1190 کروڑ روپے کے اشتہارات جاری کئے۔

تبصرے