افغانستان میں طالبان جنگجوؤں کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، 12اہلکار ہلاک

01 مارچ 2017

لشکر گاہ/رائٹر/ جنوبی افغانستان کے صوبہ ہلمند میں ایک چیک پوسٹ پر کل صبح طالبان جنگجوؤں نے ہتھیار اور دستی بم سے حملہ کرکے 12پولیس اہلکاروں کو قتل کر دیا اور ہتھیار اور گولہ بارود لوٹ لئے ۔ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی ہے ۔ ایک صوبائی اہلکار نے کہا کہ یہ اندرونی حملہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایک سکیورٹی گارڈ اب بھی لاپتہ ہے ۔ افسر نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہے کہ آیا کوئی اندرونی شخص نے طالبان کے ساتھ مل کر اس جرم کو انجام دیا۔ صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ میں ہونے والے اس حملے نے افیون پیداوار کرنے والے صوبے میں افغان سکیورٹی فورس کو درپیش خطرات کا خاکہ بھی پیش کردیا ہے ۔ کئی اضلاع کو کنٹرول کر نے کے بعد ہتھیاروں سے لیس طالبان جنگجوؤں کے ساتھ سخت لڑائی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ہلمند کے ڈپٹی پولس چیف حاجی گلاي نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ طالبان جنگجوؤں نے ایک چیک پوائنٹ پر بندوق سے حملہ کیا اور اس کے بعد چوکی میں داخل ہوئے ۔ اس کے بعد ہینڈ گرینیڈ سے دیگر پولیس اہلکاروں پر حملہ کر دیا اور ان کا قتل کرنے کے بعد ہتھیار اور گولہ بارود لے کر بھاگ گئے ۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ایک دوسرے واقعہ میں ہلمند کے ضلع مارجہ میں 12پولیس اہلکاروں کو قتل کردیا گیا۔ طالبان کے جنگجوؤں نے لشکر گاہ سمیت ہلمند کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا ہے ۔ سال 2001میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے صوبے میں جاری جنگ میں برطانوی اور امریکی فوج کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ امریکی تخمینہ کے مطابق افغان سکیورٹی فورس کا ملک کے 60فیصد حصوں پر قبضہ رہ گیا ہے جبکہ طالبان کا کنٹرول 10فیصد ہے ۔ باقی علاقوں پر کنٹرول کیلئے حکومت اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

تبصرے