ٹرمپ کاایران سے پابندی ہٹانے کے اقدامات کا جائزہ لینے کا حکم

20 اپريل 2017

واشنگٹن/رائٹر/ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی ایجنسی کو یہ تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے کہ ’جامع مشترکہ منصوبہ ‘﴿جے سی پی او اے﴾ کے تحت ایران پر سے ہٹائی گئی پابندی ملک کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ ویانا میں جولائی 2015 میں تہران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے تاریخی جوہری معاہدے کے مطابق پابندی ہٹانے سے متعلق قدم اٹھایا گیا تھا۔ مسٹر ٹرمپ نے اس معاہدے کو بدترین قرار دیا تھا۔ وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن نے ایک بیان میں کہا کہ ایران پر سے بین الاقوامی اقتصادی پابندیوں کی منسوخی کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بارے میں کانگریس کو مطلع کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ نے قومی سیکورٹی ایجنسی کی قیادت میں بین ایجنسی جانچ کا حکم دیا ہے۔ اس دوران زبردست غور خوض کیا جائے گا کہ ایران پر لگائی گئی پابندی ملک کی سلامتی کے مفاد میں ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدے کے دائرے میں جوہری پروگراموں پر تو عمل کر رہا ہے لیکن بہت سے ذرائع کے ذریعے ’اسپانسرڈ دہشت گردی‘میں ان کا کردار اہم ہے جس پر بحث کی ضرورت ہے اور اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایران پر عائد پابندیوں کو ہٹانے کی سمت میں قدم اٹھانے کیلئے حکومت کو حکم دیا تھا۔ معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری ملنے کے 90 دنوں کے بعد مسٹر اوباما نے یہ حکم دیا تھا۔ امریکہ کے وزیر، توانائی، تجارت اور آمدنی وزرائ کو بھیجے گئے میمورنڈم میں مسٹر اوباما نے کہا تھا، ’’ پابندیوں کے سلسلے میں امریکی وعدوں کو مؤثر بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کا میں حکم دیتا ہوں‘‘۔ امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا، ’’یہ ہم سب کیلئے اہم دن ہے اور ایران کا جوہری پروگرام صرف پرامن کاموں کے لئے ہو اس بات کو یقینی بنانے کے عمل میں اہم پہلا قدم ہے ‘‘۔ دوسری طرف ایران کی جانب سے امریکی صدارتی انتخابات میں مسٹر ٹرمپ کی جیت کے بعد رد عمل آیا تھا ۔دنیا کے چھ طاقتور ممالک کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی اگر خلاف ورزی کی گئی تو وہ دیگر متبادل پر غور کر سکتا ہے ۔ کیونکہ نو منتخب صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مخالف ہیں۔ ایران نے کہا تھا،''جوہری معاہدے کے مطابق ملک نے پالیسیوں کو نافذ کیا ہے جبکہ امریکہ اور وہاں کا موجودہ انتظامیہ اپنے وعدے کے مطابق کام نہیں کر رہے ہیں۔ ہم امریکہ کے نو منتخب صدر سے احترام کی امید کرتے ہیں۔ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا ایک باب ہے اور اسے صرف ایک حکومت کے فیصلے سے مسترد نہیں کیا جا سکتا ہے ''۔

تبصرے