چین نے اپنے دستاویزات میں اروناچل کے کئی مقامات کے نام تبدیل کردئے

19 اپريل 2017 (06:41)

بیجنگیو این آئی چین نے دلائی لامہ کے اروناچل پردیش کے دورے کی مخالفت کیلئے اس ریاست کے چھ مقامات کے نام اپنے دستاویزات میں بدل دئے ہیں۔ چین اروناچل پردیش کو جنوبی تبت کہتا ہے۔چینی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بیجنگ کی طرف سے متنازع سمجھے جانیوالے علاقے پر اپنی خودمختاری ظاہر کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے ۔سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق چین کے شہری ہوابازی کی وزارت نے 14 اپریل کو اپنی ویب سائٹ پر ریاست کونسل کے ضابطہ کے مطابق چینی، تبتی اور رومن میں ان چھ مقامات کو جنوبی تبت دکھایا ہے ۔ افسران نے رومن میں ان چھ مقامات کے نام ووگیانلنگ، ملاری، کوڈنگاربوری، مین کوکا ، بوما لا اور نامکاپوبری بتایا ہے ۔ دلائی لامہ کے اس ماہ کے پہلے ہفتے میں اروناچل پردیش کے دورہ کی مخالفت کرتے ہوئے چین نے کہا تھا کہ ان کے اس دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات پر اثر پڑے گا۔ گلوبل ٹائمس میں چھ اپریل کو شائع ایک اداریہ کے مطابق دلائی لامہ متنازع علاقے کا دورہ پہلے بھی کرچکے ہیں لیکن اس مرتبہ کا دورہ مختلف تھا کیوں کہ ان کا استقبال ہندوستان کے امور داخلہ کے وزیر کرن رجیجو نے کیا تھا۔ مسٹر رجیجو نے بعد میں چین کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور چین کو اس سلسلے میں مداخلت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ NNNN

تبصرے