حکمران جماعت پر طارق قرہ کے سنگین الزامات انتخابی جلسہ میں پی ڈی پی سے علیحدگی کی تفصیل بیان کی

21 مارچ 2017

سرینگر/کشمیر میڈیا نیٹ ورک/ کانگریس لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ طارق حمید قرہ نے سرینگر کی پارلیمانی نشست سے این سی کانگریس کے مشترکہ امیدوار ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے چناوی جلسے کے دوران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے کی تفاصیل بیان کرتے ہوئے پارٹی پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی طرف سے/
 کاغذات نامزدگی داخل کئے جانے کے بعد نیشنل کانفرنس کے ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس پر ایک انتخابی ریلی منعقد ہوئی جس میں طارق حمید قرہ نے اپنے طویل خطاب میں اس بات کی وضاحت کی کہ انہوں نے پی ڈی پی کو خیر باد کیوں کیا؟ انہوں نے کہا ’’ میں نے مرحوم مفتی صاحب کو روز اول سے کہا کہ بھاجپا کیساتھ اتحاد کرنا کشمیریوں کیساتھ دھوکہ دہی ہوگی کیونکہ بھاجپا اصل میں آر ایس ایس کی شاخ ہے اور آر ایس ایس نہ صرف بھارت کے مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن جماعت ہے بلکہ کشمیری کی انفرادیت، اجتماعیت اور خصوصی پوزیشن بھی اس جماعت کو پہلے سے ہی کھٹکتی آئی ہے‘‘۔ طارق حمید قرہ کا کہنا تھا ’’ میں نے پی ڈی پی قیادت سے کہا کہ ہم بھاجپا کے بجائے سیکولر اور مقامی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائیں گے کیونکہ بھاجپا کو اقتدار میں لانے سے یہاں ایک طوفان برپا ہوگا، جو وقت نے ثابت کردیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’پی ڈی پی نے کشمیریوں کی فکر کئے بغیر اقتدار کو ترجیح لیکن میرے ضمیر نے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی اور میں نے ایسی کرسی کو لات مار دی جس میں میرے کشمیریوں کے مفادات غیر محفوظ ہوں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب پی ڈی پی غرق ہوجائے گی کیونکہ یہ جماعت کشمیریوں کی نظروں سے گر گئی ہے اور اپنی ناقص کارکردگی سے عوام اعتماد بھی کھو بیٹھی ہے، یہ جماعت اسلام اور کشمیریوں کیخلاف آر ایس ایس کے ساتھ مل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے جس بھاجپا کیساتھ اتحاد کیا ہے،

تبصرے