انجینئر رشید کی پارٹی انتخابات میں حصہ نہیں لے گی

21 مارچ 2017

سرینگر/ عوامی اتحاد پارٹی نے سرینگر اور اننت ناگ کے پارلیمانی﴿ ضمنی ﴾انتخابات میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انتخاب ایک غیر موزون وقت پر کشمیریوں کے سروں پر تھوپا گیا ہے۔ ضمنی انتخابات میں پارٹی کے شرکت سے متعلق فیصلہ لینے کیلئے بنائی گئی با اختیار کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سربراہ انجینئر رشید نے کہا کہ دو پارلیمانی حلقوں کے یہ انتخابات ایک ایسے وقت پر ہورہے ہیں کہ جب گذشتہ سال کی عوامی/
 تحریک کے دوران اہل کشمیر کے جسم و روح پر سرکاری فورسز کی لگائی ہوئی ضربیں تازہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے ریاست با الخصوص وادی کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے محسوس کیا ہے کہ ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے اور لوگ نوے کی دہائی کے بعد پہلی بار اس حد تک عدم تحفظ کا شکار ہیں کہ کسی کو بھی اپنی جان خطرے میں محسوس ہوتی ہے،وادیٔ کشمیر میں جو لاقانونیت اور عدم جوابدہی کے علاوہ لوگوں کے جذبات کو نظر انداز کئے جانے کی سرکاری روش جاری ہے اسے دیکھتے ہوئے یہاں کی کسی بھی پارٹی کے پاس لوگوں سے ووٹ مانگنے کا اخلاقی جواز ہی باقی نہیں رہا ہے۔ انجینئر رشید نے مزید کہا کہ حالانکہ اسمبلی کے ریکارڈ سے لیکر ابلاغی ذرائع تک اس بات کے گواہ ہیں کہ عوامی اتحاد پارٹی نہ صرف اسمبلی کے باہر بلکہ اسمبلی کے اندر بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے رائے شماری کرانے کا بھرپور مطالبہ کرتی آرہی ہے تاہم نیشنل کانفرنس،پی ڈی پی،کانگریس اور ان جیسی دیگر پارٹیوں کی کرتوت نے عام کشمیریوں کو پورے انتخابی عمل سے ہی متنفر اور بے زار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اتحاد پارٹی گو کہ انتخابی عمل میں بھر پور بھروسہ کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اپنی بات رکھنے کا یہی ایک موثر طریقہ ہوسکتا ہے لیکن ایک طرف نئی دلی نے ریاست میں اس جمہوری عمل کو بے اعتبار کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑا ہے اور دوسری جانب یہاں کی مین اسٹریم پارٹیوں نے ذمہ دار سیاسی طاقتوں اور لوگوں کے نمائندوں کی بجائے نئی دلی اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ایجنٹ بن کر عوم کو متنفر کردیا ہے۔ انجینئر رشید نے یہ بات زور دیکر کہی کہ رواں تحریک مزاحمت کسی فرد تنظیم یا علاقہ یا گروہ کی تحریک نہیں بلکہ ریاست کے لوگوں نے ہر محاذ پر مختلف صورتوں میں قربانیاں دیکر ہندوستان کے ناجائز قبضہ کو چلینج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے آئی پی کی کارکردگی روز روشن کی طرح عیاں ہے اور انتخابات میں شرکت کرنا یا نہ کرنا نہ کسی کو تحریک نواز بناتا ہے نہ تحریک دشمن اور عوامی اتحاد پارٹی کو کسی شخص یا تنظیم کی سند کی کوئی ضرورت نہیں اور اے آئی پی ہر محاذ پر رائے شماری کیلئے اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔ ضمنی انتخابات کے حوالے سے پارٹی کا فیصلہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا’’ اس صورتحال اور ماحول میں انتخابی عمل میں شریک ہونا مناسب نہیں ہوگا اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں زمینی صورتحال کو مد نظر رکھ کر ہی پارٹی کوئی فیصلہ کرے گی ‘‘۔انجینئر رشید نے ہندوستان کے ارباب حل و عقد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انکا جموں کشمیر کے تئیں وطیرہ نہیں بدلا تو عجب نہیں کہ ریاست میں جمہوری اداروں میں پڑے ہوئے شگاف اور بڑے ہوجائیں اور یہ دیواریں گر جائیں۔

تبصرے