مسرت عالم کے حق میں جوڈیشل مجسٹریٹ کا فیصلہ برقرار

21 مارچ 2017

بانڈی پور/کے این ایس/سینئر مزاحمتی لیڈر مسرت عالم بٹ کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج بانڈی پورہ سے سوموار کو اس وقت ایک بڑی راحت ملی جب متعلقہ جج نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ بانڈی پورہ کی طرف سے محبوس مزاحمتی لیڈر کے حق میں ضمانتی درخواست منظور کئے جانے کے فیصلے پر لگائی گئی روک کو ہٹا دیا۔ مسلم لیگ کے لیگل سیکریٹری شاہ ریاض نے بتایا کہ عدالت عالیہ کی طرف سے 34واں پبلک سیفٹی ایکٹ/
 کالعدم قرار دئیے جانے کے بعد جب مسرت عالم کو سال2016کے اوائل میں رہا کیا گیا تو انہیں دوبارہ پابند سلاسل رکھنے کیلئے ارباب اقتدار نے پرانے کیسوں کے تحت موصوف کو حراست میں لینا شروع کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسرت عالم کیخلاف پولیس تھانہ سمبل میں ایک کیس زیر ایف آئی آر نمبر53/2015درج تھا اور جب دیگر کیسوں میں موصوف کی ضمانتی درخواستوں کو مختلف عدالتوں نے منظور کیا تو پولیس نے مسرت عالم بٹ کی نظر بندی کو طول دینے کیلئے سمبل تھانہ میں درج کیس کے تحت انہیں حراست میں لینے کے بعد سب جیل بارہمولہ منتقل کیا ۔ شاہ ریاض نے بتایاکہ تقریباً3ہفتے قبل اس کیس کے سلسلے میں مسرت عالم کے قانونی صلاح کاروں نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ بانڈی پورہ کی عدالت میں ضمانتی درخواست دائر کی ، جس کو متعلقہ جج نے منظور کیالیکن حکومت کی ایمائ پر پولیس نے سی جے ایم کی طرف سے ضمانتی درخواست منظور کئے جانے کے فیصلے کیخلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج بانڈی پورہ میں اپیل دائر کی اور متعلقہ عدالت نے ضمانتی درخواست منظور کئے جانے کے فیصلے پر روک لگا دی۔ مسلم لیگ کے لیگل سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ اس فیصلے کیخلاف مسر ت عالم کے قانونی صلاح کار ایڈوکیٹ شعیب نے اسی عدالت میں نظر ثانی اپیل دائر کی اور سوموار کے روز متعلقہ جج نے منظور شدہ ضمانت پر روک سے متعلق اپنے فیصلے کو ہٹاتے ہوئے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ بانڈی پورہ کے فیصلے کو برقرار دکھا۔انہوں نے کہا کہ اب عدالت کے فیصلے کی کاپی سب جیل بارہمولہ میں پیش کی جائیگی تاکہ محبوس لیڈر مسرت عالم بٹ کی رہائی کیلئے راہ ہموار ہوسکے۔

تبصرے