دفتری اوقات میں اہم راستوں پر فوجی نقل و حرکت باعث پریشانی ملازمین اور طلبہ وقت پر سکول پہنچ نہیں پاتے ، ہر جگہ ٹریفک جام کے مناظر

20 مارچ 2017 (06:14)

سرینگرکے این ایس اسکول و دفتری اوقات میں فوجی کانوائے کی اہم شاہراہوں پر آواجاہی کے نتیجے میں شمال وجنوب لاکھوں اسکولی وکالج طلاب اورسرکاری وپرائیویٹ ملازمین کوم سخت شکلات کاسامنا کرنا پڑرہاہے ۔مختلف شاہراہوں پرواقع علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علموں، ملازمین اوردیگرلوگوں نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے اس بات پرزوردیاکہ فوجی کانوائے کی آواجاہی کے اوقات میں تبدیلی کیلئے اعلیٰ فوجی حکام کوآمادہ کیاجائے۔  یکم مارچ2017کو سرمائی تعطیلات کے بعد سرینگر سمیت پوری وادی میں سبھی چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے کھل گئے اور گزشتہ 3ہفتوں سے لاکھوں کی تعداد میں اسکولی اور کالج طلبا ئ اور طالبات صبح کے وقت تعلیمی اداروں کا رخ کررہے ہیں لیکن انہیں اسکولوں اور کالجوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرینگر بارہمولہ ، بارہمولہ ہندوارہ ، سوپور کپوارہ ، سرینگر بانڈی پورہ ، سرینگر پلوامہ ، سرینگر اسلام آباد ، سرینگر بڈگام اور سرینگر گاندربل شاہراہ پر واقع بستیوں ، علاقوں اور دیہات سے تعلق رکھنے والے ہزاروں زیر تعلیم چھوٹے بچوں اوربچیوں اور طلبائ وطالبات کو اس وجہ سے اسکولوں اور کالجوں تک پہنچنے میں دیر ہوجاتی ہے کیونکہ ان سبھی شاہراہوں پر عین اسی وقت فوجی کانوائے کی آواجاہی ہوتی ہے ، جس وجہ سے جگہ جگہ ٹریفک جام کی بدترین صورتحال ہوتی ہے اور زیر تعلیم طلاب کافی وقت تک سر راہ گاڑیوں میں درماندہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ شمال وجنوب مختلف علاقوں اور دیہات سے نزدیکی ضلعی و تحاصیل صدر مقامات پر قائم چھوٹے بڑے سرکاری و نجی اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبائ اور طالبات نے بتایا کہ اسکولی اوقات میں فوجی کانوائے کی آواجاہی انکے لئے سوہان روح بن جاتی ہے کیونکہ وہ مقررہ وقت پر اسکول اورکالج نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ وتر گام اور ضلع بارہمولہ وکپوارہ کے مختلف دیہات سے بارہمولہ اور سوپور میں واقع سرکاری کالجوں میں زیر تعلیم طلبائ اور طالبات نے بتایا کہ انہیں وقت پر کالج پہنچنے کیلئے صبح 8بجے سڑک پر پہنچنا پڑتا ہے لیکن اسکے باوجود وہ بیشتر روز وقت پر کالج نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔ کئی طلبائ اور طالبات نے بتایا کہ کالجوں میں پہلا کلاس صبح10بجے سے 10بجکر40منٹ پر ہوتا ہے لیکن دیہی اور دور دراز علاقوں کے رہنے والے طلبائ اور طالبات پہلاکلاس نہیں پڑھ پاتے ہیں کیونکہ اس وقت تو بیشتر طلاب فوجی کانوائے کی وجہ سے بد ترین ٹریفک جام میں پھنسے رہتے ہیں۔ شمالی ، وسطی اور جنوبی کشمیر کے مختلف ایسے دیہات کے اسکولی طلاب نے بھی اسی طرح کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ نجی مسافر گاڑیوں میں سفر کریں یا اسکولی گاڑیوں میں ، دونوں صورتوں میں شاہراہوں پر فوجی کانوائے کی آواجاہی کے باعث گاڑیاں وقت پر جائے مقام پر تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اور دیر سے اسکول پہنچنے پر ہمیں اساتذہ کی ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ فوجی کانوائے کے اوقات کار کو تعلیم و طلاب کش قرار دیتے ہوئے اسکولوں اور کالجوں میں زیر تعلیم طلبائ اور طالبات نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ ، بحیثیت وزیر داخلہ اور بحیثیت سربراہ یونیفائیڈ کمانڈ کونسل ، موصوفہ کو یہ معاملہ فوج کے اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لانا چاہیے تاکہ صبح9بجے سے 10بجے اور سہ پہر3بجے سے 4بجے کے وقت شاہراہوں پر فوجی کانوائے کی آواجاہی پر روک لگ سکے۔

تبصرے