نئی تربیت گاہوں کیلئے فوج کی طرف سے اراضی کی فراہمی کا مطالبہ- 5لاکھ کنال اراضی کی حصولیابی کے بعد اب جموں، کشمیر اور لداخ میں مزید ایک ایک فائرنگ رینج بنانے کا منصوبہ

21 مارچ 2017

سرینگر/کشمیر میڈیا نیٹ ورک/ لیہہ ﴿لداخ ﴾میں حقیقی لائن آف کنٹرول کے نزدیک فیلڈ فائرنگ رینج کیلئے قریب 5 لاکھ کنال اراضی کی الاٹمنٹ کے بعد اب فوج کی طرف سے جموں ، کشمیر اور لداخ میں مزید ایک ایک فائرنگ رینج کی فراہمی پر زور دیا جارہا ہے۔رواں ماہ کے اوائل میں ریاستی محکمہ داخلہ نے لداخ کے لیہہ علاقے میں فوج کے حق میں4.80لاکھ کنال اراضی فراہم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جو فیلڈ فائرنگ رینج یعنی فوجی اہلکاروں کی تربیت گاہ کیلئے استعمال میں لائی جائے گی۔یہ اراضی دُربُک سب ڈویژن کے مندل تھنگ کے مقام پرخسرہ نمبر1803میں چین کے ساتھ لگنے والی لائن آف ایکچول کنٹرول کے قریب واقع ہے جو پانچ سال کی لیز پر فوج کے سپرد کرکے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ لیز میں ہر پانچ سال کے بعد توثیق عمل میں لائی جائے گی۔اس ضمن میں 6مارچ 2017کو ریاستی حکومت کی طرف سے ایس آر او93جاری کیا گیا ہے جس کے تحت فوج کیلئے اراضی کی نشاندہی کی گئی۔معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ ایک طویل عرصے سے یونیفائیڈ ہیڈکوارٹرس کی میٹنگوں اور سول ملٹری لیزان کانفرنسوں میں زیر بحث آیا اور اراضی کی الاٹمنٹ سے فوج کی ایک دیرینہ مانگ پور ی کرلی گئی۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اراضی کو فیلڈ فائرنگ رینج کے بطور استعمال کرنے کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور اس مقصد کیلئے وہاں ضروری سازوسامان پہنچانے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اب فوج نے جموں ،کشمیر اور لداخ میں مزید ایک/
 ایک فائرنگ رینج کی فراہمی کا معاملہ ریاستی حکومت کے ساتھ زوروشور کے ساتھ اٹھالیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نومبر2014میں جموں کشمیر میں قائم فوج کے10فائرنگ رینجز کی50سالہ لیز کی مدت ختم ہوگئی اور اس صورتحال کے تناظر میں فوج کی طرف سے نئی تربیت گاہوں کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اراضی کی فراہمی کیلئے زور دیا جارہا ہے۔جن رینجز کی لیز کی مدت ختم ہوگئی ، ان میں جموں خطے میں فوج کی16ویںکور کے زیر کنٹرول5، کشمیر میں15ویںکور کے زیر کنٹرول ایک﴿27016ہیکٹیر اراضی پر مشتمل توسہ میدان بڈگام فائرنگ رینج﴾ اور لداخ خطے میں14ویں کور کے زیر کنٹرول 4فائرنگ رینج شامل ہیں۔دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے بدلے ابھی صرف راجوری کے نوشہرہ علاقے میں فوج کو گزشتہ برس اراضی فراہم کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت کی طرف سے فوجی کمانڈروں کو اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ سرکار 10رینجز کی لیز کی مدت ختم ہونے کے تناظر میں تربیت کے حوالے سے فوج کو درپیش مشکلات سے بخوبی واقف ہے اور ان کے متبادل فراہم کرنے کے حوالے سے ہر طرح کے ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔ اس دوران فوج نے لیہہ میں130کنال، کالسر میں200کنال، ٹٹو گرائونڈ سرینگر میں1710.77کنال، وُذُر میں297کنال اور جموں ائر پورٹ پر 137کنال اراضی خالی کرلی ہے۔ ادھرسرکاری ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اگر چہ فوج کی طرف سے خاص طور پر کشمیر وادی میں فائرنگ رینج کیلئے اراضی کی فراہمی پر زور دیا جارہا ہے لیکن صورتحال اور معاملے کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فی الوقت ایسا کوئی بھی منصوبہ حکومت کے زیر غور نہیں ہے۔سرکار کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے کے حق میں نہیں ہے جس سے حالات بگڑنے کا احتمال ہو۔ حالانکہ فوج کی طرف سے یہ دلیل پیش کی جارہی ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں ریاست میں تعینات آرٹیلری یونٹوں کو تربیت اور مشق کیلئے ہر طرح کے سازوسامان اور ہتھیاروں سمیت راجستھان، گوالیاراور بیرون ریاست دیگر فائرنگ رینجز میں جانا پڑتا ہے جس سے دفاعی بجٹ پر بھاری بوجھ پڑجاتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ علیحدگی پسندوں کی طرف سے بالخصوص وادی میں اس طرح کے اقدامات کی سخت مخالفت کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ فوج کے پاس فی الوقت66فائرنگ رینج ہیں جن میں سے سب سے زیادہ یعنی12جموں کشمیر میں ہیں۔

تبصرے