پارلیمانی انتخابات کیلئے سیاسی سرگرمیاں شروع - فاروق عبداللہ اور نذیر خان نے سرینگر حلقے کیلئے کاغذات داخل کردئے

20 مارچ 2017 (06:11)

سرینگر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کل سرینگر کی پارلیمانی نشست سے اُمیدوار کے بطور اپنے کاغذات نامزدگی داخل کئے جبکہ اسی حلقے سے حکمران پی ڈی پی کے امیدوار نذیر احمد خان نے بھی اپنا نامزدگی فارم جمع کیا۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے دونوں سیٹوں پر ضمنی انتخاب مشترکہ طور لڑنے کا اعلان کررکھا ہے۔ چنانچہ سرینگر کی نشست پر دونوں پارٹیوں کے مشترکہ امیدوار اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سوموار کو ضلع الیکشن آفیسر کے دفتر میں کاغذات نامزدگی داخل کئے۔ان کے ساتھ پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کارگزار صدر عمر عبداللہ ، پردیش کانگریس کے صدر غلام احمد میر اور حال ہی میں کانگریس میں شامل ہوئے طارق حمید قرہ سمیت دونوں پارٹیوں کے کئی لیڈران بھی تھے۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں ایک انتخابی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اس وقت جو فرقہ پرستی کی آگ لگی ہوئی ہے، اگر اس پر فوری طور پر قابو نہیں پایا گیاتو ایسے شعلے بھڑکیں گے جو نہ صرف بھارت بلکہ ریاست جموں وکشمیر اور سرحد پار تک جائیں گے، وقت کا تقاضہ ہے کہ سیکولر طاقتیں متحدہ ہوکر ریاست جموں وکشمیر کو فرقہ پرستی کی آگ کی نذر ہونے سے بچائیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’’ ہمارا دشمن مشترکہ ہے، اسلئے ہمیں تمام رنجشیںاور دوریاں بالائے طاق رکھ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے کیونکہ صرف اور صرف اسی صورتحال میں ہم کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں‘‘۔ حکمران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے سرینگر نشست کے امیدوار نذیر احمد خا ن نے بھی نامزدگی فارم جمع کرایا۔ ان کے ساتھ بھی پارٹی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد تھی جو پارٹی کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔فارم داخل کرتے وقت نذیر احمد خان کے ہمراہ پارٹی کے سینئر لیڈراورممبر پارلیمنٹ مظفر حسین بیگ کے علاوہ عمران رضا انصاری بھی شامل تھے۔قابل ذکر ہے کہ ریاستی کابینہ میں حالیہ ردوبدل کے بعد عمران رضا انصاری نے ناراض ہوکر استعفیٰ دے دیا تھا اور اب انہیں سرینگر کی پارلیمانی نشست کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا انہوں نے اپنا استعفیٰ واپس لیا ہے یا نہیں؟

تبصرے