کشمیر میں حالات پر قابو پانے کیلئے مرکزی حکومت عملی طور متحرک - وزیراعظم نریندرمودی کی ہدایت پر امت شاہ 29/اپریل سے وادی کا دو روزہ دورہ کریں گے، مرکز نے قیام امن کیلئے کوششیں تیز کردیں

21 اپريل 2017

نئی دہلی /کشمیر میں حالا ت کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے مرکزی حکومت عملی طو ر پر سرگرم ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں بھاجپا صدر امت شاہ 29اپریل کو جموںوکشمیر کا اہم ترین دورہ کریںگے ۔اس دوران ریاستی حکومت نے خبر دار کیا ہے کہ ریاست جموںوکشمیر میں نظم وضبط کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے لہذا منتخب حکومت کو مرکز کا انتظار کئے بغیر ہی حالات سازگار بنانے ہونگے کیونکہ ہر معاملے میںمرکز ی مداخلت رشتوںپر اثر انداز ہو رہی ہے ۔ ریاست میں پیداشدہ حالات پر دلی متفکر ہو گئی ہے اور ایسے میں نئی دلی نے ریاست میں حالات کو بہتر بنانے کیلئے امن مشن کی شروعات کی ہیں ۔جس کے تحت بھاجپا صدر امت شاہ 29اپریل کو ریاست کے اہم ترین دورے پر آرہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ امت شاہ دوروز تک کشمیر میں قیام کریں گے جس کے دوران وہ ریاستی حکومت ،گورنر اور فوج کے اعلیٰ/
 کمانڈروں سے ملیں گے جس میں ریاست کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امت شاہ کو وزیراعظم کی ہدایت پر کشمیر بھیجا جارہا ہے جس میں انہوںنے ریاست کے حالات میں بدلاو لانے کا کام سونپا گیا ہے ۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہو اہے کہ بھاجپا کشمیر وادی میں حالات کو سازگار بنانے کی سعی کررہی ہے اور ایسے میںجو حالات پیدا ہورہے ہیںان کااز خود مشاہدہ کرنے کیلئے امت شاہ کشمیر کا دورہ کررہے ہیں۔امت شاہ کے دورے کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے کیونکہ مخلوط سرکار کے اندر بھی کئی ایک معاملات پر پھو ٹ اور اختلافات پیدا ہوچکے ہیںجس میں قانون ساز اسمبلی کی تازہ نشستوں پر کراس ووٹنگ کا معاملہ بھی چھا گیا ہے جس پر دونوں پارٹیوں کے درمیان ان بن شروع ہو گئی ہے ۔معلوم ہو اہے کہ امت شاہ 29اپریل کو پہلے جموں پہنچے گئے جس کے بعد وہ سرینگر آئیں گے اور یہاں سیکورٹی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ اس دوران بھاجپا کے جنرل سیکریڑی اشوک کول نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ امت شاہ انتہائی اہم دورے پر کشمیر پہنچ رہے ہیں۔جس کیلئے ہر سطح پر کوششیں کی جائیں گی اور اس دورے کے دوران وہ سیاسی لیڈران سے بھی ملاقات کریں گے ۔ادھر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کوحالات سازگار بنانے کی ہدایت دی ہے اور ہر معاملے میںمرکز کو بیچ میںلانے سے منع کیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے ریاست میں حالات کو جلد از جلد بہتر بنانے کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کو ہدایت دی ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ معاملات کو خود ہی سلجھانے کی کوشش کی جائے ، مرکزی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ جموںوکشمیر میں نظم وضبط کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اوراس سلسلے میں کافی عرصہ سے یہ معاملات چل رہے ہیںلہذا موجودہ حکومت منتخب عوامی حکومت ہے اور اس حکومت کو معاملات از خود سلجھانے کی کوشش کرنا ہوگی ۔ مرکزی حکومت کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم مودی اور ان کے مشیر اجیت ڈوئل نے ریاستی حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ وادی میں مخلوط حکومت کا گراف گرنے نہیں دیا جانا چاہئے بلکہ اس معاملے پر مرکزی حکومت کے بجائے ریاستی حکومت کو توجہ دینا ہوگا تاکہ معاملات کو سلجھایا جا سکے ۔اس ضمن میں مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کو اس بات کا اختیار بھی دے دیا ہے کہ وہ امن بحالی کیلئے جو بھی اقدامات اٹھاناچاہیںا س میں وہ اٹھا سکتی ہیں اور ایسے میںمرکز کی جانب سے جو بھی مدد فراہم کرنا ہوگی وہ ملے گی لیکن بالکل مرکز پر ہی انحصار کرنا نہیں چاہئے کیونکہ عوامی حکومتوں کو از خود بھی اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کرنا ہونگی جو بار آور ثابت ہوں۔ مرکزی حکومت نے آج صاف کر دیا ہے کہ کشمیر میں سازگار حالات بنانا ریاست کی منتخب حکومت کا کام ہے اور مرکزی حکومت ریاستی معاملات میں مداخلت نہیں کریگی۔ادھر اطلاعات کے مطابق مرکزی حکومت کا ایک اعلی سطحی وفد بھی کشمیر کا درہ کریگا جس میں کئی ایک منتخب اراکین پارلیمنٹ بھی ہوسکتے ہیں۔

تبصرے