کشمیر سے متعلق پالیسی ساز گروپ کی تشکیل پر ملاجلا ردعمل کانگریس نے اب تک کیاکیاجو اب کرے گی :پی ڈی پی کانگریس نے ہی کشمیر اور دلی کے درمیان رشتوں کو کمزور کیا :نیشنل کانفرنس

20 اپريل 2017 (07:03)

سرینگر کے این ایس’’کانگریس کی جانب سے کشمیرسے متعلق پالیسی گروپ کی تشکیل ‘‘کے اقدام کومثبت پہل قراردیتے ہوئے پی ڈی پی اورنیشنل کانفرنس سمیت سبھی مین اسٹریم جماعتوں نے واضح کیاکہ اب جموں وکشمیر سے جڑے تمام مسائل کوپُرامن طورحل کرنے کاوقت آگیاہے ۔سرتاج مدنی نے کانگریس کے اقدام پرسوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ کانگریس 10سال متواتردلی میں برسراقتداررہی لیکن تب اس جماعت نے کچھ نہیں کیاتواب کیاکرسکتی ہے ؟۔ڈاکٹرمصطفی کمال نے کانگریس کے ابتک کے رول پرسوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ اسی جماعت کی سرکاروں نے جموں وکشمیراورمرکزکے مابین رشتے کی ڈورکوکمزوربنانے کیساتھ ساتھ ریاست کی خصوصی پوزیشن کی بیخ کُنی کی ۔تاہم حکیم محمدیاسین اورمحمدیوسف تاریگامی نے کانگریس کی پہل کومثبت قراردیتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اُٹھانے والے ہراچھے قدم کاخیرمقدم کیاجائیگا۔ حکمران جماعت پی ڈی پی اور اپوزیشن مین اسٹریم سیاسی جماعتوں نے کانگریس کی جانب سے جموں وکشمیر کیلئے ’پالیسی ساز گروپ‘ تشکیل دیئے جانے کو یک زبان ہو کر مثبت پہل  قرار دی۔حکمران جماعت پی ڈی پی نے کانگریس پالیسی ساز گروپ تشکیل دئے جانے کو مثبت قدم سے تعبیر کیا ،تاہم کانگریس کے اقدام پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کانگریس اعتماد سازی کے اقدامات نہیں اٹھا سکیں اب پارٹی ’پالیسی ۔پلاننگ گروپ ‘ تشکیل دیکر جموں وکشمیر میں کیا حاصل کرے گی۔پارٹی نائب صدر محمد سر تاج مدنی نے کانگریس کی پہل کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے جموں وکشمیر پر سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کی سربراہی میں پالیسی ۔پلاننگ گروپ تشکیل دیا ،لیکن سوال یہ ہے کہ کانگریس نے2004سے لیکر2014تک اقتدار میں رہنے کے دوران جموں وکشمیر کے مسئلے کو ایڈریس کرنے کیلئے کیا کیا؟ان کاکہناتھا کہ پالیسی پلاننگ گروپ کے ممبر پی چدمبر 2010میں وزیر داخلہ تھے ،کشمیر میں حالات انتہائی تشویشناک تھے ،اُس وقت کانگریس نے کون سے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے؟ ان کہناتھا کہ بدقسمتی سے اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے انٹر ا۔اور انٹرا اسٹیٹ اعتماد سازی کے حوالے سے اقدامات نہیں اٹھائے،جو اُس وقت کی این ڈے اے حکومت اٹل بہاری واجپائی نے اٹھائے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں امن واستحکام کیلئے اُمید کی کرن سابق اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پیدا کی جب انہوں نے2003میں اعتماد سازی کی فضائ قائم کی،لیکن کانگریس حکومت کی مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے ہی کشمیر میں ایک نئی صورتحال اور مایوسی کی لہر پیدا ہوئی ۔ان کا کہناتھا کہ اگر اعتماد سازی کے اقدا مات کو آگے لیجا یا گیا ہو تا ،تو آج کشمیر میں صورتحال مختلف ہوتی ۔سرتاج مدنی مزید کہا کہ جب کانگریس ایک دہائی تک 2004سے لیکر2014تک اقتدار میں رہ کر کشمیر پر کچھ نہیں کرسکی ،اب پارٹی کیا کرے گی؟تاہم اگر پارٹی نے کشمیر پر نئی پہل کی ہے ،تو امید یہی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کو درپیش سیاسی واقتصادی مسئلے کا پائیدا ر حل نکل آئے اور اسکے لئے سرکار مثبت اقدامات اٹھائے اور سہولیت کا کردار ادا کرے ۔ادھراپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفےٰ کمال نے کہا کہ کانگریس کے دورِ اقتدار میں ہی جموں وکشمیر کا یونین انڈین کے ساتھ آئینی و قانونی رشتہ قائم ہوا ،تاہم انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسی جماعت کے دور ِاقتدار میں ہی جموں وکشمیر اور یونین انڈین کے درمیان رشتہ کمزور ہوا۔انہوں نے کہا کہ مشروط بنیادوں پر جموں وکشمیر کا یونین انڈین کے ساتھ الحاق ہوا ۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر کو آئین ہند کے تحت خصوصی پوزیشن کا درجہ حاصل ہے ،تاہم کانگریس کے دور اقتدار کے دوران ہی اس حیثیت کو کھوکھلا کردیا گیا بلکہ اسکی بیخ کُنی کی گئی ۔ نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر مصطفےٰ کمال نے کہا کہ اُنکی جماعت اس مثبت پہل کا خیر مقدم کریگی ،جو مسئلہ کشمیر کے حل اور یہاں ہونی والی خون ریزی کو روکنے کیلئے کی جائیگی ۔ان کا کہناتھا کہ کانگریس کو اب اگر اپنی غلطیوں کا احساس ہوا ہے ،تو یہ اچھی بات ہے ،کیو نکہ نیشنل کانفرنس چاہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن اور مذاکرات کے ذریعے ایک ایسا حل نکل آئے ،جو عوام کیلئے قابل ِ قبول ہو۔ان کا کہناتھا کہ اٹانومی کا دستاویز نیشنل کانفرنس کا ذاتی نہیں بلکہ یہ عوامی قرار دادہے ،جو ریاستی اسمبلی میں با اتفاق رائے سے منظور کی گئی ۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ نے ہی جموں وکشمیر کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل دئے ،لیکن ان کا کیا ہوا ؟یہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اور انڈین یونین کے ساتھ رشتہ غلط پالیسوں کے سبب نیم مردہ ہوچکا ہے ،جسکی وجہ سے موجودہ بحرانی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ڈاکٹر کمال نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک ایسا مرض ہے جس کا داخلی اور خارجی پہلو ہے،بلکہ میں اگر یہ کہو کہ یہ بین الاقوامی تنازعہ ہے ،تو کچھ غلط نہیں ہو گا ،کیو نکہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم انجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو نے ہی اِسے اقوام متحدہ تک پہنچا یا ۔

تبصرے