زخمی طلبہ کی حالت مستحکم پولیس نے افواہوں کو مستردکیا

21 اپريل 2017

سرینگر/شہر خاص میں اُس وقت نوجوانوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے جب طالبہ کی موت واقع ہونے کی افواہ پھیل گئی اور اس دوران شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل ہو کر رہ گئی ۔ پولیس ترجمان اور صدر اسپتال میں تعینات ڈاکٹروں نے افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ دوشیزہ کی حالت مستحکم ہے ۔ سہ پہر کے بعد شہر خاص کے حول ، راجوری کدل اور گوجوارہ علاقوں میں افواہ پھیل گئی کہ گزشتہ روز نوا کدل میں زخمی اقرا کی صدر اسپتال میں موت واقع ہوئی ۔ افواہ پھیلتے ہی راجوری کدل میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرئے کئے اور اس دوران نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ نمائندے کے مطابق کئی نوجوانوں نے صراف کدل کے قریب فورسز بینکر پر پتھراو کیا بھی جس کی وجہ سے علاقہ میں کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے ۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے/
 بیان میں کہا گیا ہے کہ سماج دشمن عناصر نے افواہ پھیلا دی کہ اقرا نامی طالبہ کی صدر اسپتال میں موت واقع ہوئی ہے جو کہ سراسر بے بنیاد ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق طالبہ کی حالت مستحکم ہے اور پھیلائی جانے والی افواہوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔ دریں اثنا صدر اسپتال انتظامیہ نے شام دیر گئے واضح کردیا کہ اقرا نامی طالبہ کی حالت مستحکم ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ کا علاج ومعالجہ کر رہے ڈاکٹروں نے بتایا کہ اقرا نامی لڑکی حالت روز بروز بہتر ہورہی ہے۔ ادھراس دوران نیشنل کانفرنس کے ممبراسمبلی عیدگاہ مبارک گل نے نواکدل سکول کی طالبات پر طاقت کے استعمال کی مذمت کی اور زخمی طالبات کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی گئی ۔

تبصرے