شاعر مشرق علامہ اقبال کا 79یوم وصال ادبی تقریبات پر فلسفی شاعر کو خراج عقیدت

21 اپريل 2017

سرینگر/ شاعر مشرق حضرت علامہ سرمحمد اقبال (رح) کے 79ویں یوم وصال پر پورے برصغیر میں فلسفی شاعر کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیاجارہاہے ، اس سلسلے میں وادی میں بھی کئی تقریبات منعقد کی گئیں، جن میں انقلابی شاعر کے بارے میں کہاگیا کہ انہوں نے نوجوانوں کو ایسا پیگام دیا جس سے ان کو زندگی کا اصل مقصد سمجھ میں آگیا ،ا دھر حریت کانفرنس کے محبوس چیرمین میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق نے شاعر مشرق حضرت علامہ سر محمد اقبال کو ان کے۹۷ویں یوم وصال پر فلسفی شاعر کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے انہیں ملت اسلامیہ خاص طور پر برصغیر کا ایک عظیم محسن اور مربی قرار دیا۔ میرواعظ نے کہا کہ علامہ اقبال نے اپنی الہامی شاعری اور فلسفے سے خدااعتمادی اور خود اعتمادی کی تعلیم/
 کو عام کرنے اور ملت خوابیدہ میںصور اسرافیل پھونکنے کا فریضہ انجام دیا۔انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نہ صرف ایک عظیم انقلابی نوعیت کے حقیقت پسند شاعر تھے بلکہ علامہ نے مشرق و مغرب کی خاک چھان کر قرآن حکیم اور پیغمبر اسلام آنحضرتö کی آفاقی تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کرکے دنیا کو انسان دوستی ، اخوت و محبت ، رواداری اور بقائے باہم کی تعلیم دی۔ میرواعظ نے کہا کہ برصغیر میں علامہ اقبال کی ہی واحد شخصیت ہے جنہوں نے سب سے پہلے دو قومی نظریئے کو پیش فرمایا اور تصور پاکستان کا خاکہ پیش کیا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے خراج عقیدت کے پیغام میں کہا ہے کہ شاعر مشرق علامہ سرمحمد اقبال(رح) کا کلام ﴿شعر وشاعری﴾ صرف برصغیر کیلئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے انمول، لافانی اور نادر سرمایہ ہے۔اُنہوں نے کہا ،کہ حضرت ڈاکٹر سر محمد اقبال(رح) کا پیغام خدا اعتمادی اور خود اعتمادی پر مبنی ہے۔ آپ کے کلام میں انسان دوستی، باہمی رواداری، انسانیت کی بقا اور انسانی قدروں کی صحیح عکاسی کی گئی ہے۔ شاعر مشرق ڈاکٹر محمد اقبال(رح) کے یوم وصال پر اُنہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ،کہ برصغیر کے اِس بلند پایہ شاعر فلسفی اور داناے راز کا کلام عالم انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ مرحوم کا کلام جذبہ حب الوطنی سے لبریز ہے۔ اُنہوں نے کہا ،کہ مرحوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ جب بھی خطاب کرتے تھے تو تلاوت کلام پاک کے بعد مرحوم شاعر مشرق کے کلام سے ہی تقریر کا آغاز فرماتے تھے۔

تبصرے