طلبہ کی احتجاجی لہر کا دائرہ وسیع ہونے لگا - شہرخاص کے نواکدل سکول کے علاوہ چھترگل کنگن ، ہاری گنوین، کرالہ گنڈ ہندوارہ - اجس ، حاجن ، پٹن میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس اور پاوا شلنگ چھترگل کنگن میں فوج کی جانب سے طالبات کی ویڈیو گرافی پر تشدد بھڑک اُٹھا

21 اپريل 2017

سرینگر/ کے این ایس / جے کے این ایس/’’طلاب کی جاری احتجاجی لہر کا دائرہ وسیع‘‘ ہونے کے بیچ’’جمعرات کوشہروقصبہ جات میں کئی مقامات پرمشتعل طلاب اورفورسزمیں تصادم آرائیاں ‘‘ہوئیں جس دوران شہرخاص کی ایک دوشیزہ سمیت ایک درجن سے زیادہ طلبہ اورکئی پولیس وفورسزاہلکارزخمی ہوگئے ۔ اس دوران نواکدل سرینگر، بانڈی پورہ ،کنگن ،کرالہ گنڈ ہندوارہ اور گوش بگ پٹن کے علاوہ دیگر مقامات پر پولیس وفورسز اہلکاروںنے مشتعل طلبہ کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج ،ٹیرگیس اور پائوا شلنگ کی جبکہ چھتر گل کنگن میں فورسز نے مبینہ طورپر ہائر سیکنڈری اسکول کے اندر داخل ہو کر احتجاجی طلاب کی شدید ما ر پیٹ کی ۔دریں اثنائ وادی بھر میں سرکاری سطح پر جمعرات کو مسلسل تیسرے روزکالج بند رہے جبکہ موبائیل انٹر نیٹ سروس چوتھے روز معطل رہی ۔ وادی بھر میں پلوامہ ڈگری کالج کریک دائون کے خلاف طلاب کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے ،جس دوران طلبائ وطالبات نے شمال وجنوب میں فورسز زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے احتجاجی جلوس اور ریلیاں برآمد کیں ،جس دوران کئی ایک مقامات پر تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔/
احتجاجی طلاب نے مشتعل ہو کر فورسز پر خشت باری کی جوابی کارروائی میں پولیس وفورسز نے حسبِ معمول وروایت لاٹھی چارج کیا اور ٹیر وپاواشلنگ کی ۔طلاب اور فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپوں کے نتیجے میں کئی علاقوں میں معمولات زندگی متاثر ہوئے ۔اس تمام صورتحال کے حوالے سے ملی تفصیلات کے مطابق وادی بھر میں جمعرات کو صوبائی انتظامیہ کی ہدایت پر تمام کالج بند رہے ۔پلوامہ ڈگری کالج کریک ڈائون پر سوموار کو طلاب کی پھوٹ پڑی احتجاجی لہر کے بعد منگلوار سے سرکاری سطح پر کالجوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ،جو تاحکم ثانی21اپریل تک سرکاری طور جاری رہے گا ۔جمعرات کو مسلسل تیسرے روز وادی بھر کے کالج بند رہے ،اس طرح تعلیمی نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا کیو نکہ ہائر سکنڈری اسکولوں میں زیر تعلیم طلاب سڑکوں پر سرا پا احتجا ج ہیں ۔ 15اپریل کو پلوامہ ڈگری کالج میں فورسز کے داخلے پر احتجاج ہوا ،جس دوران پولیس وفورسز کی کارروائی میں 50طلاب زخمی ہوئے اور اس ایک واقعہ نے پوری وادی میں طلاب احتجاجی لہر کو جنم دیا ،جو ہنوز جاری ہے،طالبات پر تشدد ڈھانے کے خلاف شمالی کشمیر میں دوسرے روز بھی طلبہ وطالبات نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جنہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کا استعمال کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ نواکدل، پٹن ، کنگن، کاوسہ بانڈی پورہ ، گرلز ہائر اسکنڈری اسکول اجس ، رفیع آباد میں زیر تعلیم طلبا نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے جس دوران فورسز نے ایک دفعہ پھر طاقت کا استعمال کیا ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ نوا کدل میں مشتعل نوجوانوں نے پتھراو کیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون شدید طورپر زخمی ہوئی اوراسے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ وادی کے تعلیمی مراکز میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کی جانب سے فورسز زیادتیوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا نہ تھمنے والا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ نمائندے کے مطابق شمالی کشمیر کے کاوسہ بانڈی پورہ میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب طلبہ وطالبات نے فورسز زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ دھرنے پر بیٹھے طلبہ وطالبات کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے لاٹھی چارج کیا جس پر احتجاج کرنے والے مشتعل ہوئے اور انہوں نے پتھراو کیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے یہاں پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور مظاہرین کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے شاہراہ پر کئی گھنٹوں تک گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ نمائندے کے مطابق گرلز ہائی اسکول اجس میں زیر تعلیم طلبا نے بھی سڑکوں پر ااکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور فورسز کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے جس کے نتیجے میں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ ادھر گلرز ہائی اسکول ہاری گنون کنگن چھتر گل میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات نے بھی طالبات پر تشدد ڈھانے کے خلاف احتجاجی مظاہرئے کئے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ نمائندے کے مطابق گوشہ بوگ پٹن میں بھی طلبا نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہو کر رہ گئی ۔ بانڈی پورہ میں خشت باری کے دوران نامعلوم خاتون زخمی ہوئی ہے جسے فوری طورپر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پر اُس کی حالت مستحکم بتائی جار ہی ہے۔دریں اثنا نوا کدل ہائر سکنڈری اسکول میں زیر تعلیم طلبا نے بھی سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس دوران مشتعل ہجوم نے فورسز پر پتھراو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی گئی ۔نمائندے کے مطابق نوا کدل میں موجود سی آر پی ایف کیمپ پر مشتعل ہجوم نے پتھراو کیا جس کی وجہ سے علاقہ میں افرا تفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا اس دوران کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنمنٹ ہائر سکنڈری اسکول نوا کدل سرینگر میں میں زیر تعلیم چند طلبا اور سماج دشمن عناصر نے براری پورہ نوا کدل کے قریب فورسز کیمپ پر پتھراو کیا ۔ ترجمان کے مطابق خشت باری کے دوران ایک پتھر خوشبو جان دختر غلام احمد کچھے ساکنہ نور باغ کے سر پر جا لگا جس کے نتیجے میں وہ شدید طورپر زخمی ہوئی اور اسے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا جہاں پر اُس کی حالت مستحکم ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق اس ضمن میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ کنگن کے مضافاتی گائوں چھتر گل میں فورسز کی جانب سے احتجاج کر رہی طالبات کی ویڈیو گرافی کرنے کے خلاف تشدد بھڑک اٹھا ۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے آرمی کیمپ میں تعینات اہلکاروں نے کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے چھتر گل اور اُس کے آس پاس علاقوں میں خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا ۔ اس دوران ڈپٹی کمشنر اور تحصیلدار جائے موقع پر پہنچ گئے جس کے بعد احتجاج کر رہے لوگ منتشر ہوئے ۔ دفاعی ذرائع نے طالبات کی ویڈیو گرافی کرنے کے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں۔ گورنمنٹ ہائر اسکنڈری اسکول چھتر گل میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات نے فورسز زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور دھرنا دیا ۔ نمائندے کے مطابق حالات اُس وقت کشیدہ ہوئے جب فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس دوران فوجی اہلکاروں نے کئی منٹوں تک ہوائی فائرنگ کی جس کی وجہ سے چھتر گل اور اُس کے آس پاس علاقوں میں افرا تفری کا ماحول پھیل گیا ۔ ذرائع کے مطابق بھگدڑ کے باعث کئی طلبا زخمی ہوئے ۔ نمائندے کے مطابق فورسز اہلکاروں کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے بعد لوگ مزیدمشتعل ہوئے اور انہوںنے کیمپ پر شدید پتھراو کیا تاہم فورسز نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے پھر ہوائی فائرنگ کی ۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ جونہی طالبات شاہراہ پر پُر امن طورپر احتجاج کر رہی تھیں اس دوران پاس ہی موجود فورسز کیمپ میں تعینات اہلکاروں نے طالبات کی ویڈیو گرافی کی ۔ مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ اُن کا پتھراو کرنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں تھا تاہم جب فورسز اہلکاروں نے ویڈیو کیمرے نکال کر شوٹنگ کرنے کی کوشش کی اُس پر لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے صنف نازک کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے پتھراو کیا ۔ جے کے این ایس نے اس ضمن میں جب دفاعی ذرائع کے ساتھ رابط قائم کیا تو انہوںنے مقامی لوگوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ فورسز اہلکاروں نے طالبات کی ویڈیو گرافی نہیں کی ۔ دفاعی ذرائع نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے کیمپ پر دھاوا بولنے کی کوشش کی جنہیں منتشر کرنے کیلئے فورسز نے کئی راونڈ ہوا میں فائر کئے جس کے بعد حالات معمول پر آئے۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں۔

تبصرے