ہندوپاک کے درمیان مذاکرات کا آج سے اسلام آباد میں آغاز- بات چیت میں دریائے چناب پر بننے والے تین منصوبے زیر بحث آئیں گے

20 مارچ 2017

اسلام آباد/پاکستان اور بھارت انڈس واٹرکمیشن کے مابین دو روزہ مذاکرات سوموار سے اسلام آباد میں شروع ہورہے ہیں جس کے لیے انڈین انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا کی سربراہی میں دس رکنی وفد واہگہ بارڈر راستے لاہور پہنچا ہے۔ 20 اور 21 مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں پاکستانی وفد کی قیادت انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ کریں گے ۔ مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے تین منصوبے زیر بحث آئیں گے۔ دریائے چناب پر تعمیر کیے جانے والے متنازع منصوبوں میں مایار ڈیم، لوئر کلنائی ڈیم اور پاکل دل ڈیم شامل ہیں۔ بھارت کی طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔ 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے بعد دونوں ملکوں کے مابین پانی کے تنازعے پر یہ 113 ویں مذاکرات ہوں گے جب کہ مذاکرات میں فریقین متنازع امور کے حل کے لیے ثالثی کے قیام پربھی بات چیت کرسکتے ہیں اور اجلاس کے آخری روز مشترکہ اعلامیہ/
 بھی جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ پاکستانی انڈس واٹر کمشنر آصف بیگ مرزا کا کہنا ہے کہ 20 اور 21 مارچ کو ہونے والے مذاکرات میں وہ انڈیا کے انڈس واٹر کمشنر سے ان منصوبوں کی تفصیلات طلب کریں گے اور اس کے بعد ہی اپنے موقف کا اظہار کریں گے۔ یاد رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈیا اور پاکستان کے مابین تقریباً دو سال کے بعد مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ دوسری جانب لاہور اور اسلام آباد میں متعدد کسان تنظیموں نے مذاکرات کے موقع پر مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ اتوار کو لاہور میں قومی کسان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا موضوع تھا ’بھارت کی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کو سبوتاڑ کر۔ اس موقع پر کسان تنظیموں نے کہا کہ پاکستان کو ہرگز ریگستان نہیں بننے دیں گے اور انڈیا آبی جارحیت کسی طور برداشت نہیں ہو گی، ضرورت پڑنے پرسڑکوں پر نکل کر احتجاج بھی کریں گے۔ خیال رہے کہ کشمیر میں اوڑی حملے کے بعد ستمبر 2016 میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی زیرِ صدرات ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تبصرے