دشمن طاقتیں مسلمانوں کیخلاف سازشیں کررہی ہیں: فاروق عبداللہ- اس بار یو پی کے مسلمانوں کو بھی تقسیم کرکے اُنہیں ٹولیوں میں بانٹ دیا گیا

19 مارچ 2017 (06:17)

سرینگر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ صہیونی طاقتوں نے اپنے ناپاک عزائم اور مسلمانوں کو پست کرنے کیلئے سازشیں رچی ہیں اور ہم مسلمان ان سازشوں کا آسانی سے شکار بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے الزام میں مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے اور مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی جارہی ہے۔ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اتوار کو محلہ مخدوم صاحب میں حضرت سلطان  العارفین کمیونٹی ہال میں لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کہا آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں دخل اندازی کی کوشش کی جا رہی ہے، طلاق ثلاثہ کا بہانہ بنا کر یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ،دہشت گردی کے الزام میں مسلمانوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے اور مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی جارہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ پوری دنیا میں مسلمان کیوں مارا مارا پھر رہا ہے ؟اس سب کا قصوروار اور کوئی نہیں بلکہ خود ہم ہیں، مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ قوموں کے عروج و زوال، سربلندی،ترقی و تنزلی،خوش حالی و فارغ البالی اور بد حالی میں اتحاد و اتفاق کا ہونا اور نہ ہونا کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں ملت اسلامیہ پریشانِ حال اور مشکلات سے دوچار ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ مسلمانوں میں جذبہ اخوت، ہمدردی، آپسی سوجھ بوجھ، اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب تک اُمت مسلمانوں متحد تھی تب تک ہر ایک مسلم مملکت خوشحال اور ترقی یافتہ تھی۔ صہیونی طاقتوں نے اپنے ناپاک عزائم اور مسلمانوں کو پست کرنے کیلئے سازشیں رچیں اور ہم مسلمان ان سازشوں کا آسانی سے شکار بن گئے۔ حالیہ یو پی انتخابات کے نتائج کی مثال دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس نے کہا کہ اس ریاست میں 100سے زائد ایسی انتخابی نشستیں ہیں، جس کا فیصلہ مسلمان اپنے ووٹوں سے کیا کرتے تھے لیکن اس بار یو پی کے مسلمانوں کو بھی تقسیم کرکے اُنہیں ٹولیوں میں بانٹ دیا گیا، نتیجتاً مسلمانوں کی آواز دب کر رہ گئی۔ انہوں نے کہا کہ 2014کے انتخابات میں بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر ایسا ہی کچھ یہاں بھی کیا اور جموں و لداخ میں انتخابات کو مذہبی رنگت دی گئی۔ ہم نے تب بھی یہاں کے عوام کو پی ڈی پی بھاجپا اتحاد کی سازشوں سے ہوشیار کیا اور آج بھی یہ بات دہراتے ہیں کہ یہ دونوں جماعتیں آر ایس ایس کے ڈکٹیشن پر کام کررہی ہیں ، جس کا مدعا و مقصد ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن، دفعہ370، سٹیٹ سبجیکٹ قانون اور یکساں سول کوڈ نافذ کرناہے۔

تبصرے