سلامتی کونسل میں چین کی قرارداد منظور-  ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پروجیکٹ میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھی شامل

20 مارچ 2017

سرینگر/ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ پروجیکٹ کے تحت پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں سلک روڑ ، اکنامک بیلٹ اکیسوی صدی شاہراہ ریشم اور علاقائی منصوبوں کی توثیق کی گئی جبکہ اس پروجیکٹ کی توثیق نے بھارت کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے چین کی جانب سے پیش کی گئی ایک قرارداد کی منظوری دی ہے جس میں افغانستان میں یواین مشن کے مینڈیٹ میں اتفاق رائے سے ایک سال توسیع کی گئی جبکہ بھارتی اعتراضات مستردکرتے ہوئے مذکورہ قراردادکے ذریعے چین کے ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کی بھی توثیق کی گئی جس میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھی شامل ہے‘ون بیلٹ ون بیلٹ پروجیکٹ کی توثیق نے بھارت کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔قراردادمیں دی بیلٹ اینڈ روڈ اور دیگر علاقائی ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد کی کوششیں مزیدتیز کرنے پر زوردیاگیا‘پندرہ رکنی سلامتی کونسل نے افغانستان میں یواین مشن میں ایک سالہ توسیع کی منظوری دی ‘قراردادکے متن کے مطابق یواین مشن کے تحت افغانستان میں امن اور مفاہمت کے فروغ، افغان حکومت کی امداد ، انسانی حقوق کی نگرانی اور فروغ ، شہریوں کے تحفظ اور بہتر طرزِ حکومت پر توجہ دی جائے گی‘ قرارداد میں علاقائی معاشی تعاون ،علاقائی روابط، تجارت ، سلک روڈ اکنامک بیلٹ ،اکیسویں صدی شاہراہ ریشم اور علاقائی ترقی کے منصوبوں کی توثیق کی گئی اورباہمی روبط بڑھانے پر زوردیاگیا‘چائنہ ریڈیوکے مطابق قرارداد کی منظوری کے بعد اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب لایوجائی پی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ رواں سال چینی صدر شی جن پنگ نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے انسانی برادری کی تعمیر کے تصور کا فارمولا پیش کیا ‘اس بار منظور کردہ قرارداد میں پہلی بارعالمی سطح پر چین کے اس تصورکی توثیق کی گئی ہے‘ااس سے ظاہر ہوتاہے کہ چین کے تصور نے عالمی انتظامیہ کو متاثر کیا ہے‘اس کے ساتھ ساتھ قرارداد میں دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر پر بھی زور دیا گیا ہے اور اس کی تعمیر میں سلامتی کی ضمانت سمیت تفصیلی مطالبے بھی پیش کئے گئے ہیں‘ اس سے بیجنگ میں منعقد ہ/
 دی بیلٹ اینڈ روڈ کے عالمی تعاون کی سمٹ کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو گا۔ چین کو امید ہے کہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک قرارداد کے مطابق دی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی تعمیر میں مثبت طور پر شامل ہوں گے اور انسانی برادری کی مشترکہ تعمیر کریں گے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ پاکستانی زیر انتظا م کشمیر میں چینی حکومت کی جانب سے شاہرائیں تعمیر کرنے کا فیصلہ لینے کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے اس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے معاملہ پاکستان اور چینی حکومت کے ساتھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چین کی پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مداخلت کو روکا جا سکے۔ تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت کی قرارداد کو مسترد کرنے کے بعد چین نے شاہرائیں تعمیر کرنے کے حوالے سے کارروائی شروع کی ہے۔

تبصرے