کشمیری نوجوانوں کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے جامع اقدامات کی ضرورت عوام کی آواز سنی نہیںجاتی ، پورا نظام درہم برہم ہوگیا دلی میں کشمیرسرکار کی قدر قیمت شائد کم ہے :تصدق مفتی

20 اپريل 2017

سرینگر/تصدق حسین مفتی، جووزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے چھوٹے بھائی اور پارلیمانی حلقہ انتخاب اننت ناگ سے پی ڈی پی امیدوار ہیں جہاں ضمنی انتخابات 25مئی کیلئے موخر کر دئیے گئے ہیں ، نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں ان کی جماعت کو مکمل تباہ کرنے اور اسے جڑ سے اکھاڑنے کے لئے منصوبہ بند ڈھنگ سے کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حالات کے بارے میںپی ڈی پی کے نظریات کو پوری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے ، کشمیری نوجوانوں میں پائے جانے والے غم و غصہ کوٹھنڈا کرنے کے لئے جامع قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے ، انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران تصدق مفتی نے کہا کہ ’پی ڈی پی ایجنڈہ آف الائنس لاگو کرنے کیلئے وعدہ بند ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ اس سارے تنازعہ میں صرف ایک فریق ایسا ہے جس کی بات نہیں سنی جا رہی ہے اور وہ ہیں عوام۔ پورا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور دہلی میں جموں کشمیر سرکار کی قدر و قیمت شاید بہت ہی کم ہے ، لیکن مجھے یقین ہے کہ جلد یا بدیر ، دہلی کو بنیادی تنازعہ کے حل کے لئے قدم اٹھانے ہوں گے۔‘ تصدق نے کہا کہ سیاسی پہل کی عدم موجودگی میں طاقت کے بے تحاشہ استعمال سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔‘انہوں نے کہا کہ مرکز کو کشمیر میں مذاکرات کی بحالی جیسے اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانے پر اختیار کی گئی/جاری صفحہ نمبر ۹پر
 خاموشی کو توڑنا ہوگا۔ ’ہم اپنے طور پر یہ سب نہیں کر سکتے ہیں ، جس مشترکہ ایجنڈہ پر ہمارا اتفاق ہوا تھا یہ اقدامات اس کا لازم جز ہیں۔ حال ہی میں جب میں نوجوان طبقہ سے ملا تو ان میں سے بیشتر مایوسی کے عالم میں تھے۔ انہیں مستقبل میں کچھ نظر نہیں آرہا،ایسا کچھ نہیں ہے جس پر وہ اطمینان اور مسرت کا اظہار کر سکیں ۔ سیاسی مسئلہ جوں کا توں ہے جو سارے مسائل کی بنیاد ہے ، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے پاس روزگار کے مواقع نہیں ہیں، بے روزگاری کے مسئلہ سے نپٹنے کے لئے پچھلے ان برسوں میں کوئی منظم کوشش نہیں کی گئی۔ معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے کوئی سوچ نہیں ہے ، لوگوں کے اصل مسائل کیا ہیں، انہیں جاننے کی کوشش نہیں کی جا رہی بلکہ صرف وقتی حل تلاش کر کے وقت گزارا جا رہا ہے ۔ اور اس کے اثرات سب پر ظاہر ہیں‘‘۔’ہمیں دو طرح کے مسائل کا سامنا ہے ، ایک تو سیاسی عدم اطمینان ہے ، اس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور، اس بات کے قطع نظر کہ سرینگر یا دہلی میں کون سی حکومت بر سر اقتدار ہے ، اس کا ازالہ تب تک ممکن نہیں جب تک اس کے لئے سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی ہے ۔ اور دوسرا مسئلہ احساس بیگانگی ہے جس کا اظہار عام طور پر پُر تشدد ڈھنگ سے دیکھنے کو ملتا ہے ، چاہے وہ پتھر بازی ہو یا کچھ اور۔ اس احساس میں ہر علاقہ اور ہر عمر کے لوگ مبتلا ہو گئے ہیں، 12سال کے نو عمر بچوں سے لے کر 30سال کے پختہ عمر نوجوانوں تک۔لوگوں میں الگ الگ سطح سے عدم اطمینان اور ناراضگی پنپ رہی ہے جس کے نتیجہ میں منظم باغیانہ سرگرمیوں کیلئے مواقع دستیاب ہو گئے ، اور ہم دیکھتی آنکھوں یہ سب ہوتے ہوئے گوارہ نہیں کر سکتے۔ اس حساس مسئلہ کے حل کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ’’پچھلے چند ہفتوں کے دوران میں وادی کے مختلف حصوں میں نوجوانوں کے ساتھ ملاقی ہوا ، ان میں سے بیشتر غم و غصہ اور مایوسی سے بھرے ہوئے تھے، کسی نے کبھی ان کی بات سننے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کی۔ 14سال کی عمر کے لڑکے پولیس کی طرف سے مسلسل ہراساں کئے جانے سے نالاں تھے، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر دئیے گئے اور اس سے باہر نکلنے کے لئے انہیں بھاری رشوت ادا کرنا پڑی۔ ان میں سے زیادہ تر لڑکے ابھی ووٹ دینے کی عمر کو نہیں پہنچے ہیں اس لئے وہ کسی کا ووٹ بنک بھی نہیں ہیںاس لئے کسی بھی سیاسی جماعت کو ان کی فکر نہیں ہے، ان کے ساتھ کوئی رابطہ قائم کر کے راضی نہیں ، بلکہ انہیں صرف پولیس یا ملٹری کی زبان میں جواب ملتا ہے ۔اگر بنیاد پرستی کو ختم کرنے کا یہی طریقہ ہے تو مجھے یقین ہے کہ یہ اس طرح نہیں ہو سکتا۔ہمیں کچھ سوالات براہ راست بھی کرنے ہوں گے، ہمیں دریافت کرنا ہوگا کہ فائرنگ میں اتنی بڑی تعداد میں نوجوان ہلاک یا زخمی کیوں ہو رہے ہیں؟ امن و قانون قائم رکھنے کے لئے ذمہ دار حکام اس صورتحال سے بچنے کیلئے کوئی متبادل کیوں تلاش نہیں کر پائے؟ عوامی حلقوں میں وائر ل ہونے والے لرزہ خیز ویڈیودیکھ کر رونما ہونے والی ہر ہلاکت پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ہر معاملہ کی غیر جانبداری سے تحقیقات ہونی چاہئے اور قصور وار پائے جانے پر ملزمان کو ان کے جرم کی سزا دی جائے۔ حالات کے اس حد تک خراب ہونے کیلئے اہم پوسٹوں پر بیٹھے حکام کو ذمہ دار قرار دیا جائے۔ ایک ہلاکت ہوتی ہے تو اس کے رد عمل میں مظاہرے ہوتے جس کے نتیجہ میں مزید ہلاکتیں ہو جاتی ہیں اور اس طرح ایک سلسلہ چل نکلتا ہے ، لیکن ہم عمل در ردعمل کے اس سلسلہ کو جاری رکھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ میں سیکورٹی فورسز سے ایک سیدھا سوال کرنا چاہتا ہوں۔ پچھلے چند روز کے دوران جو ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں انہیں دیکھ کر میں تذبذب میں پر گیا ہوں۔ لگتا ہے کہ ان میں سے چند ایک ہی فورسز نے خود بنا کر سوشل میڈیا پر لوگوں کو دیکھنے کے لئے اپ لوڈ کئے ہوئے ہیں۔ اس کی اجازت کس نے اور کیوں دی؟ اگر کسی اہلکار نے یہ اپنے طور پر کیا ہے تو گھمبیر ڈسپلن شکنی ہے، اور اگر یہ سب طے شدہ طریقہ سے کیا گیا ہے تو یہ اور بھی سنگین مسئلہ ہے ۔ ہم جاننا چاہیں گے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ، کیوں کہ کشمیری نوجوانوں کی توہین، بد سلوکی اور ان پر حد درجہ تشدد کے ویڈیو فلما کر غیر قانونی طور پر سوشل میڈیا پر لوڈ کرنا ، اگر چہ وہ مظاہرین اور پتھر باز ہی کیوں نہ ہو، انتہائی منفی نتائج کا حامل ہے ۔ اس کے ہمارے لئے ریاست میں مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس سے نہ صرف زمینی سطح پر ہماری اعتمادیت اور وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ عوام میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے ،اور ہمیں یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اس سے فورسز کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے ۔ ہم اور ہمارے کارکنان عوامی غیض و غضب کا شکار بنیں گے، میرا مطلب ہے ساری مین سٹریم ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قسم کی اشتعال انگیزیاں کشمیر میں آگ کو مزید ہوا دیں گی۔ تشدد میں ہوئے حالیہ اضافہ کیلئے ہماری حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا، میں اپنے سر سے بلا نہیں ٹال رہا، لیکن ہم متواتر الیکشن کمیشن کو مطلع کرتے رہے کہ کشمیر میں ضمنی انتخابات کے لئے ماحول سازگار نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت بھی اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھی کہ حالات کو،بالخصوص گزشتہ برس کی بے چینی کے تناظر میں معمول پر آنے میں ابھی مزید وقت لگے گا۔ہم نے مرکزی سرکار اور الیکشن کمیشن پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ انتخابات پر مصر رہتے ہیں تو تشدد ہوسکتا ہے اور پولنگ کی شرح شرمناک حد تک کم ہوگی، لیکن انہوں نے اس پر کان نہیں دھرا۔ اور نتیجہ کار سرینگر لوک سبھا حلقہ کے ضمنی انتخاب کے دوران عین وہی سب ہوا، 8قیمتی انسانی جانیں تلف ہو گئیں۔اتر پردیش سے راجستھان تک ، ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کا کشمیر کے حالات پر منفی اثر پڑتا ہے لیکن ہم اس سلسلہ میں زیادہ کچھ نہیں کر سکتے، ہم صرف غصے اور ناراضگی کو ٹھنڈا کرنے کیلئے اقدامات کرنا چاہئے ہیں۔ یہ قدرتی امر ہے کہ اگر ہندوستان میں اس طرح کی تبدیلیاں آتی ہیں تو کشمیر کے ساتھ تعلقات بھی بدلیں گے اور مزیدخراب ہی ہوں گے۔ ’’جس طرح سے اس وقت ریاست میں مین سٹریم سیاست کی جا رہی ہے وہ کار آمد نہیں ہے ، یہ طریقہ کار زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔ ہمیں دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا، حزب اختلاف دشمن نہیں بلکہ صرف سیاسی مخالف ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔

تبصرے