طلبہ کیساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر نماز جمعہ کے بعد ایک گھنٹے تک احتجاج کیاجائے: مزاحمتی قیادت

19 اپريل 2017 (06:33)

سرینگرآزادی پسند قائدین سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے کشمیری طلبائ پر تشدد ڈھانے اور تعلیمی اداروں پر دھاوا بولنے کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے حریت پسند عوام سے 21اپریل بعد نماز جمعہ طلبائ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور ایک گھنٹے کا پُرامن علامتی احتجاج بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان طلبائ ہمارے قوم کا مستقبل ہیں اور ان کے خلاف کسی قسم کی مہم جوئی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مشترکہ بیان میں مزاحمتی قائدین نے کہا کہ ضمنی الیکشن ڈرامے کے موقع پر کشمیری عوام کی طرف سے جو دوٹوک فیصلہ سامنے آگیا ہے، اُس نے سرینگر سے دلی تک حکمرانوں پر لرزہ طاری کردیا ہے اور وہ فرسٹیشن کے شکار ہوگئے ہیں۔جاری صفحہ نمبر ۹پر  پلوامہ کالج پر فورسز کا حملہ اور طلبائ کی مارپیٹ اسی فرسٹیشن کا نتیجہ تھا اور دوسرے تعلیمی اداروں کے طلبائ کی طرف سے نکالے گئے پُرامن جلوسوں کے خلاف طاقت کا بے تحاشا استعمال عمل میں لانا بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ آزادی پسند لیڈروں نے کشمیر کی نوجوان نسل کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کا جذبۂ آزادی اور پختہ شعور ہی قوم کے شاندار مستقبل کی ضمانت ہے اور اس سے بھارت کے حکمران خوف زدہ ہوگئے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کو خوف ودہشت کے ذریعے سے دبانے کی بہت کوشش کی گئی اور لالچ دیکر خریدنے کا ہر حربہ بھی آزمایا گیا، البتہ بھارت کو ہر محاذ پر منہ کی کھانی پڑی اور وہ اس سلسلے میں ہر طرح سے ناکامیاب ہوگیا ہے۔ گیلانی صاحب، عمر صاحب اور یٰسین صاحب نے اپنے مشترکہ بیان میں کابینہ کی طرف سے امن قائم کرانے میں تعاون مانگنے کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ریاست میں امن درہم برہم کرانے کے لیے کُلی طور پر بھارتی فورسز اور ریاستی پولیس ذمہ دار ہیں، جو نہتے شہریوں پر بے پناہ مظالم ڈھارہی ہیں اور جنہوں نے پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر مکمل طور پابندی عائد کردی ہے۔ حکمرانوں کو یہ نصیحت ان فورسز اہلکاروں کو کرنی چاہیے جنہوں نے 9اپریل کے الیکشن ڈرامے کے دن 8شہریوں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کردیا، جنہوں نے پلوامہ ڈگری کالج پر یلغار کی اور 60سے زائد طالب علموں کو خون میں لت پت کردیا اور جنہوں نے پُرامن جلوس نکالنے والے طلبائ وطالبات پر بے پناہ تشدد ڈھایا اور بے شمار کو مجروح کردیا۔ مزاحمتی قائدین نے کہا کہ جموں کشمیر کو عملاً فوج کے حوالے کردیا گیا ہے اور فوج براہِ راست طور ’’ڈاؤل ڈاکٹرین‘‘ پر عمل کررہی ہے، جس کے تحت ہر اہلکار کے ہاتھ میں لائسنس تھمادی گئی ہے کہ وہ جب چاہے اور جس کو چاہے ہلاک کرسکتا ہے، اس کی کوئی باز پُرس ہوگی اور نہ اس کو کسی قسم کی سزادی جائے گی۔ آزادی پسند لیڈروں نے کہا کہ ریاست میں جوابدہی کا کوئی انتظام ہوتا، تو 27سالہ نوجوان کو جیپ سے باندھنے والے آرمی آفیسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی اور اس کو گرفتار کیا جاتا، اس کے برعکس اس کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی ہورہی ہے اور اس کو بعض لوگ ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مزاحمتی قائدین انٹر نیت پر پابندی کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اقوامِ عالم کو اُس ریاستی دہشت گردی سے بے خبر رکھنا ہے جس کا مظاہرہ بھارت کی مسلح افواج جموں کشمیر میں کررہی ہیں۔

تبصرے