بارسو گاندربل میں فورسز فائرنگ سے زخمی نوجوان ہسپتال میں چل بسا، کولگام میں کہرام

19 اپريل 2017 (06:31)

سرینگرجے کے این ایس9اپریل کو بارسو گاندربل میں فورسز فائرنگ میں زخمی کولگام کے نوجوان کی اسپتال میں موت واقع ۔ کولگام میں خبر پھیلتے ہی لوگوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اور نعش کو کاندھوں پر اٹھا کر احتجاجی جلوس نکالا۔ جاں بحق نوجوان کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اس دوران رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ نوجوان کی ہلاکت کے خلاف بارسو گاندربل میں بھی مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔ 9اپریل کو بارسو گاندربل میں بی ایس ایف اہلکاروں نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو دوست شدید طورپر زخمی ہوئے جن میں سے عمر فاروق موقعے پر ہی ہلاک ہوا جبکہ مظفر احمد میر ساکنہ زنگل پورہ کولگام شدید طورپر زخمی ہوا اور کئی دنوں تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد بدھوار کے روز صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں دم توڑ بیٹھا۔ نمائندے کے مطابق زنگل پورہ کولگام میں جاری صفحہ نمبر ۹پر نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے اس دوران کولگام اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ۔ نمائندے کے مطابق صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سے جونہی نعش آبائی گھر واقع زنگل پورہ کولگام پہنچائی گئی تو وہاں کہرام مچ گیا ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نوجوان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور بعد میں اُس کو پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق نماز جنازہ کے بعد زنگل پورہ کولگام میں نوجوانوں کی کثیر تعداد نے اسلام و آزادی کے نعروں کے بیچ جلوس بھی نکالا جو مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا پُر امن طورپر منتشر ہوا۔ ادھر نوجوان کی ہلاکت کے بعد بارسو گاندربل میں بھی ہڑتال کے باعث معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئیں۔

تبصرے