پولیس وفورسز کی زیادتیوں کیخلاف بانہال میں ہڑتال کاروباری ادارے بند ، پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب

20 اپريل 2017

سرینگر/ اے پی آئی /فورسز اہلکاروں کی زیادتیوں کے خلاف بانہال قصبے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں ہڑتال سے زندگی درہم برہم ،کاروباری ادارے ٹھپ تاہم جموںسرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت جاری ،مزید ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کیلئے انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات سخت کر دئیے ۔ 18اپریل کو بانہال قصبے میں طلبا نے ڈگری کالج پلوامہ کے طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے کئے ،اگر چہ اس دوران پولیس و فورسز اور طلبا کے درمیان تصادم آرائیاں بھی ہوئیں اور ساتھ گھنٹوں تک جموں سرینگر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل بھی رہی تاہم صورتحال اس وقت سنگین ہوئیں جب ایس ایس بی کے اہلکاروں نے ماروتی وین میں سوار ڈرائیور کو گاڑی سے نیچے اتار کر اسے لہو لہاں کیا جس پر لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے جموں سرینگر شاہراہ پر احتجاجی مظاہرے کئے ،اس دوران پولیس و فورسز اہلکاروںنے کئی دکانداروں کو بھی زدکوب کیا جس پر بانہال بیوپار منڈ ل اور مقامی اوقاف انتظامیہ نے پولیس و فورسز کی زیادتیوں کے خلاف/جاری صفحہ نمبر ۹پر
 ایک روزہ ہڑتال کی کال دی ۔ بیوپار منڈ ل اور مقامی انتظامیہ نے ایس ایچ اؤ بانہال محمد افضل وانی ،اسسٹنٹ سب انسپکٹر حبیب پٹھا ن اور ان کے تین پی ایس اؤ کو تبدیل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کا مطالبہ کیا ۔ ڈپٹی کمشنر رام بن کے مطابق ایس ایچ اؤ ، اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور ان کے ماتحت عملے کے خلاف پہلے ہی عدالتی تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مذکورہ پولیس افسروں کے بارے میں کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے ۔ نمائندے کے مطابق بیوپار منڈل اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی کال کے باعث بانہال قصبے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ،کاروباری ادارے ٹھپ رہے اور اندرونی علاقوں میں گاڑیوں کی آمد و رفت بھی معطل رہی ، تاہم جموں سرینگ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا اور مزید ناخوشگوار واقعات کو ٹالنے کیلئے حفاظت کے اقدامات سخت کر دئیے گئے تھے ۔

تبصرے