سی پیک سے کشمیر پر چین کا موقف متاثر نہیں ہوگا- دونوں متحارب ممالک سے مذاکرات کے ذریعے دیرینہ مسئلہ حل کرنے کی بیجنگ کی اپیل

19 مارچ 2017

بیجنگ/ چین نے واضح کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری ﴿سی پیک﴾ کے منصوبے سے کشمیر کے بارے میں اس کے دیرینہ اور دوٹوک موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے یہ بات دہرائی ہے کہ کشمیر تاریخ کا چھوڑ ہوا ایک مسئلہ ہے جسے ہندوپاک کے مابین دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک پریس بریفنگ میں جب چینی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان ہوا چن ینگ سے گلگت بلتستان کو پانچویں صوبے کی حیثیت سے پاکستان میں شامل کرنے کی خبروں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے چین کا موقف با اصول اور واضح ہے۔ترجمان نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان تاریخ کے اس چھوڑے ہوئے مسئلے کو دونوں فریقوں کی جانب سے مناسب طور پر مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ’’چین پاکستان اقتصادی راہداری ﴿سی پیک﴾ کے فروغ سے کشمیر کے مسئلے پر چین کے موقف پر کوئی اثر نہیں پڑے گا‘‘۔ایک سوال کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاع، صنعت اور تجارت کے شعبوں میں معمول کا تعاون برقرار ہے۔اس سے قبل گذشتہ سال دسمبر کے مہینے میں چین نے اقتصادی راہداری منصوبے میں پاکستان کی جانب سے انڈیا کو شمولیت کی پیشکش پر انڈیا کے رد عمل سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔تاہم اس نے کہا تھا کہ وہ یہ چاہتا ہے کہ تیسرے فریق کو پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں متعارف کرنے کے امکانات پر فیصلہ پاکستان سے مشاورت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ حالیہ دنوں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آئی ہے۔یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری46 ارب ڈالر کا منصوبہ ہے جس پر کام تیزی سے جاری ہے اور چین حالیہ دنوں سی پیک سے متعلق ’’منفی پروپیگنڈے‘‘کو زائل کرنے کی کوشش میں مصروف نظر آیا ہے۔پاکستان میں تعینات چینی سفارت کار عموماً خاموش سفارتکاری پر عمل پیرا رہے ہیں لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے پر عمل درآمد میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ یہی چینی سفارت کار سوشل میڈیا پر اس کے دفاع کے لیے کافی متحرک ہوئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ سی پیک میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی شمولیت پر انڈیا کواعتراض ہے اور یہ دونوں ملکوں کے درمیان/
 اختلافات میں شامل ہے جبکہ چین جوہری سپلائر گروپ﴿ این ایس جی﴾ میں انڈیا کی شمولیت اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے جیشِ محمد کے سربراہ مسعود اظہر پر پابندی کی راہ میں حائل ہے۔

تبصرے