طلبہ کیخلاف طاقت کے استعمال پر کابینہ کا اظہار تشویش- کابینہ کے خصوصی اجلاس میں وادی کے حالیہ واقعات اور سیکورٹی ایجنسیوں کے طرز عمل پر پی ڈی پی اور بی جے پی وزرائ کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے وزیراعلیٰ نے حالات معمول پر لانے کیلئے والدین، سول سوسائیٹی اور سیاسی پارٹیوں سے تعاون طلب کیا

18 اپريل 2017 (10:59)

سرینگر کے این ایس ریاستی کابینہ نے ’’کشمیرمیں حالیہ ہلاکتوں پرسخت تشویش ‘‘ظاہرکرتے ہوئے سیکورٹی ایجنسیوں کومظاہرین کامقابلہ کرتے وقت قواعدکاپابندرہنے کی پھرہدایت دی ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے جبکہ انہوں نے سبھی سیاسی جماعتوں سے وادی میں قیام امن کیلئے تعاون طلب کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں کوسنگبازی سے روکنے کیلئے والدین اور سیول سوسائٹی کو بھی اپنا رول ادا کرنا چاہئے ۔اس دوران کابینہ میٹنگ میں موجودپی ڈی پی اوربی جے پی سے تعلق رکھنے والے سینئروزرائ میں اختلاف رائے بھی پیداہوا۔معلوم ہواکہ رواں ماہ کے آخری ہفتے میں ششمائی دربارمئوکے تحت سرمائی راجدھانی میں سیول سیکرٹریٹ اوردیگراہم دفاتربندہونے سے قبل ریاستی کابینہ کی غالباًآخری میٹنگ جموں میں منگل کوبعددوپہرمنعقد ہوئی ۔وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی زیرصدارت منعقدہ میٹنگ میں نائب وزیراعلیٰ نرمل سنگھ سمیت تمام کابینہ درجے کے وزرائ موجودتھے ۔ذرائع نے بتایاکہ کابینہ میٹنگ کے دوران زیادہ ترکشمیرکی صورتحالجاری صفحہ نمبر ۹پر  کوہی زیرغورلایاگیاجبکہ اس دوران فوج اورفورسزکی جانب سے مبینہ طورطاقت کے اضافی اوربے تحاشہ استعمال کے معاملے پرمیٹنگ میں موجودپی ڈی پی اوربی جے پی سے تعلق رکھنے والے سینئروزرائ میں اختلاف رائے بھی پیداہوا۔ذرائع کاکہناتھاکہ وزیراعلیٰ سمیت پی ڈی پی سے وابستہ سبھی کابینہ وزرائ نے 9اپریل کووسطی کشمیر میں ضمنی چنائوکے دوران بڈگام اورگاندربل کے کچھ علاقوں میں فورسزاورفوج کی جانب سے روبہ عمل لائی گئی کارروائیوں پرتشویش اورناراضگی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ایسے اقدامات کے نتیجے میں ہی اہل وادی کااعتمادمتزلزل ہورہاہے ۔ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی طلب کردہ کابینہ میٹنگ کے دوران ضمنی چنائوکے بعدمنظرعام پرآئے وہ ویڈیوزبھی زیربحث لائے گئے ،جن میں سے ایک ویڈیومیں ایک نوجوان کوفوجی گاڑی کے بمپرکیساتھ باندھ کرفوجی اہلکاروں نے وسطی ضلع بڈگام میں مبینہ طورنصف درج سے زیادہ دیہات کاگشت کیاتاکہ نوجوانوں کویہ سخت پیغام دیاجائے کہ اگرانہوں نے سنگباری نہیں چھوڑی تواُن کیساتھ بھی ایساہی سلوک کیاجائیگا۔کابینہ میٹنگ میں کشمیروادی میں جاری پُرآشوب صورتحال کااحاطہ کرنے کے دوران اسبات پرزوردیاگیاکہ عوام کااعتمادبحال کرکے ہی کشمیرمیں امن وقانون کی صورتحال کوبہتربنایاجاسکتاہے جبکہ کشمیرسے تعلق رکھنے والے کچھ ایک سینئروزرائ کاکہناتھاکہ وادی میں عام شہریوں کیخلاف سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے طاقت کااضافی استعمال ہورہاہے ،اوراس وجہ سے لوگوں میں عدم تحفظ کیساتھ ساتھ ناراضگی بھی پائی جاتی ہے ،اوروسطی کشمیرکے لوگوں نے ووٹ نہ ڈالکراپنی اس ناراضگی کااظہاربھی کیا۔ کابینہ میٹنگ کے دوران یہ اہم فیصلہ لیاگیاکہ کشمیرمیں 2016جیسی صورتحال کے اندیشے کاازالہ کرنے کیلئے سیول سوسائٹیز کیساتھ ساتھ سماج کے ذی شعوراشخاص اوروالدین کاتعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ادھرمحکمہ اطلاعات کی جانب سے کابینہ میٹنگ کے حوالے سے موصولہ بیان کے مطابق وزیراعلیٰ کی زیرصدارت منعقدہ میتنگ کے دوران کشمیروادی کی صورتحال کاجائزہ لیاگیاجبکہ اس بات کافیصلہ لیاگیاکہ نوجوانوں کوسنگباری کی سرگرمیوں سے دوررکھنے کیلئے اُنکے والدین ،سماج کے ذی شعوراشخاص اورسیول سوسائٹی کاتعاون حاصل کیاجائیگاتاکہ ایسے نوجوانوں کوسنگباری جیسی سرگرمیوں کے مہلک نتائج کے بارے میں خبردارکیاجائے ۔معلوم ہواکہ ریاستی کابینہ نے جموں وکشمیربالخصوص وادی میں امن وقانون اورسلامتی صورتحال کاتفصیلی جائزہ لینے کے دوران خبردارکیاکہ کچھ امن دشمن قوتیں کشمیرمیں حالات بگاڑنے کے درپے رہتی ہیں ،اسلئے جب بھی کوئی ناخوشگوارواقعہ رونماہوجاتاہے توایسی قوتیں عوام بالخصوص نوجوانوں کوگمراہ کرکے حالات کوبگاڑنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ریاستی کابینہ نے اسبات پرزوردیاکہ امن وقانون اورانسدادملی ٹنسی سے جڑی سیکورٹی ایجنسیوں کواحتجاجی مظاہرین سے نمٹتے وقت حدسے زیادہ صبروتحمل کامظاہرہ کرناچاہئے تاکہ بلاوجہ کسی معصوم شہری کی زندگی یاصحت کوکوئی نقصان نہ پہنچے ۔کابینہ نے وزیراعلیٰ کی اسبات سے مکمل اتفاق کیاکہ سیکورٹی فورسزکوشہری ہلاکتوں کے واقعات سے بچنے کیلئے حددرجہ احتیاط اورصبروتحمل سے کام لیناچاہئے ۔کابینہ میٹنگ میں بولتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے حالیہ شہری ہلاکتوں پرسخت دکھ کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ قیمتی انسانی جانوں کاضیاع ہرصورت میں ناقابل برداشت ہے ۔انہوں نے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کومظاہرین کیخلاف کم سے کم طاقت کااستعمال کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وادی میں امن وقانون کی صورتحال کوبہتربنانے کیلئے مختلف نظریات کی حامل سبھی سیاسی جماعتوں سے تعاون طلب کیا۔انہو ں نے ریاستی سرکارکے اس عزم کااعادہ کیاکہ کشمیرمیں حالات کوبہتربنانے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کیساتھ ساتھ عوامی مشکلات کاازالہ بھی کیاجائیگا۔

تبصرے