طلبہ اور طالبات پر بے پناہ تشدد - مولانا آزاد روڈپر طلبہ اور طالبات کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور ٹیر گیس شلنگ کے بعد رنگدار پانی کی بوچھاڑ کردی گئی وادی کے شمال وجنوب میں بھی کالج طلبہ اور طالبات کے خلاف طاقت کا بے تحاشہ استعمال کیاگیا ،ڈیڑھ سو سے زیادہ طلبہ زخمی، درجنوں طالبات بے ہوش

17 اپريل 2017 (05:49)

سرینگر نیازحسین جی ایم سوپوری عازم جان طارق راتھربشیر سمبلی کے این ایس اے پی آئی ’’شہروقصبہ جات میں تعلیمی اداروں کے گردونواح میں سیکورٹی حصار‘‘کے باوجود’’سری نگرسمیت وادی بھرکے کالجوں اورہائراسکینڈریوں سے طلبائ وطالبات کے احتجاجی جلوس اورریلیاں برآمد‘‘ہوئیں ۔سری نگر،بارہمولہ ،سوپور،ہندوارہ،ترال ،پلوامہ ،پانپور،شوپیان اورکولگام سمیت کئی مقامات پرخاکی وردیوں میں ملبوس پولیس وفورسز اہلکاروں نے سفیدوسیاہ وردیاں زیب تن کئے طلبائ اور طالبات کومنتشرکرنے کیلئے ٹیرگیس وپائوا شلنگ،پیلٹ فائرنگ اوررنگدارپانی کااستعمال کیاجبکہ کئی مقامات پرمشعل طلبائ نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سنگباری کی ۔طرفین کے درمیان ہوئی تصادم آرائیوں کے دوران ایک پولیس افسرسمیت ایک درجن سے زیادہ اہلکاراور80سے زیادہ طلاب زخمی ہوئے جن میں سے30 سے زیادہ زخمیوں کومختلف اسپتالوں میں داخل کرایاگیاجبکہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کئی طلبائ کوگرفتاربھی کیا گیا ۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران گرمی کی شدت ،آنسوگیس گولوں کے دُھویں اورخوف وہراس کے عالم میں کئی طالبات سرراہ بے ہوش ہوکرگرپڑیں۔اس دوران مولانا آزاد روڑ سرینگر اور دیگر کئی قصبوں کی سڑکوں کاحلیہ رنگدارپانی کی بوچھاڑاورسنگباری سے بگڑگیا۔اُدھرکشمیریونیورسٹی کے کیمپس میں طلبائ اور طالبات نے ڈگری کالج پلوامہ میں زیرتعلیم طلاب کیخلاف پولیس وفورسزکارروائی کیخلاف پُرامن طورصدائے احتجاج بلندکیا۔دریں اثنائ پولیس حکام نے طلبائ یاطالبات کیخلاف طاقت کے اضافی استعمال کے الزام کومستردکرتے ہوئے واضح کیاکہ امن وقانون کی صورتحال کوقابومیں رکھنے کیلئے پولیس اورفورسزاہلکاروں نے صبروتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے طاقت کامعمولی استعمال کیا۔ اتوارکی چھٹی کے بعد سوموارکی صبح وادی بھرتعلیمی ادارے کھلنے کے کچھ وقت بعدہی سرینگرسمیت وادی کے بیشترقصبوں میں اُسوقت حالات پُرتنائو اورکشیدہ ہوگئے جبکہ کالجوں اورہائراسیکنڈریوں میں زیرتعلیم طلبائ اور طالبات نے سنیچرکے روزپلوامہ ڈگری کالج میں زیرتعلیم طلاب کیخلاف طاقت کے بے تحاشہ استعمال اوراس دوران50سے زیادہ طلبہ کے زخمی ہوجانے کیخلاف احتجاجی جلوس اورریلیاں نکالیں ۔شہرسری نگرکے حساس اوراہم ترین سیول لائنزعلاقہ میں سوموارکی صبح اسوقت افراتفری اور بھاگم بھاگ کی صورتحال پیداہوگئی جب مولاناآزادروڑپرواقع ایس پی کالج اورایس پی ہائراسکینڈری میں زیرتعلیم طلبائ نے ایک احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی ۔عینی شاہدین کے مطابق جب طلبائ نے جلو س کی صورت میں مولاناآزادروڑپرآنے کی کوشش کی توایس کالج مین گیٹ کے باہرپہلے سے ہی بڑی تعدادمیں تعینات پولیس اورسی آرپی ایف اہلکاروں نے اُنھیں باہرآنے کی اجازت نہیں دی ۔اس موقعہ پراحتجاجی طلبہ نے ہم کیاچاہتے آزادی جیسے نعرے بلندکرتے ہوئے پولیس وفورسزکاحصارتوڑنے کی کوشش کی تاہم طرفین ایکدوسرے جاری صفحہ نمبر ۹پر سے اُلجھ پڑے ۔مشتعل طلبائ نے نعرے بازی کرتے ہوئے مولاناآزادروڑ پرآکر آگے جانے کی کوشش کی لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے اُنھیں منتشرکرنے کیلئے پہلے آنسوگیس کے کچھ گولے داغے ۔اس موقعہ ایس پی کالج اورایس پی ہائراسکینڈری کے طلاب سخت مشتعل ہوگئے اورانہوں نے پولیس وفورسزپرسخت سنگباری شروع کردی ،طلاب کی سنگباری کے جواب میں پولیس وفورسزاہلکاروں نے ٹیرگیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ اوررنگدارپانی کاخوب استعمال کیا،جسکے نتیجے میں مولاناآزادروڑسمیت پورے سیول لائنزعلاقہ میں افراتفری اورخوف وہراس کی صورتحال پیداہوئی ۔اس دوران آفتاب کے دو فوٹو گرافر سہیل حمید شالہ اور فیضان الطاف زخمی ہوگئے ،حالات کوبگڑتادیکھ کردکانداروں نے اپنے دکانات کے شٹرگرادئیے اورآناًفاناًلالچوک ،گھنٹہ گھر،کورٹ روڑ،پلیڈیم چوک ،بڈشاہ چوک ،ریگل چوک اورککربازارکے علاوہ ریڈکراس روڑپربھی ہڑتال کاسماں پیداہوگیا۔بتایاجاتاہے کہ ٹیرگیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ اوربھاگم بھاگ کے دوران متعددطلبائ بھی زخمی ہوگئے ۔اسکے کچھ وقت بعدمولاناآزادروڑپرواقع زنانہ کالج میں زیرتعلیم طالبات بھی احتجاج اورنعرے بازی کرتی ہوئیں کالج سے باہرآگئیں ۔عینی شاہدین کے مطابق گرمی کی شدت ،آنسوگیس گولوں کے دُھویں اورخوف وہراس کے عالم میں کئی طالبات سرراہ بے ہوش ہوکرگرپڑیں۔اُدھراسلامیہ کالج واقع حول ،گاندھی کالج واقع باغ دلائورخان ،زنانہ کالج واقع نواکدل ،امرسنگھ کالج اورگرلزہائراسکینڈری اسکول متصل اقبال پارک میں زیرتعلیم طلبائ اور طالبات بھی جلوسوں اورریلیوں کی صورت میں سڑکوں پرنکل آئے ۔آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے سیاہ وسفیدوردیوں میںملبوس طالبات نے کالجوں اورہائراسکینڈریوں سے نکل پُرامن طوراحتجاج کیا۔تاہم اس دوران امرسنگھ کالج واقع گوگجی باغ کے باہرمشتعل طلبائ اورپولیس کے درمیان ٹکرائوکی صورتحال بھی پیداہوئی ۔ شمالی قصبہ بارہمولہ میں ڈگری کالج سے ایک احتجاجی جلوس برآمدہواجس میں سینکڑوں طلبائ شامل تھے ۔کالج سے قصبہ کی جانب نعرے بازی کرتے ہوئے مارچ کررہے ان کالج طلبائ کوخواجہ باغ کے نزدیک ہی پولیس اورفورسزنے روک کرمنتشرکرنے کی کارروائی عمل میں لاکر طلبائ پرٹیرگیس شلنگ کی گئی ،جس دوران کچھ ایک طلبائ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ۔اسی دوران وومنزکالج بارہمولہ میں زیرتعلیم طالبات نے بھی ایک احتجاجی جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم کالج انتظامیہ نے اُنھیں اسے روکنے کیلئے مین گیٹ بندکروادیا۔لیکن اسکے باجودکالج طالبات نے ایک پُرامن احتجاجی جلوس نکال کرمین چوک کے راستے ڈی سی آفس بارہمولہ تک مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن آراینڈبی دفتربارہمولہ کے باہرپولیس نے کچھ آنسوگیس کے گولے داغ کراحتجاجی طالبات کومنتشرکیا۔اُدھرہائراسکینڈری بارہمولہ متصل ڈی سی آفس سے بھی طلبائ نے ایک احتجاجی جلوس نکال کرپلوامہ میں سنیچرکے روزسیکورٹی اہلکاروں کی کارروائی کیخلاف ناراضگی کااظہارکیا۔شمال قصبہ سوپور،پٹن ،ہندوارہ اورکپوارہ میں واقع ڈگری کالجوں اورہائراسکینڈری اسکولوں سے بھی طلبائ اور طالبات نے احتجاجی جلوس برآمدکئے جبکہ اس دوران سوپور،کپوارہ اورہندوارہ میں مشتعل طلاب اورپولیس وفورسزکے درمیان ٹکرائو کے واقعات بھی پیش آئے اوراس دوران سنگباری کے جواب میں آنسوگیس کے گولے بھی داغے گئے۔کئی طلاب کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ اس دوران شمالی ضلع بانڈی پورہ اورسمبل میں بھی کالج اورہائراسکنڈر ی اسکولوں میں زیرتعلیم طلبائ اور طالبات نے سیاہ وسفیدوردیاں زیب تن کئے فورسززیادتیوں کیخلاف اورپلوامہ کے طلبائ طالبات کیساتھ بطوراظہاریکجہتی جلوس نکالے ۔نمائندے بشیر سمبلی کے مطابق جب پولیس اور فورسز نے طلبہ پر لاٹھی چارج کیا اور ٹیر گیس شلنگ کی تو انہوں نے پولیس تھانے پر پتھرائو کیا جس سے کئی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، اُدھر گاندربل اورکنگن میں بھی کالجوں اورہائراسکنیڈری اسکولوں میں زیرتعلیم طلبائ اور طالبات نے بھی احتجاجی جلوس نکالے ۔جنوبی کشمیرکے چاروں اضلاع بشمول اسلام آباد،شوپیاں ،کولگام، پلوامہ، پانپور اوردیگرکچھ مقامات پر واقع ڈگری کالجوں اورکئی ہائراسکینڈری اسکولوں سے بھی ناراض طلبائ اور طالبات نے احتجاجی جلوس اورریلیاں نکالیں ۔تاہم اس دوران کولگام ،شوپیاں ،ترال،پانپور اورپلوامہ میں ناراض طلاب کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزکی جانب سے عمل میں لائی کارروائی پرطلاب مشتعل ہوئے ،اورانہوں نے کئی ایک مقامات پرسنگباری بھی کی ۔سنگباری کررہے طلبائ کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزنے ٹیرگیس شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کاسہارالیا جبکہ اس دوران کچھ مقامات پرکالجوں اوردیگرتعلیمی اداروں کے اندراورباہر بھی ٹیرگیس شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کی گئی ۔طرفین کے مابین ہوئی تصادم آرائی کے دوران 30سے زیادہ طلبائ وطالبات زخمی ہوگئے جبکہ کئی سیکورٹی اہلکاروں کوبھی چوٹیں آئیں ۔اُدھرپولیس حکام نے طلبائ یاطالبات کیخلاف طاقت کے اضافی استعمال کے الزام کومستردکرتے ہوئے واضح کیاکہ امن وقانون کی صورتحال کوقابومیں رکھنے کیلئے پولیس اورفورسزاہلکاروں نے صبروتحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے طاقت کامعمولی استعمال کیا۔ریاستی پولیس کے ترجمان نے پولیس حکام کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ احتجاجی طلبہ کوبیشترمقامات پرپُرامن طورمنتشرہونے پرآمادہ کیاگیاتاہم کچھ ایک مقامات پرپولیس اورفورسزاہلکاروں نے صورتحال کوقابومیں رکھنے کیلئے طاقت کابہت ہی کم استعمال کیا۔ادھرقصبہ ہندوارہ میں اس وقت حالات پرُ تنائو ہوئے جب ہندوارہ کے ڈگری کالج کے طلبا وطالبات نے کالج کا گیٹ توڑ کر ہندوارہ کے مین بازار کیطرف رخ کیا اور جم کرنعرہ بازی شروع کی اگر چہ پولیس نے انہیں بی ایس ایف کے کیمپ کے نزدیک روکنے کی کوشش کی تو طلبا نے سخت احتجاج مظاہرے شروع کئے جس دوران طلبا نے پولیس پر پتھرائو کرنا شروع کردیا ۔تفصیلات کے مطابق پلوامہ ڈگری کالج میں مبینہ طور سیکورٹی فورسز نے داخل ہوکر طلبا وطالبات کے ساتھ گذشتہ روز مارپیٹ وغیرہ کرنے کے معاملے اور واقع کو لیکر ڈگری کالج ہندوارہ میں زیر تعلیم طلبا وطالبات کالج سے قریب بارہ بجے ایک ایک کرکے نکل آئے اور نیو سیٹنڈ اور مین چوک میں جمع ہوئے اور نعرہ بازی کرنے لگے اور میں چوک میں موجود سیکورٹی فوسز کے جوانوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی ۔اس دوران احتجاجی طلاب اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپ ہوئی اور سیکورٹی فورسز نے ان پر لاٹھی چارچ اور ٹیر گیس شلنگ کی اور جلوس کو منتشر کیا بعد ازاں دن کے چار بجے تک احتجاجیوں اور پولیس کے مابین کنہ جنگ کے مناظر دیکھئے گئے ہیں قصبہ ہندوارہ میں اچانک حالات کی تبدیلی سے خوف وہراس کا ماحول پیدا ہوا اور لوگ بھاگم دوڑ میں دیکھے گئے اگرچہ تاحال کسی کے مارے جانے کی اطلاع نہیں ہے تاہم طرفین میں پتھر پھینکے یاکہ کنہ جنگ میں کئی پولیس اہلکاراور متعدد احتجاجی طلاب بھی زخمی ہوئے ہیں اس دوران کئی نوجونوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے بتایا جاتا ہے کہ اپنی نوعیت کا سخت احتجاج قصبہ ہندوارہ میں سال رواں میں پہلی مرتبہ ہوا ہے اور ہندوارہ سیول ایڈ منٹریشن ہندوارہ نے پولیس کے شانہ بشانہ رہ کر حالات کو معمول پر لانے کی ازحد کوشش کی ہے اور سیول ایڈ منسٹریشن ہندوارہ اور پولیس افسران نے ہندوارہ نے حالات کو قابو میں رکھنے اور کسی جانی ومالی نقسان سے بجانے کے لئے ازحد کوشش کی ہے تاہم پتھرائو کے دوران کئی گاڑیوں اور دوکانوں ،مکانات جن خضر محمد چوپان ،محمد سلطان چوپان ،عبدالرحیم چوپان کے علاوہ بائز ہائر سیکنڈری اسکول کو نقصان ہوا ہے ۔ ادھر ٹریڈرس اینڈ منیوفیکچررس فیڈریشن کے صدر بشیراحمد راتھر نے طلبہ پر تشدد کی مذمت کی ۔

تبصرے